دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خلیجی جنگ سے بڑھتی مہنگائی پر آئی ایم ایف کی تشویش
No image اگرچہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی پر عملدرامد جاری ہے تاہم دونوں ممالک کے مابین انتہاء کو پہنچی کشیدگی اورلفظی جنگ کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی حکمتِ عملی نے پوری دنیا کو ایک انجانے خوف میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ صورت حال دنیا کی بقا کے لیئے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے جس پر عالمی قیادتوں، مذہبی پیشواؤں ، ادارہ جاتی قیادتوں اور مفکرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کو عقل و خرد کا دامن تھامنے کے مشورے دیئے جارہے ہیں۔ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو اس تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے پیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس ٹرمپ کی جنگی جنونیت کو عالمی امن کے لیئے خطرہ قرار دے چکے ہیں اور خلیجی جنگ مستقل رکوانے کی پاکستان کی کوششوں کی تائید کر چکے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ جے محمد بھی یہ کہہ کر خلیجی جنگ کے تناظر میں عالمی قیادتوں کو جھنجھوڑ چکی ہیں کہ دنیا پر درندوں نے قبضہ کر لیا ہے اور انسانوں نے انسانیت کھو دی ہے۔ اس جنگ کے عالمی ایٹمی جنگ بننے کی صورت میں تو پورے کرہ ارض پر ہر ذی روح کی فنا نوشتہ دیوار نظر آرہی ہے جبکہ اس جنگ کی بنیاد پر آج عالمی معیشتوں کو جس کسّاد بازاری، پھلتے پھولتے مہنگائی کے عفریتوں اور قحط سالی کا سامنا ہے، اگر دنیا ایٹمی جنگ والی تباہ کاریوں سے بچ بھی گئی تو بھی بدترین مہنگائی، وسائل کی کمیابی اور قحط کی لپیٹ میں آکر انسانی بقا کے خاتمہ کا نقارہ بجا دے گی۔ بے شک ایران کی جانب سے امریکہ کو پاکستان کی وساطت سے جنگ بندی کی تجاویز بار بار بھیجی جا رہی ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ ایران کی ہر تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر رہے ہیں اور انہوں نے گذشتہ روز ایران کی بھجوائی نئی تجاویز بھی مسترد کر دی ہیں جس پر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنہ ای کا یہ ردعمل سامنے آیا ہے کہ ہم نے دشمنوں پر اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ چنانچہ اس فضا میں بڑھتی کشیدگی دوبارہ جنگ کی نوبت بھی لا سکتی ہے جبکہ انسانیت کی بقا کا دارومدار موجودہ غیریقینی کی فضا کے چھٹنے پر ہے۔ اسی تناظر میں گذشتہ روز آئی ایم ایف کی ماہر اقتصادیات ڈاکٹر ماہیر نے ایس ڈی پی آئی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی زد میں آکر اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو پائیں گے۔ ان کے بقول خلیجی جنگ نے پاکستان اور دوسرے ترقی پذیر ممالک کو سخت اور ہمہ جہت معاشی جھٹکا دیا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان جیسے ممالک کے لیئے سنگین خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔
یہ امر واقع ہے کہ پاکستان میں حکومتی گورننس کی کمزوریوں کے باعث مہنگائی کا عفریت بے قابو ہی رہتا ہے اور علاقائی و عالمی سطح پر پیدا ہوتی کوئی ہلکی سی ناآسودگی بھی ہمارے مافیاز کے لیئے مہنگائی کے طوفان اٹھانے کے جواز نکال دیتی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا گراف خلیجی جنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے ممالک سے بھی زیادہ جستیں بھرتا نظر آیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بھی پٹرولیم نرخوں میں ہر ہفتے ڈیڑھ ہفتے بعد اضافہ کرکے ناجائز منافع خور طبقات کو عوام کی لوٹ مار کرنے کے نادر مواقع فراہم کیٰے گئے ہیں۔ پاکستان میں تیزی کے ساتھ بڑھتی مہنگائی کا وفاقی ادارہ شماریات کی رواں ہفتے کی رپورٹ سے بھی بجوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق مہنگائی گذشتہ 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ 20 کلو آٹے کا تھیلا اسی عرصے کے دوران 240 روپے مہنگا ہوا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے 30 فیصد بڑھے ہیں، گھروں کے کرائے اور بجلی پانی گیس کے بل 17 فیصد تک بڑھ گئے ہیں جبکہ کھانے پینے کی اشیاء کے نرخوں میں دس سے بیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان کے محدود وسائل والے اور بے روز گار طبقات کے لیئے تو تنفس کا سلسلہ برقرار رکھنا بھی دشوار ہو چکا ہے اور خلیجی جنگ کے شعلوں کی تپش ہزاروں میل دور بیٹھے عام انسانوں کے چولہوں تک آ پہنچی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان لفظی محاذ آرائی، اور جنگ بندی کے باوجود غیر یقینی کی فضا نے بلا شک و شبہ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کے اثرات سب سے زیادہ اُن ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں جو پہلے ہی معاشی دباؤ، قرضوں، مہنگائی اور درآمدی انحصار کا شکار ہیں۔ پاکستان کا شمار بھی انہی ممالک میں ہوتا ہے چنانچہ ڈاکٹر ماہیر نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت تو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے جہاں زرِ مبادلہ کے ذخائر محدود ہیں، صنعتی پیداوار سست رفتار ہےاور بے روزگاری میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔۔ ایسے میں اگر عالمی سطح پر تیل، گیس، گندم اور دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی ہوں تو پاکستان جیسے درآمدی معیشت کے حامل ملک کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں حالیہ مہنگائی کے اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو واضح کررہے ہیں۔
یہاں یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ صرف منڈیوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے۔ غیر یقینی حالات میں بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے، مقامی کاروبار سست پڑ جاتے ہیں، روپے پر دباؤ بڑھتا ہے اور مالیاتی منڈیاں بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشی استحکام کے لیے بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات نہایت اہم ہیں، عالمی کشیدگی کا تسلسل تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔اس تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سست روی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست مسئلے کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، مگر جب تک اعتماد سازی، سنجیدہ سفارت کاری اور مستقل امن کا راستہ اختیار نہیں کیا جاتا، تب تک دنیا غیر یقینی کے سائے سے باہر نہیں نکل سکتی۔ پاکستان پر تو اس صورتحال میں دہری ذمہ داری آن پڑی ہے۔ ایک طرف حکومت کو عالمی سطح پر امن کے لیے سفارتی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنا ہے جو وہ خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کر بھی رہی ہے، اور دوسری جانب داخلی سطح پر مہنگائی کے طوفان سے عوام کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانا ہیں۔ اس صورت حال میں دنیا کے طاقتور ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں۔ اس سے صرف تباہی، بھوک، مہنگائی اور بے یقینی جنم لیتی ہے۔ اگر خلیجی خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات پاکستان سمیت درجنوں ترقی پذیر ممالک میں مزید غربت، بے روزگاری اور سماجی اضطراب کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ جنگ کے فریقین کو بہر صورت ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، انا کی سیاست ترک کرنا ہوگی اور امن کی جانب واپس لوٹنا ہوگا۔پاکستان کے عوام تو پہلے ہی مہنگائی کے عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اگر عالمی جنگی ماحول برقرار رہا تو یہ عذاب مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اس لیئے وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا امن کا راستہ اختیار کرے۔ حکومت پاکستان کو توعوام کے لیئے معاشی ریلیف کے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اگر انہیں مہنگائی کے دلدل کی جانب مسلسل دھکیلا جاتا رہا تو ان کی جانب سے تنگ آمد بجنگ آمد والا ردعمل ہی آئے گا۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں