دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غربت کا کبھی نا ختم ہونے والا گھن چکر
حماد شیخ
حماد شیخ
اگر آپ ایک چھوٹے کاروباری شخص ہیں اور ماہانہ تقریبا" 130,000 کماتے ہیں، یعنی سال کا 1,530,000 (پندرہ لاکھ تیس ہزار) تو مالی سال 2026 میں آپ کو 162,000 روپے ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔۔۔
مہنگائی اور روپے کی قدر کے بارے تو ہم سب جانتے ہی ہیں۔۔ یہ ایک ہوشرباء ٹیکس ہے۔۔ ٹیکس کی ادائیگی کے بعد آپ کی ماہانہ آمدن 114,000 روپے رہ جائے گی۔۔ جس میں 20,000 سے 25,000روپے مہینے کا بل بجلی، مکان کرایے کا ہے تو اس کا 30,000 سے 40,000 روپے کرایہ۔۔ بچوں کی فیس اور کھانا پینا پورا کرنا ہو گا۔۔ مطلب آپ ایک کنفرم اور سرٹیفائیڈ غریب آدمی ہیں۔۔۔ ایسے حالات میں بیوی آپ پر خلاع کا کیس بھی دائر کر سکتی ہے، لاہور جیسے شہر میں طلاق/خلاع کی شرح اب %50 کو پہنچ چکی ہے۔۔
اول تو سیلف ایمپلائڈ شخص کو بینک قرض دیتا ہی نہیں، کہتا ہے آپ کے پاس آمدن کے ثبوت نہیں۔۔ لیکن اگر آپ نے اپلائی کر بھی دیا تو بینک سے گھر بنانے یا اپنی موٹر سائیکل خریدنے تک کا قرض آپ نہیں لے سکتے کیونکہ بینک آپ کی ٹیکس ریٹرن سے جب آمدن اور اخراجات کا اندازہ لگائے گا۔۔ تب 162,000 روپے کے ٹیکس کی ادائیگی کے بعد بھی بینک آپ کو قرض دینے سے صاف انکار کر دے گا۔۔۔ آپ غربت کے ایک کبھی نا ختم ہونے والے گھن چکر میں ہیں۔۔۔
حماد شیخ
بی-کام، ہیلے کالج، پنجاب یونیورسٹی،
اے-سی-ایم-اے،
اے-پی-ایف-اے، آئی-ٹی-پی (ایف-بی-آر)
چارٹرڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹ
ممبر، لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن
ماہر ٹیکس، مالیات و معاشیات
واپس کریں