کوئی ظالم ٹرمپ بھی آپ کی مدد کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔طاہر سواتی

ہمارے ملک میں ایرانی حمایت میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جو ولایتِ فقیہ کے پیروکار ہیں۔ یہ ان کے ایمان اور عقیدے کا مسئلہ ہے۔ وہ خمینی اور خامنائی کو معصوم پاک سمجھتے ہیں، اور ان کی کسی بات کی مخالفت آخرت کو برباد کر سکتی ہے۔ ان کا جذبہ سراپا احترام ہے، ان سے بحث نہیں ہو سکتی۔
دوسرے نمبر پر وہ اہلِ ایمان ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کی مخلافت میں ایران اور پاسدارانِ انقلاب کی عشق میں گرفتار ہیں۔ آج کل اس گروہ کی قیادت جماعتِ اسلامی کے صالحین کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ فلسطین سے لے کر کشمیر تک ہر جگہ مسلمانوں پر مظالم کا رونا روئیں گے، لیکن شام، لبنان، ایران اور عراق میں پاسداران کی بربریت پر خاموشی اختیار کریں گے۔
"امریکی استعمار"، "مغربی سامراج" اور "صیہونیت" ان کے پسندیدہ اصطلاحات ہیں۔
تیسرے نمبر پر وہ گروہ ہے جو عام طور پر ایران کی حمایت کرتا ہے، لیکن جب پاسداران اپنی کمینگی پر اُتر آتے ہیں جس طرح کل انہوں نے امریکی جہازوں کو جانے دیا، مگر متحدہ عرب امارات کے خالی بحری جہاز پر ڈرون حملے کیے، 12 بیلسٹک میزائل اور 4 کروز میزائل امارات کی سرزمین پر داغے، جس سے فجیرہ میں پیٹرولیم انڈسٹریل سائٹ پر شدید آگ بھڑک اٹھی ۔
تو ایسی صورتِ حال میں یہ سادہ لوح عشاقِ ایران ایک نیا فارمولا لے آتے ہیں کہ دراصل پاسداران میں صیہونی شامل ہو چکے ہیں جو اس قسم کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ یعنی اس صورتِ حال میں بھی پاسداران کو کلیئر چٹ دے کر ساری نفرت اسرائیل پر نکال دیتے ہیں۔
ان موسادِی پاسداران نے تو آج تک غلطی سے بھی ایک میزائل عراق کی جانب نہیں پھینکا، جہاں اس وقت بھی پانچ امریکی اڈے آپریشنل ہیں اور جہاں سے انہوں نے اپنے پائلٹ کو ایران سے لے جانے کا پورا آپریشن مکمل کیا، اس لیے کہ وہ ولایتِ فقیہ کے پیروکاروں کا ملک ہے۔
یہ دیکھ کر مجھے بیس پچیس سال قبل کا وہ دور یاد آ جاتا ہے جب ٹی ٹی پی اور دیگر تنظیموں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا سارا ملبہ بیرونی ایجنسیوں پر ڈال دیا جاتا تھا۔
“اخے! کوئی مسلمان مسجد میں دھماکوں یا معصوم بچوں کے قتلِ عام کا سوچ بھی نہیں سکتا، یہ سارا کیا دھرا بیرونی ایجنسیوں کا ہے۔"
اسی لیے ان مذہبی طبقوں نے کبھی بھی اس قسم کی وحشیانہ کارروائیوں پر ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی مخالفت نہیں کی۔ آج وہی ٹی ٹی پی، انہی افغان طالبان کے زیرِ سرپرستی، عام لوگوں، مساجد، حتیٰ کہ ایمبسوں پر حملوں سے بھی باز نہیں آتی۔
ان تنظیموں کے بارے میں خوش فہمی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم نے ان کی بنیادی سوچ اور بیانیے کو نظر انداز کر دیا تھا۔ لیکن جب انہوں نے موقع پا کر اسے نافذُ العمل کرنا شروع کیا، تو ہماری آنکھیں کھلیں، لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اسی طرح آج ہم امریکہ اور اسرائیل کی نفرت اور ایران کی محبت میں خمینی اور پاسداران کی بنیادی سوچ کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اور ان کی ہر غلاظت کو اسرائیل کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ ہمارے بڑے بڑے دانشوروں کو یہ معلوم نہیں کہ دراصل خمینی کی ولایتِ فقیہ کن ستونوں پر استوار ہے۔
اس وقت نفرت اور عقیدت کے دو انتہاؤں کے درمیان عقل و شعور اور دلیل کی کوئی بات صدا بہ صحرا ثابت ہوگی۔لیکن عنقریب پاسداران آپ کو وہ سب کچھ سمجھا دیں گے جو اس وقت مجھ جیسے سمجھانے سے قاصر ہیں۔لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوگی اور کوئی ظالم ٹرمپ بھی آپ کی مدد کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔
واپس کریں