دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکا ایران کشیدگی بین الاقوامی برادری کا کڑا امتحان
No image عین اس وقت جب دنیا یہ توقع کر رہی تھی کہ امریکا اور ایران کے مابین معاملات مذاکرات سے آگے بڑھ کر معاہدے کی راہ ہموار کریں گے فریقین کے مابین کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں سخت وارننگ دے کر امریکی جنگی جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز پر دو میزائل داغے گئے، امریکی جہاز نے وارننگ کو نظر انداز کیا۔ ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج کے میجر جنرل علی نے کہا ہے کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا چاہیے جبکہ ترجمان ایرانی افواج نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو مکمل طور پر سنبھالے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں نیویگیشن ایرانی مسلح افواج سے رابطے میں رہ کر کی جائے۔
دوسری جانب، امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افوا ج اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کررہی ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کی آمدورفت کو آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔ بیان میں سینٹ کام نے بتایا کہ اس مشن کے تحت 15 ہزار اہلکار، گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور 100 سے زائد طیارے تعینات کیے جا رہے ہیں۔سینٹ کام نے ایرانی میڈیا کے آبنائے ہرمز میں امریکی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ کے کسی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس حوالے سے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران نے پراجیکٹ فریڈم کے تحت امریکی جہازوں پر حملے کیے تو اسے دنیا کے نقشے سے مٹا دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران نے مذاکرات میں کافی لچک کا مظاہرہ کیا۔ خطے میں ہماری فوجی تیاریاں جاری ہیں۔ ہمارے پاس اعلیٰ معیار کے ہتھیار، گولہ بارود اور سازو سامان موجود ہے۔
ادھر، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کے لیے اپنے مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی حالیہ صورتحال امریکا کی ایران کے خلاف جارحیت کا نتیجہ ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے سست سفارتی کوششوں کا ذمہ دار امریکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل گروسی ہمارے خلاف غلط الزامات دہرا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے بھیجی گئی نئی تجویز زیرِ غور ہے، تاہم اس پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی پیغام پاکستان کے ذریعے موصول ہوا ہے۔ اس وقت اس تجویز کی تفصیلات پر بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ معاملہ ابھی جائزے کے مرحلے میں ہے۔ امریکا کی جانب سے اکثر غیر معمولی اور غیر معقول مطالبات سامنے آتے ہیں اس لیے اس تجویز کا جائزہ لینا بھی آسان نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق، ایران کی طرف سے چار کروز میزائل داغے گئے جن میں سے تین تباہ کر دیے گئے جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔ ڈرون حملے سے فجیرہ آئل تنصیبات میں آگ لگ گئی جس پر کئی گھنٹے بعد آتشزدگی پر قابو پا لیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور آبنائے ہرمز کو معاشی دباؤ یا بلیک میلنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قزاقی کے مترادف ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے اس حملے کی تردید کی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت امریکا ایران کشیدگی کا اہم پوائنٹ ہونے کے علاوہ پوری دنیا کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بندش کے فوری بعد تیل اور گیس کی برآمدات رک گئیں جس سے برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ کویت، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی تیل پیداوار، ایک اندازے کے مطابق، 10 مارچ تک 72 لاکھ بیرل یومیہ کم ہو گئی اور 21 مارچ تک یہ کمی ایک کروڑ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی جی ڈی پی میں اربوں ڈالر یومیہ کا نقصان ہورہا ہے اور اب تک یہ نقصان کئی ٹریلین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ امریکا اور ایران دونوں اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں ان کی کشیدگی کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔
یورپ جو پہلے ہی یوکرین جنگ کے بعد سے توانائی کے بحران کا شکار تھا اب ایک نئے مسئلے کا شکار ہو رہا ہے کیونکہ اسے آبنائے ہرمز کے علاوہ قطری مائع قدرتی گیس کی بندش سے بھی ایک اور بحران کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ ایشیا کا حال اس سے بھی برا ہے کیونکہ خلیجی خطے سے نکلنے والے تیل کا تقریباً 80 فیصد ایشیا کو جاتا ہے۔ ایشیائی ممالک جو تیل اور گیس کی صورت میں اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے پورا کرتے ہیں اب متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں جو مہنگے بھی ہیں اور ناکافی بھی۔ ایران خود بھی اس آگ سے محفوظ نہیں رہا۔ ایران کی اپنی معیشت پہلے سے ہی انتہائی نازک حالت میں تھی، آبنائے ہرمز کی بندش سے اس کے لیے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
امریکا ایران کشیدگی کے باعث ترقی پذیر ممالک کے لیے مالیاتی نتائج انتہائی سنگین ہیں جن میں سٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ، کرنسیوں کی قدر میں کمی اور بیرونی قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت شامل ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی بات کی جائے تو وہ اس بحران میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، درآمدی بل میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کی صورت میں ناقابلِ برداشت بوجھ اٹھا رہا ہے۔ اس سب کی وجہ سے پوری دنیا اس وقت خواہش کر رہی ہے کہ فریقین آپس میں مذاکرات اور معاہدہ کریں تاکہ صورتحال مثبت طور پر تبدیل ہو سکے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، چینی صدر کا سفارتی دباؤ اور یورپی ممالک کی کوششیں اس بات کی گواہی ہیں کہ دنیا یہ تماشا بند کرانے کے لیے بے چین ہے لیکن جب تک واشنگٹن اور تہران میں بیٹھے فیصلہ سازوں کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ اپنے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں تب تک یہ سب مساعی اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ موجودہ صورتحال پوری بین الاقوامی برادری کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں