دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلامی نظریاتی کونسل اور انفرادی مقدمات
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان کا آئینی نظام ایک واضح اصولِ تقسیمِ اختیارات پر قائم ہے، جس کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنے اپنے متعین دائرہ ہائے اختیار کے اندر رہتے ہوئے فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں آئینِ پاکستان نے بعض مشاورتی اور معاون ادارے بھی قائم کیے ہیں، جن کا بنیادی مقصد قانون سازی کے عمل کو نظریاتی اور اصولی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی انہی آئینی اداروں میں سے ایک ہے۔ تاہم کچھ عرصہ قبل اسلامی نظریاتی کونسل کے اقدام نے نئی آئینی و قانونی بحث کو جنم دیا۔اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا پر معروف انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔اسلامی کونسل کی جانب سے فرد واحد کے مقدمہ میں رائے نے یہ اہم سوال زندہ کر دیا ہے کہ آیا کونسل کو کسی انفرادی یا فوجداری مقدمے میں مداخلت یا رائے دینے کا کوئی آئینی اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ اس سوال کا درست اور اصولی جواب آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 228 تا 231 میں موجود ہے، جہاں کونسل کی تشکیل، ساخت اور افعال کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 228 کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے، جسے صدرِ مملکت تشکیل دیتے ہیں، اور اس کے اراکین ایسے افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات، فقہی اصولوں، آئینی و قانونی اور ریاستی معاملات کی گہری سمجھ رکھتے ہوں۔
تاہم اصل قانونی و آئینی بحث آرٹیکل 229 اور 230 کی تشریح سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 229 کے تحت صدرِ مملکت، گورنر، پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی یہ اختیار رکھتے ہیں کہ وہ کسی مجوزہ قانون کے بارے میں کونسل سے یہ رائے طلب کریں کہ آیا وہ اسلامی احکامات سے متصادم ہے یا نہیں۔ اسی طرح آرٹیکل 230 کونسل کے فرائض کو واضح کرتے ہوئے اسے ایک خالصتاً مشاورتی ادارہ قرار دیتا ہے، جو قانون سازی کے عمل میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، نہ کہ کوئی عدالتی یا نیم عدالتی اختیار رکھتا ہے۔ یہ امر نہایت اہم ہے کہ آئین میں کہیں بھی اسلامی نظریاتی کونسل کو حقائق کی تحقیق کرنے والا ادارہ یا مقدمات کا فیصلہ یا رائے فراہم کرنے والا فورم قرار نہیں دیا گیا۔ چنانچہ کسی انفرادی مقدمے، خصوصاً فوجداری نوعیت کے مقدمات میں، کونسل کی مداخلت نہ صرف آئینی دائرہ کار سے تجاوز ہے بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اسی آئینی مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کو کسی فرد کے خلاف زیرِ سماعت فوجداری مقدمے میں رائے دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ عدالتِ عالیہ نے قرار دیا کہ آرٹیکل 229 اور 230 کی ایسی تشریح نہیں کی جا سکتی جو کونسل کو انفرادی معاملات میں مداخلت کی اجازت دے، کیونکہ ایسا کرنا اس کے آئینی دائرہ اختیار میں غیر قانونی توسیع کے مترادف ہوگا۔ اسی طرح عدالت نے این سی سی آئی اے کاانجنئیرمحمد علی مزرا کے توہین رسالت مقدمے میں اسلامی کونسل سے رائے مانگنا غیرقانونی قرار دیا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ اسلامی کونسل نہ تو کوئی تحقیقاتی ادارہ ہے اور نہ ہی اسے کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیار صرف مجاز عدالتوں کے پاس ہے، جو شواہد، گواہی اور قانون کی روشنی میں فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ کسی غیر عدالتی ادارے کی رائے اس عمل میں مداخلت تصور کی جائے گی اور انصاف کے تقاضوں کو متاثر کرے گی۔ مزید برآں عدالت نے آئین کے آرٹیکل 10-اے، جو منصفانہ ٹرائل کے حق کی ضمانت دیتا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ کسی انفرادی مقدمے میں کونسل کی رائے دینا ملزم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسی رائے مقدمے پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور عدالتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے، جو کہ انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
فوجداری قانون کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کا جرم عدالت کے ذریعے ثابت نہ ہو جائے۔ اگرعدالت کے علاوہ کسی آئینی ادارے کی جانب سے مقدمے کے دوران کوئی رائے دی جائے تو یہ اصول متاثر ہو سکتا ہے، جو کہ آئینی ضمانتوں کے منافی ہے۔ معاشرتی سطح پر اختلافِ رائے ایک فطری اور صحت مند عمل ہے۔ مختلف شخصیات کے بیانات پر تنقید یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ انجینئر محمد علی مرزا کے معاملے میں دیکھا گیا۔ تاہم کسی آئینی ادارے کا اس نوعیت کے معاملات میں فریق بننا ادارہ جاتی غیر جانبداری کو متاثر کرتا ہے اور ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایک اہم عدالتی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، جو مستقبل میں اس نوعیت کے معاملات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ یہ فیصلہ اس اصول کو مستحکم کرتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار محض مشاورتی ہے اور اسے انفرادی یا عدالتی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔
واپس کریں