دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران جنگ عالمی تجارت پر کووڈ وبا سے زیادہ اثر انداز ہوگی؟
No image ایران جنگ کے اثرات دنیا بھر کے تجارتی اور کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر نظر آ رہے ہیں۔ اب یہ کمپنیاں اپنے کاروباری طریقوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں دیگر جغرافیائی و سیاسی خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کو کووڈ وبا کے دوران سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف نظام سے تشبیہ دے رہے ہیں۔
کووڈ کے دوران یہ بات واضح ہوئی کہ دنیا الیکٹرانکس سے لے کر طبی ساز و سامان تک کی تیاری میں چین پر کس قدر انحصار کرتی ہے۔ گزشتہ برس امریکہ کی جانب سے لاگو کیے گئے ٹیرف نے اس انحصار کو کم کرنے کی ایک کوشش تھی۔
تاہم ایران جنگ نے اس حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ایک آبی راستے کی بندش سے تیل، گیس اور کھاد جیسے اہم خام مال کی فراہمی میں رکاوٹ اور اس سے عالمی تجارت کو ہونے والا نقصان کس قدر شدید ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق گزشتہ ماہ دنیا کی تیل کی تقریباً 10 فیصد اور ایل این جی کے پانچویں حصے کی سپلائی متاثر ہوئی۔ یہ عالمی توانائی منڈی کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا تھا۔
جہاں کورونا وبا اور صدر ٹرمپ کے ٹیرف پالیسیز نے سپلائی چین میں دیرپا تبدیلیوں کو جنم دیا، وہیں ایران جنگ نے توانائی اور اجناس کی رسد پر شدید ضرب لگائی ہے۔
اگرچہ ان بحرانوں کی نوعیت مختلف ہے، تاہم کمپنیوں پر ان کا اثر یکساں محسوس ہوتا ہے۔ یہ بات نیویارک میں قائم عالمی مینیجمنٹ کنسلٹنگ فرم اولیور وائمن کے پارٹنر سیباستیان ژانسن نے کہی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”کووڈ نے پیداوار کے ایک مرکز (چین) پر حد سے زیادہ انحصار کو بے نقاب کیا، جبکہ آبنائے ہرمز نے نقل و حمل کے ایک راستے اور توانائی کے وسائل پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو نمایاں کیا۔‘‘
سپلائی چین کی ماہر اور ایل ایم اے کنسلٹنگ گروپ کی صدر لیزا اینڈرسن کا خیال ہے کہ پے در پے آنے والے ان عالمی بحرانوں نے بہت سی کمپنیوں کے خطرات کا اندازہ لگانے کے طریقے بدل دیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”کووڈ نے کمپنیوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ یہ سمجھ کر تسلی نہیں کر سکتیں کہ ضرورت کے وقت سپلائی خود بخود پہنچ جائے گی۔ ایران جنگ نے ثابت کر دیا کہ یہ محض ایک وقتی واقعہ نہیں تھا۔‘‘
تیل، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے حکومتوں کو مختلف انداز میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ اشیا کی عالمی تجارت میں مزید رکاوٹوں کا خدشہ اب بھی برقرار ہے۔
گزشتہ ایک ماہ میں شپنگ کمپنیوں نے متبادل راستے اپنانے کی کوشش کی ہے اور اب بہت سے جہاز آبنائے ہرمز کے بجائے جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے طویل چکر لگا رہے ہیں، جس سے سفر کا وقت اور لاگت دونوں بڑھ گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگی خطرات کے لیے انشورنس اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر توانائی، کیمیکلز اور تیار شدہ اشیا کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز میں فوری رکاوٹوں کے علاوہ، عالمی تجارت کے بعض انداز اب مستقل طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق جنگوں اور ٹیرف سمیت جغرافیائی سیاسی خطرات اب دو تہائی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش بن چکے ہیں، جو 2025 کے بعد نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
وہ کمپنیاں جو چین پر زیادہ انحصار کرتی تھیں اب +1 یا +2 حکمتِ عملی اپنا رہی ہیں، یعنی خطرات کم کرنے کے لیے اپنی سپلائی چین میں کم از کم ایک یا دو اضافی ممالک شامل کر رہی ہیں۔ بھارت، انڈونیشیا، ویتنام اور ملائشیا اس تبدیلی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کمپنیاں اب مستقبل کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ جہاں تائیوان سے متعلق کشیدگی یا کوریا میں عدم استحکام جیسے مزید جغرافیائی سیاسی جھٹکے متوقع ہیں وہیں بہت سے ممالک اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ حقیقی مضبوطی کے لیے سپلائی نیٹ ورک میں لچک، متبادل انتظامات اور مضبوط اسٹریٹجک شراکتیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔
واپس کریں