
پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں کشمیر کے عام انتخابات پر تقریباً 20 ارب روپے سے زائد اور گلگت بلتستان اسمبلی الیکشن کا خرچہ تقریباً ایک ارب روپے سے زائد آتا ہے،اس میں سیکورٹی کے اخراجات الگ ہیں جو کروڑوں میں ہیں اور یہ ایک دن کا سرکاری شو(الیکشن ڈے) ہوتا ہے جس میں عوام الناس بظاہر اپنے”نمائندگان“ منتخب کرتے ہیں۔
ناچیز جمہوریت پر پختہ یقین ہی نہیں رکھتا بلکہ اسے اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے، اس لیئے الیکشن پراسس یا اس پر اٹھنے والے اخراجات پر بھی قطعی اعتراض نہیں لیکن جو ایک عام تاثر ہے، اس کا کیا کیا جائے کہ روایت ہے، تاریخ ہے اور بار بار دیکھنے میں بھی آتا ہے کہ وفاق یعنی اسلام آباد میں جس بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو گی،مذکورہ دونوں خطوں میں بھی اسی سیاسی پارٹی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔گویا پھر ایسے الیکشن کروانے کا تکلف کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے کہ جب پک اینڈ چوز کی روایت پہلے سے رائج ہے۔
مذکورہ دونوں حساس خطوں میں عام انتخابات کی آمد آمد ہے، سیاسی پرندے اپنے گھونسلے تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، سیاسی نظریات کوڑے دانوں میں پھینک کر ہواوں کا رخ دیکھ کر”سیاسی وفاداریاں“راتوں رات تبدیل ہو رہی ہیں۔اسی لیئے کہ عام عوام میں اب پھر وہی تاثر پایا جاتا ہے کہ چونکہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہے اس لیئے وہاں یعنی آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ن لیگ کی ہی حکومت بننے کا قوی امکان ہے۔
”کنٹرولڈ میڈیا“ کے زیر اثر”کنٹرولڈ الیکشن“ کا نام جمہوریت نہیں،اس سے تو بہت بہتر ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ میں ایک آئینی ترمیم کے زریعے ایسا بندوبست کر دیا جائے کہ ؎جس سیاسی پارٹی کی وفاق میں حکومت ہو، اسے یہ خصوصی اختیار دے دیا جائے کہ وہ مذکورہ خطوں میں اپنی مرضی کے نمائندے یا حکومت مقرر کر دے،باالفاظِ دیگر الیکشن نہیں فقط سلیکشن۔ روایت اور حقائق کے اسی تناظر میں باشندگانِ ریاستِ آذاد جموں کشمیر اور خطہ ِ گلگت بلتستان کے غیور عوام کو آمدہ الیکشن کے نتیجے میں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت بننے کی پیشگی مبارک ہو۔
اس کے کم از کم3 فائدے تو ضرور ہوں گے، ایک تو اربوں روپے کا خرچہ بچے گا، جو مذکورہ خطوں کے غریب عوام کی فلاح اور بہبود پر خرچ کیا جا سکے گا، دوسر یہ کہ ا لیکشن کے چکر میں خاندانوں کے بیچ لڑائی جھگڑے،قتل وغارت اور ناراضگیاں پیدا نہیں ہوں گی اور تیسرا کہ الیکشن میں دھاند لی وغیرہ کے الزامات ہی پیدا نہیں ہو سکیں گے کیونکہ جب نہ بانس رہے کا اور نہ بجے گی بانسری۔
کنٹرولڈ میڈیا: قومی میڈیا جب وقت کی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے”اشتہارات“ کا مرہون منت ہو گا تو پھر کیسے حکومتوں کی ناقص پالیسیوں یا غلطیوں پر تنقید کر سکے گا۔
کنٹرولڈ الیکشن:جب کوئی بھی وفاقی حکومت، گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر حکومت کو وہاں کا سسٹم یا نظام چلانے کے لیئے”فنڈز“ مہیا کرتی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں وفاقی حکومت کی اپنی مرضی کی حکومت نہ بنے۔
(ناچیز کے خیالات سے کسی سیاسی کارکن کامتفق ہوناضروری نہیں)
واپس کریں