دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جمہوریت کے دعوے اور دفاعی معاہدے۔احتشام الحق شامی
No image آذادی،فسلطینیوں کا خواب یا وہم۔ اسرائیل کی جانب سے F-35 اور F-15IA لڑاکا طیاروں کے اربوں ڈالر کے حصول کی منظوری کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حق میں احتجاج اور ریلیوں پر پابندی کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم کا حالیہ عندیہ مغربی سفارت کاری میں ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ایک جمہوری حکومت عوامی اجتماع پر پابندی لگانا اپنا حق سمجھتی ہے اور دوسری طرف یہی جمہوری حکومت اسرائیل کے لیئے فضائی ہتھیاروں کی سپلائی کو بڑھا رہی ہے۔ ایک ساتھ، یہ”پیش رفت“ احتجاج کے جمہوری حق پر فوجی اضافہ کی ترجیح کو واضح کرتی ہے۔
وہ جمہوری اور مہذب ممالک جو طویل عرصے سے آزادی اظہار کے چیمپیئن اور انسان دوست ہونے کا مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں، ان کا نقاب اب پھسل رہا ہے۔ برطانیہ کی یہ تجویز کہ فلسطینی حامی مارچ اور بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے،برطانیہ کی آزادی اور جمہوریت کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔
جب عوامی احتجاج کے حق کو سلب کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں توآزاد معاشرہ ہونے کا دعویٰ مارکیٹنگ کا کھوکھلا نعرہ بن جاتا ہے۔
برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو جدید لڑکا طیاروں کی سپلائی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ فلسطین کی تباہی رکے گی نہیں۔ شہری آزادیوں کے تحفظ پر ہتھیاروں کی فروخت کو ترجیح دے کر، صرف مغربی حکمت عملی کی حمایت نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ اسرائیلی جنگ کی توسیع میں سہولت فراہم کر رہا ہے اور دنیا ایک ایسی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے جہاں احتجاجی مظاہروں کے حق کو انتظامی طور پر دیکھا جاتا ہے۔
واپس کریں