
امریکہ ایران جنگ تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگرچہ متحارب فریقین میں عملی جنگ بندی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم مئی کو امریکی کانگرس کو لکھے گئے خط میں 28 فروری کو شروع ہونے والا تنازع ختم ہونے کا مژدہ سنا چکے ہیں مگر عملی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ امریکہ اور ایران میں جنگ بندی اپنی جگہ مگر آبنائے ہرمز اس جنگ بندی کے عملی فوائد سے بدستور محروم ہے۔ رکاوٹیں اسی طرح ہیں‘ بلکہ پہلے سے بڑھ کر‘ نتیجتاً توانائی کی قیمتوں پر جنگ بندی کے متوقع مثبت اثرات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تیل کی عالمی منڈی میں قیمت آج بھی 108 ڈالر سے زائد ہے‘ گیس کے نرخ بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 60 فیصد بڑھ چکے ہیں اور ترسیل کے مسائل اپنی جگہ ہیں؛ چنانچہ جنگ بندی نے متحارب فریقین کو مہینہ بھر کی گھمسان کی لڑائی کے بعد عارضی وقفہ تو فراہم کر دیا ہے مگر امن کی جانب پیش رفت کی سست روی سے دنیا اس جنگ کے منفی اثرات‘ خاص طور پر معاشی اثرات کو اب بھی اسی شدت سے بھگت رہی ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان کی کوششوں سے امریکہ ایران مذاکرات کی پیش رفت ہوئی اور اسلام آباد میں 11اپریل کو دونوں ملکوں کے براہِ راست مذاکرات سے پائیدار امن کی جانب بڑھنے کا امکان نظر آیا تاہم اس کے بعد کے تین ہفتوں میں فریقین میں پس وپیش جاری ہے۔
اس دوران جنگ بندی میں توسیع ہو جانا ایک بڑی پیش رفت ہے لیکن بحری تجارت کے لیے مشکلات اب بھی اسی طرح ہیں۔ پاکستان کے ذریعے امریکہ ایران تجاویز کا تبادلہ جاری ہے مگر فریقین ابھی تک اس نکتے تک پہنچنے میں کامیاب نظر نہیں آتے جہاں دونوں میں نتیجہ خیز بات چیت کی ابتدا ہو سکے۔ ایران نے امریکہ کو بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اور جوہری معاملات پر بات چیت کو دوسرے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی تھی مگر ایران کی ان تجاویز کو امریکہ کی جانب سے قبولیت نہیں مل سکی‘ بلکہ امریکہ میں اسے بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی کی کامیابی کا نتیجہ سمجھا گیا۔ اب امریکی ذرائع ابلاغ میں ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں ایران ناکہ بندی کے فوری خاتمے کی تجویز سے بھی دستبردار ہو گیا ہے۔ بظاہر یہ لچک تنازعے کے پائیدار حل کی جانب پیش رفت کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتی ہے لیکن باہمی اعتماد کا بحران اس سلسلے میں فریقین کے لیے اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
دونوں دھڑے اس جنگ سے فاتحانہ نکلنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ فریق ثانی زبانِ حال میں اس کی برتری کا اعتراف کرے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا سلسلہ اس خواہش کا آئینہ دار ہے‘ دوسری جانب ایرانی بھی جو بات حکومتی مذاکراتی نمائندگان کے منہ سے نہیں کہلوانا چاہتے وہ پاسدارانِ انقلاب کے جنگجوؤں سے کہلوا لیتے ہیں۔ اس سینگ پھنساؤ پالیسی کا نتیجہ امریکہ اور ایران کے لیے جو کچھ بھی ہو مگر باقی دنیا کے لیے کافی مہنگا سودا بن چکا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے یقینی کی وجہ سے عالمی معیشت سخت دباؤ میں ہے۔ ملکِ عزیز کی مثال سامنے ہے جہاں پٹرولیم کی قیمتیں عوامی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی معاشی حالات اور احساسات تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایسے ہی ہیں اور مغرب میں بھی؛ چنانچہ ایران امریکہ تنازعے کا فی الفور حل عالمی مفاد کا تقاضا بن چکا ہے۔ جنگ بندی کا وقفہ غنیمت ہے مگر کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے جلد از جلد فریقین اس بحران کو سمیٹیں تا کہ عالمی معیشت کی جان میں جان آئے۔
واپس کریں