
آذاد کشمیر کے باشعور ووٹرز کو اب اس سچائی اور حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ قومی سیاست محض صرف،نالی،نلکا، پلاسٹک کے سیاہ پائپ،سرکاری ٹھیکوں یا من پسند سرکاری تبادلوں کا نام نہیں بلکہ اپنی قومی شناخت، کشمیر کی مکمل آزادی اور ایک بہتر و روشن مستقبل کا نام ہے اور یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ ووٹ دینا ایک سرمایہ کاری ہے، آج کا ایک ووٹ کل کی حکومتوں اور ان کی دقیانوسی و گھسی پٹی پالیسیاں بدل سکتا ہے۔
یہ سوچ ہماری عملی سیاست کا ایک واضع اور عام المیہ ہے کہ جموں کشمیر لیبریشن لیگ چونکہ حکومت میں نہیں آ سکتی اس لیئے اس جماعت کو ووٹ دینا، اپنے ووٹ کو ضائع کرنے کے مترادف ہے لیکن عین دوسری جانب یہ امر واقع اور مقامِ افسوس ہے کہ یہی کشمیری ووٹرز ہر مرتبہ روائیتی اور بار بار آزمائی ہوئی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دے کر نئی امیدیں رکھتے ہیں اور پھر جلد ہی مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ریاست میں پانچ سال میں چار مرتبہ وزارئے اعظم تبدیل ہوئے ہیں لیکن ”تسلی“ پھر بھی نہیں ہو سکی،جس کی بنیادی وجہ ووٹرز کی سوچ کی سمت کا ہی غلط ہونا ہے۔
”حکومت یا اصول“ اکثر ووٹرز کا خیال ہے کہ ووٹ ضائع ہوتا ہے کیونکہ جموں کشمیر لیبریشن لیگ الیکشن جیت نہیں سکتی۔ یہی وہ پلان ٹڈ نفسیات ہے جو ن لیگ،پیپلز پارٹی یا پی ٹی آئی جیسی بڑی غیر ریاستی پارٹیوں کی مقامی برانچوں کو فائدہ پہنچاتی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تبدیلیاں چھوٹی آوازوں سے شروع ہی ہوتی ہیں۔
”اصول کی سیاست“ جموں کشمیر لیبریشن لیگ کشمیر کے بنیادی مسئلے، مکمل آزادی، حکومتی خودمختاری اور آذاد جموں کشمیر کے مکمل عوامی حقوق کی نمائندگی کرتی ہے۔ باقی اگر آذاد کشمیر کے ووٹرز اگر صرف”حکومتی رنگ بازی“ چاہتے ہیں تو غیر ریاستی اور روائیتی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دیں، لیکن اگر کشمیر کی شناخت اور خطہ کی آواز کو زندہ مقصود ہے تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے پرائیوٹ سیکرٹری، بااعتماد ساتھی اور آذاد کشمیر کے پہلے منتخب صدر بیرسٹر کے ایچ خورشید مرحوم جیسے اصول پسند لیڈر کی سیاسی جماعت جموں کشمیر لیبریشن لیگ پارٹی کو اپنا ووٹ دیں۔ جے کے ایل ایل کو آپ کی جانب سے ووٹ ملنے پر یہ پیغام دنیا بھر میں عام ہو گا کہ کشمیری قوم پرست سیاست اب بھی زندہ ہے اور دنیا بھر کے ایوانوں اور فیصلہ ساز اداروں میں آپ کے حق آزادی و حقِ خود اداریت کی آواز گونجے گی۔
یاد رکھئے، نظریاتی ووٹ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ برطانیہ، کینیڈا، بھارت اور پاکستان کی تاریخ میں چھوٹی سیاسی جماعتوں نے ہی بڑی تبدیلیاں لائیں۔دنیا بھر میں چھوٹی لیکن نظریاتی اور اصول پسند سیاسی پارٹیوں نے ہی بڑی پارٹیوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کے ایجنڈے اپنائیں۔ 1960-70کی دہائی کے الیکشن نتائج اس حقیقت کی کھلی گواہی ہیں، جب جموں کشمیر لیبریشن لیگ کے بانی مرحوم کے ایچ خورشید نے بڑی سیاسی جماعتوں کے اقتدار پسند لیڈروں یا سیاسی ٹھیکیداروں اور شعبدہ بازوں کو کشمیریوں کے مسائل اور تنازعہ کشمیر پر سنجیدیگی سے بات کرنے پر مجبور کیا تھا اور ثابت کیا کہ نظریاتی ووٹ ہی ایک وہ توانا آواز ہے جو حکومت نہ بھی بنائے تو مخالف سیاسی جغادریوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل اٹھائیں اور انہیں حل کریں، گویا حکومت نہ بنانا کوئی ناکامی نہیں بلکہ اصولوں کی پابندی ہے۔
آذاد کشمیر کے باشندگان یہ بھی یاد رکھیں کہ حکومتیں بدلنے والے ووٹ تو بہت ہیں، لیکن اصول بدلنے والے ووٹ نایاب ہیں۔ اگر کشمیری واقعی اپنے وطن کی مکمل آذادی چاہتے ہیں تو جموں کشمیر لیبریشن لیگ کے نامز د کردہ اعلی تعلیم یافتہ امیداروں کو آمدہ الیکشن میں اپنے قیمتی بلکہ نایاب ووٹ دیں جو ایک بااختیار حکومت یعنی، حکومت کا مکمل حق ملکیت اور حقیقی آذادی کے لیے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں، نہ کہ صرف ایک کٹھ پتلی اور بے اختیار حکومت حاصل کرنے کے لیے۔ بڑی تبدیلی کی ابتدا چھوٹی آوازوں سے ہوتی ہے اور جموں کشمیر لیبریشن لیگ ہی وہ واحد آواز ہے، اگر کشمیری ووٹرز اسے مضبوط کریں تو کشمیر کی آواز خود بخود بلند ہو جائے گی۔
یاد رکھئے، ووٹ صرف محض حکومت بنانے کے لیے نہیں، بلکہ، اصول اور طویل مدتی جدوجہد کے لیے بھی دیا جاتا ہے اور جموں کشمیر لیبریشن لیگ انقلاب اور جدوجہد کی واحد علامت ہے اور”نظریہ خورشید“ اسی سیاسی جدوجہد کا نام ہے جو کشمیر کی حقیقی آزادی اور حق خود ارادیت پر مبنی ہے اور اس کے بنیادی نکات یہ ہیں جو معلوم ہونے چاہیں۔”کشمیری عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں (پاکستان، بھارت یا آزادی)،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ملا کر ایک حقیقی آئین ساز اسمبلی بنائی جائے جو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی کرے اورپاکستان کی موجودہ کشمیر پالیسی (شملہ معاہدہ وغیرہ کی وجہ سے) کی حدود سے آزاد ہو کر بین الاقوامی سطح پر کیس لڑا جائے، خاص طور عالمی عدالت انصاف میں“
اگر باشندگان آذاد کشمیر (تحریک آذادی کے بیس کیمپ) جموں و کشمیر کی شناخت(عالمی نقشے کے مطابق)،کی حقیقی خود مختاری اور اپنے بنیادی مسائل کا مستقل حل چاہتے ہیں تو جموں کشمیر لیبریشن لیگ کو ووٹ دیں۔ آج کا ایک ووٹ کل کی پوری سیاست بدل سکتا ہے، ایک مرتبہ آزما کر دیکھ لیں، انشا اللہ مایوسی نہیں ہو گی۔
واپس کریں