بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں

ہمارے دوست وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب کا یہ اعتراف کتنا خوفناک ہے اس کا اندازہ شاید کسی کو امریکہ ایران چکر میں نہیں ہوا۔ وہ سی ڈی اے کے وزیر انچارج ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھی اس ادارے میں کام ہو تو دس لاکھ روپے (رشوت) دینی پڑے گی۔
نقوی صاحب دو سال سے اس ادارے کے سربراہ ہیں جس کے بارے کہہ رہے ہیں وہاں کرپشن کا ریٹ دس لاکھ ہے۔ وہ ادارہ جس میں وزیراعظم تک کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے آپ وزیروں کو تو چھوڑ ہی دیں۔
نقوی صاحب دو سال سے اس سونے کی کان جیسے ادارے کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ اپنے لاڈلے کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کو لائے اور اسلام آباد کا پہلے چیف کمشنر اور پھر سونے کی کان سی ڈی اے کا چیرمین لگا دیا اور وہ چیرمین خود کو نقوی صاحب کے علاوہ کسی کو جواب دہ نہیں سمجھتا تھا بلکہ اکثر قائمہ اجلاسوں میں ان کی رعونت اور تکبر کو سب نوٹ کرتے تھے۔
پچھلے سال جولائی میں سترہ ارب تو دسمبر میں چوبیس ارب کے پلاٹ بیچے گئے۔ مطلب چھ ماہ میں سی ڈی اے کے پاس چالیس ارب تھا۔ ہزاروں درخت کاٹے گئے، جنگل تباہ کیے گئے، غیرضروری اور ناقص فلائی اوور اور سڑکیں بنائ گئیں جو پہلی بارش پر ٹھس ہوئیں۔ ماحول تباہ کیا۔
پورے شہر کو ایک گریڈ بیس کے افسر نے تہس نہس کر دیا اور ابھی چند دن پہلے رندھاوا صاحب اور نقوی صاحب چین گئے اور وہاں سے فرمایا کہ اسلام آباد شنگھائی بنے گا۔ شنگھائی خاک بنتا الٹا آج وزیر صاحب فرما رہے ہیں وہ ان دو سالوں میں جب رندھاوا نقوی جوڑی اس ادارے کو چلا رہی تھی وہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔
یہ نتیجہ نکلا ہے ایک گریڈ بیس کے افسر کو خوفناک اختیارات دینے کا۔ یہ دراصل رندھاوا صاحب کے خلاف چارج شیٹ ہے کیونکہ دو سال سے وہ سفید سیاہ کے مالک تھے۔
نقوی صاحب کو اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سی ڈی اے کی وزارت کا چارج چھوڑ دینا چاہئے۔ ان دو سالوں کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ چالیس ارب کہاں خرچ ہوا۔ لاہور کا لاڈلا کنٹریکٹر کون تھا جسے سب اربوں کے کنٹریکٹ نصیب ہوئے۔ رندھاوا صاحب تو اپنے ساتھ درجن بھر ڈی ایم جی افسران ڈیپوٹیشن پر لائے تھے ان کی یہ کارگردگی تھی کہ ریٹ دس لاکھ روپے چل رہا ہے؟
افسوس اس بات کا ہے کہ جس گریڈ بیس کے افسر کے دور میں رشوت کا ریٹ دس لاکھ تک جا پہنچا ہے اسے نقوی صاحب نے ڈی جی پاسپورٹ لگا دیا ہے۔ دو سال بعد نقوی صاحب ہمیں پاسپورٹ آفس کا ریٹ بتا رہے ہوں گے کہ کام کرانا ہے تو دس لاکھ ریٹ ہے؟
اگر سی ڈی اے کا ریٹ آج دس لاکھ ہے تو رندھاوا صاحب کیسے کلئرنس لے کر ایک اور سونے کی کان کے مالک بنا دیے گئے ہیں۔ ؟ ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی جن کے دور میں بقول ریٹ دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے؟
نقوی صاحب یہ آپ کی ناکامی ہے اور آپ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ مان لیں یہ آپ کے بس کا کام نہیں ہے۔ جب رندھاوا صاحب پورا شہر اجاڑ رہے تھے آپ ان کے محافظ بن کر کھڑے تھے حالانکہ جب وزیراعلی تھے تو بڑا آپ کی کارگردگی کا شور سنا تھا۔ پنجاب بارہ کروڑ کا صوبہ اور اسلام آباد پچیس لاکھ لیکن یہاں آپ ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اب بتا رہے ہیں جس ادارے کو آپ نے دو سال ہیڈ کیا اس کا ریٹ دس لاکھ ہے۔
نقوی صاحب کے دس لاکھ ریٹ انکشاف سے اب آپ سب کو خواجہ آصف کی بات سمجھ آرہی ہے کہ پاکستان بیوروکریٹس بیرون ملک شہریت اور پرتگال میں دھڑا دھڑ جائیدادیں کیسے خرید رہے ہیں۔
واپس کریں