ایران نے شرائط نرم کر دیں، پاکستان میں مذاکرات پر تیار

امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے شرائط نرم کر دی ہیں۔ ایران نئی تجاویز میں ناکہ بندی کے فوری خاتمے سے بھی دستبردار ہو گیا ہے۔ ایران امریکا کی رضامندی پر آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کرنے پر بھی آمادہ ہے۔ پاکستان نے ایک طویل عرصے بعد فریقین کو براہِ راست ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر بٹھایا تھا۔ گو کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا، مگر انھیں ناکامی سے تعبیر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد براہِ راست مذاکرات کا ایک اور دور اسلام آباد میں ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی جو بوجوہ نہ ہو سکا، مگر بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا جس کی تصدیق صدر ٹرمپ کی طرف سے بھی کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں 11 اپریل کو ہونے والے مذاکرات میں کئی معاملات طے پا گئے تھے جبکہ کئی پر اختلافات باقی تھے۔ انھی معاملات پر پاکستان کے توسط سے فریقین اپنا نقطۂ نظر ایک دوسرے کے سامنے رکھتے رہے۔ پاکستان کی درخواست پر امریکا نے جنگ بندی کا اعلان کیا جس سے ایران نے بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ فریقین جنگ بندی پر تیار ہو گئے ہیں اور یہ جنگ بندی لبنان سمیت ہر اس جگہ ہوگی جہاں جنگ جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اس بیان کی صدر ٹرمپ نے بھی توثیق کی۔ اس کے باوجود لبنان پر اسرائیل کے حملے نہ صرف جاری رہے بلکہ ان میں شدت بھی آ گئی۔ ایک ہی دن میں 256 افراد لبنان میں بمباری کے نتیجے میں شہید اور 500 زخمی ہوئے۔ اس پر ایران نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی ختم کرنے کی دھمکی دی۔ اسرائیل اور صدر ٹرمپ کی طرف سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ لبنان میں سیز فائر اس معاہدے کا حصہ نہیں جس کے تحت جنگ بندی ہوئی ہے، تاہم بعد ازاں ٹرمپ کی طرف سے لبنان اور اسرائیل کے مابین بھی سیز فائر کرا دیا گیا جس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان-اسرائیل سیز فائر کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا جس کی صدر ٹرمپ کی طرف سے تحسین کی گئی اور ایران کے اس اقدام کو سراہا گیا۔ پوری دنیا میں اس پیش رفت کو بڑے مثبت انداز میں لیا گیا جس سے امن کے راستے کھلتے نظر آ رہے تھے۔ صدر ٹرمپ ایک طرف تو اس اقدام کی تعریف کرتے ہیں اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بدستور بلاک رکھنے کا بھی اعلان کر دیتے ہیں جس سے عالمی سطح پر مایوسی پائی گئی۔ ایران کی طرف سے جیسے ہی آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان ہوا، امریکا بھی اس کا محاصرہ اٹھا لیتا تو امن کی طرف واضح پیش رفت ہو سکتی تھی۔ فریقین ایک دوسرے پر اعتماد کرتے نظر نہیں آ رہے۔ صدر ٹرمپ اس تنازع پر جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے بعض اوقات غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایران کی جانب سے جس طرح اپنے موقف میں مبینہ طور پر اب نرمی لائی گئی ہے، امریکا کی طرف سے اس پر مثبت پیش رفت کی توقع تھی، مگر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ امریکی بحریہ قزاقوں جیسا کردار ادا کر رہی ہے، جہاز، سامان اور تیل قبضے میں لے لیا گیا ہے اور یہ منافع بخش ہے۔ ہم قزاقوں جیسے ہیں، مگر کھیل نہیں رہے۔ ایسے بیانات ان کی غیر سنجیدگی کا مظہر ہیں۔ دوسرے ہی سانس میں ان کی طرف سے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں تیل سے بھرے 400 جہاز کھڑے ہیں۔ اگر یہ جہاز نکل آئیں تو ایندھن کی قیمتیں بہت کم ہو جائیں گی۔ یہ بات انھوں نے درست کہی ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہے۔ ایران سے زیادہ معاملات امریکا کے ہاتھ میں ہیں۔ پاکستان پہلے بھی مذاکرات میں اپنا کردار ادا کر چکا ہے اور امن عمل میں اس کی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ اگلے ہفتے یا جب بھی فریقین مذاکرات پر آمادہ ہوتے ہیں پاکستان ایک مرتبہ پھر ان کی سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی کوششیں تبھی بارآور ہو سکتی ہیں جب فریقین سنجیدہ ہوں اور اعتماد سازی کے اقدامات بھی کریں
واپس کریں