دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سیاسی خلا و سیاسی بحران
No image مئی جون میدانی علاقوں میں دن بھر شدید گرمی پڑتی ہے۔ ہوا گرم ہوکر ہلکی ہوتی ہے اور ہلکی گیسیں اوپر کو اٹھتی ہیں۔ وہاں پھر خلا پیدا ہوتا ہے۔ اطراف سے تیز ہوا اس کی جگہ بھرتی ہے۔ اسی لیے ان گرم مہینوں میں آندھیوں کی تعداد زیادہ رہتی ہے۔ مون سون بھی اسی سلسلے کی آخری کڑی ہوتا ہے۔ ہوا گرم ہوکر اوپر نہ اٹھے تو خلا پیدا نہیں ہوتا۔ خلا پیدا نہ ہو تو آندھی نہیں آتی۔
چند ہزار بسنت پر ناچنے والے عوام نہیں ہیں۔ سٹیج پر ناچنے والے اور انکے سامنے نوجوانوں کی ٹولیاں عوام نہیں ہیں۔ وہ آدھی آبادی عوام ہے جو خط غربت سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں۔ جو سات دن مزدوری کرتے ہیں اور پیٹ پالتے ہیں۔ تیل گیس اور بجلی جنکی روٹی چھین رہی ہے۔ عوام وہ مرتی جاتی مڈل کلاس ہے جن کی بنیادی ضروریات زندگی پوری نہیں ہورہیں۔ آدھی آبادی تیس سے کم ہے اور انہیں اندھے کنوئیں میں دھکیلا جاچکا ہے۔ یہ سب عناصر اپنی اپنی ذات میں چھپی آندھیاں ہیں۔
اگر فوج کا خوف اور وحشت انہیں ابھی تک روکے ہوئے ہے، اگر پولیس کا تشدد ابھی تک عوام کو گھروں تک محدود کیے ہوئے ہے ، اگر اتحاد اور نظم کی کمی انہیں روکے ہوئے ہے تو تحریک انصاف کی قیادت کی بے عملی بھی ایک وجہ ہے۔ تحریک انصاف بدستور اس نظام کو کندھا دیے ہوئے ہے اور بغیر کسی قیمت کے یہ خدمات دے رہی ہے۔ اسمبلیوں سے علیحدگی ، میڈیا کا بائیکاٹ وہ خلا پیدا کریں گے جو اس نظام کو مزید کمزور کرے گا اور آندھیاں چلنے کے زیادہ امکانات پیدا ہوں گے۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ اگر تحریک انصاف مفلوج بیٹھی رہی تو کچھ ہوگا نہیں۔ آج ہی کی مثال دیکھیے۔ سہیل آفریدی اڈیالہ جانے سے کترا رہے تھے۔ مہینوں سے نا جاپائے۔ آج جانا پڑا۔ نا تو وہ علیمہ خانم کے کہنے پر گئے ، نا ہی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے۔ سہیل آفریدی بدترین عوامی تنقید کی وجہ سے اڈیالہ گئے۔ اسی طرح تحریک انصاف کے ذمہ داروں کو بھی یہ سب کرنا پڑے گا۔ عوامی غضب کا طوفان اپنا رستہ خود نکالے گا۔ لیکن اسکی قیمت پھر تحریک انصاف کی قیادت ادا کرے گی۔ بالکل ویسے جیسے آج والا سہیل آفریدی وہ نہیں تھا جو چند ماہ پہلے تھا۔ اب طرح طرح کے الزامات ، مذاق اور طعنے سہیل آفریدی کی دُم کیساتھ باندھے جاچکے۔ اب اس کا ہر عمل مشکوک نظروں سے دیکھا جائے گا۔ سہیل آفریدی نے کچھ حاصل کیے بغیر اپنا سیاسی سرمایہ گنوایا اپنی پذیرائی کو گرہن لگایا۔
تحریک انصاف کے ذمہ داران کو سیاسی جمود کو توڑنا ہے۔ اسمبلیوں اور میڈیا کا بائیکاٹ اچھے آپشنز ہیں۔ ان لوگوں کو مزید ایسے آپشنز پر بھی کام کرنا ہے۔ انہیں کوشش کرنی ہے کہ گیسیں گرم ہوکر اوپر کو اٹھیں اور خلا پیدا ہو۔ اس خلا کو آندھیاں بھردیں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے گیسیں گرم ہوکر ذمہ داران کو ہلکا کررہی ہیں۔ یہ اوپر کو اٹھ رہے ہیں اور قیادت کا خلا پیدا ہورہا ہے۔ یہ خلا بھی نئی آندھیاں بھردیں گی۔لیکن اسکی قیمت ان سبھی لوگوں کا سیاسی مستقبل اور سیاسی کیرئیر بھی ادا کردے گا۔ کچھ کرلیجیے۔ کچھ کرگزرنے کی ایکٹنگ ہی کرلیجیے۔
واپس کریں