
آزاد کشمیر کے سب نہیں لیکن اکثریتی سیاستدانوں کا”سیاسی نظریہ“ بہت سادہ اور واضع ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی حکومت بنے، اس کی حمایت و تائید کر دی جائے، جو یقینا افسوسناک ہے۔ چاہے وہ حکومت جنابِ والا کی ہو، خاتونِ والا کی ہو، کسی نئے آنے والے آمر کی ہو یا پھر کسی تبدیلی والے انقلابی کی ہو۔ رہا”اصول“ تو وہ اخے بعد میں دیکھا جائے گا، پہلے اقتدار دیکھنا ضروری ہے۔ اقتدار کے رسیاانہی بے ضمیر،مفاد اور موقع پرست اکثریتی سیاست دانوں میں سے کوئی ایک سیاستدان صبح اٹھتا ہے، خبریں دیکھتا ہے کہ اسلام آباد میں حکومت بدل گئی ہے پھر فوری اپنا بیان یا پریس ریلیز تیار کرتا ہے کہ خدا کا شکر ہے، آخر کار عوام کی مرضی غالب آگئی اور پاکستان و کشمیر کو ایک سچا لیڈر ملا۔ ہم اس کے ساتھ ہیں، اس کے غلام ہیں بلکہ اس کے جوتے چاٹنے کو بھی تیار ہیں نیز نئی عوامی حکومت پاکستان اور کشمیر کا بہترین مفاد جانتی ہے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں، ساتھ رہیں گے اور ان ہی کے ساتھ مریں گے۔ بیان یا پریس ریلیز میں پرانے حکمران کو گالیاں دی جاتی ہیں جنہیں کل تک چاٹا جاتا تھا۔ یعنی کل تک جسے گالیاں دے رہے تھے، غدار،دہشت گرد اور بھارتی ایجنٹ کہہ رہے تھے، آج اسی کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئے اور اصول، وہ تو کب کے بیچ دیے اور ضمیر وہ تو پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔(دوبارہ عرض کیئے دیتا ہوں کہ یہاں سب کی نہیں بلکہ اکثریتی سیاسی لیڈروں کی بات ہو رہی ہے اور ایسے اکثریتی لیڈر ہر جگہ پائے جاتے ہیں، پاکستان میں بھی)
باقی جہاں تک کشمیر کی آزادی ہے وہ بعد کی بات ہے۔ پہلے ان ضمیر فروشوں کو وزارتِ عظمیٰ، مشیر کی سیٹ، چیئرمین شپ، ایم ڈی شپ، کروڑوں روپے کے ٹھیکے یا پروجیکٹس یا اولاد میں سے کسی اعلی عہدہ حکومتی عہدہ مل جائے اوراگرلوگ کہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کا کیا حل کیاہے تو کہتے ہیں مسئلہ تو حل ہو چکا کیونکہ اسلام آباد میں ہمارا بندہ بیٹھا ہوا ہے باقی تو سب اپوزیشن کا پراپوگنڈہ ہے۔
ایک بار کسی صحافی نے اسی طرح کے کسی فصلی بٹیرے سیاست دان سے پوچھا کہ آپ تو پانچ سال پہلے مخالف پارٹی کے خلاف زہر اگل رہے تھے، اب انہی کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں تو وہ بے شرم کمینی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، سیاست میں اصول ہوتے تو اقتدار کہاں سے ملتا ہم تو لچکدار سیاستدان ہیں، ہماری زبان اور کمر خود بخود موڑ جاتی ہے۔ جیسے بادشاہ بدلے، ویسے ہم بھی بدل جاتے ہیں۔
یہ ہیں آزاد کشمیر کے اکثریتی”اصولی لیڈران“ جو نہ تو خود آزاد ہیں اور نہ اپنے کشمیری عوام کے وفادار، صرف اقتدار کے غلام ہیں۔اسلام آباد کی ہر حکومت مفاد پرستوں کے لیے عوامی مرضی بن جاتی ہے، اور ہر مخالف حکومت بھارتی سازش۔
آزاد کشمیر کے عوام سڑکوں دوبارہ سے احتجاج کرنے کو تیار ہیں، بجلی، پانی، نوکریاں نہیں، مگر یہ مفاد پرست سیاسی لیڈر اسلام آباد کے دروازوں پر قطار لگائے گھٹنے ٹیک کر بیٹھے ہیں۔ انہی مفاد پرست اور بے ضمیر سیاست دانوں کے لیئے کسی نے خوب کہا کہ”یہ سیاست نہیں، یہ تو طوائف کا رقص ہے، جو سب سے زیادہ پیسہ دے، اس کے سامنے ناچو“
ایک صحافی نے ایسے ہی کسی بے ضمیر سیاسی لیڈر سے پوچھا،آپ تو چھ بار پارٹی بدل چکے ہیں، شرم نہیں آتی؟مسکراتے ہوئے جواب دیا گیا کہ ”شرم تو غریب اور عزت دار لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ ہم تو سیاسی طوائفیں ہیں۔ جو سب سے زیادہ پیسہ اور اقتدار دے، اس کے سامنے ننگا ناچتے ہیں“یعنی اسلام آباد میں جس سیاسی پارٹی کی حکومت اقتدار میں نظر آئے، فوراً اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ کشمیر کا درد تو صرف ووٹ کا زریعہ ہے، جب اقتدار مل جائے تو وہ درد بھی بیچ دیا جاتا ہے کیونکہ ضمیر فروش ہر نئی حکومت کے کنڈوم ہوتے ہیں۔(معذرت کے ساتھ)
باقی رہی شرم تو وہ عزت والوں کے پاس ہوتی ہے۔ بغیر کسی سیاسی نظرے کے گھومنے والے یہ مفاد پرست تو وہ سیاسی رنڈیاں ہیں جو انہیں اقتدار دے، اس کے سامنے شلوار ٹانگ کر ننگے ہو کر ناچتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے سب نہیں لیکن اقتدار کے بھوکے اکثریتی روایتی اور موقع پرست سیاستدان۔
آخر میں آذاد جموں وکشمیر کے باشعور اور نوجوان ووٹران سے عرض ہے، اپنے قیمتی ووٹ کو بانی صدرِ یاست، کے ایچ خورشید کی ”جموں کشمیر لیبریشن لیگ“ جیسی ریاستی سیاسی جماعت کے حق میں استعمال کر کے ریاست کے ذمہ دار اور سنجیدہ شہری ہونے کا ثبوت دیں۔جے کے ایل ایل کی قیادت آج بھی پارٹی مرکزی کے سیکرٹری جنرل خلیق الرحمان سیفی ایڈووکیٹ جیسے نوجوان اور اعلی تعلیم یافتہ سیاسی کارکنوں کے ہاتھوں میں ہے۔
آمدہ الیکشن میں آپ کے انخابی امیدوار کے جیتنے یا ہارنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ نے کس قدر دیانت داری سے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے کیونکہ آپ کے اس ووٹ کا حساب آپ کی آنے والی نسلیں آپ سے ضرور لیں گی،نسلوں کا مستقبل آپ کے آج کے ووٹ سے وابسطہ ہو گا۔
واپس کریں