دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا عمران خان کو نواز شریف جیسا ریلیف ملنے والا ہے؟
No image عمران خان کی بینائی پندرہ فی صد رہ جانے کی اطلاعات کے بعد جمعے کی شام پارلیمان ہاؤس کی سیڑھیوں پر پی ٹی آئی کے ارکان نے دھرنا دیا۔ اس موقع پر ریڈ زون کو سیل کرکے بکتر بند گاڑیاں وہاں پہنچا دی گئیں اور پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیر لیا۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرکے ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج نہ کروایا گیا تو ان کا احتجاج جاری رہے گا۔
سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کے سپورٹرز ان کی صحت کے حوالے سے اپنی تشویش اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک پوسٹ میں ایک صارف نے لکھا کہ ہر پاکستانی کی جیب میں مفت علاج کے لیے لاکھوں روپے ڈالنے والا خود اپنے علاج سے محروم ہے۔
اس وقت پاکستان کے عوامی حلقوں میں دو آراء پائی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی طرح عدالتی ریلیف حاصل کرنے کے لیے عمران کی بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف یہ رائے ہے کہ عمران خان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں اور انہیں میعاری اور بروقت طبی سہولتیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور حکومت غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
کیا عمران خان ’رہائی‘ مل سکتی ہے؟
تجزیہ کار مظہر عباس نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگر عمران خان کو کچھ ہوا تو اس کے پاکستان کی سیاست پر بہت شدید اثرات رونما ہوں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ کسی قیدی کی ضمانت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ تاہم ان کے خیال میں ابھی صورتحال پوری طرح واضح نہیں ہے۔
حکومت نے عمران خان کی بیماری اور ان کو پمز لے جانے کی بھی بہت دیر بعد تصدیق کی۔ مظہر عباس کے بقول، ”میرے خیال میں عمران خان کی بیماری کے باوجود ان کے ‘مخالف حلقے‘ ان کو باہر بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتے۔ اور اگر عمران نے بیماری کی آڑ میں نواز شریف جیسا ریلیف لیا تو ان کی سیاست کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔‘‘
ادھر حکومتی وزراء کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بیماری کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔ وہ عمران خان کو قانون کے مطابق طبی سہولتوں کی فراہمی کے دعویدار ہیں۔ تاہم کئی وزرا نے عمران خان کو ان کی مرضی کے علاج کی سہولت فراہم کرنے کی بھی بات کی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان کے علاج میں اگر غفلت پائی گئی تو اس کے مرتکب افراد پر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
’عمران خان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون؟
عمران خان کے قریبی عزیز اور سینئر تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ ان کا بیٹا بھی نو مئی کے الزامات کے تحت قید میں ہے اور انہیں پتا ہے کہ جیل میں کس کا حکم چلتا ہے۔ ان کے خیال میں جیل سپرٹینڈنٹ بھی کسی کے احکامات ماننے پر مجبور ہے اور حکومت بھی ان امور میں کسی کا حکم مان رہی ہے، ”اس لیے عمران خان کو کچھ ہوا تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں اس کے ذمہ دار سمجھے جائیں گے کیونکہ عمران خان ملک کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ہیں اور عوام ان کو بہت چاہتے ہیں۔‘‘
بشیر خان اڈیالہ اور کوٹ لکھپت جیل میں سپرٹینڈنٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نارمل حالات میں ان جیلوں کے اندر ہسپتال، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود ہوتے ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس فراہم کرنے اور آئی جی جیل خانہ جات کی منظوری کے بعد زیادہ علیل مریضوں کو جیل کے باہر سے بھی علاج کروانے کی سہولت میسر ہوتی ہے۔
ادھر عمران خان کے خاندانی ذرائع کے مطابق عمران خان جیسی ہائی پروفائل شخصیت پر دباؤ بڑھانے اور ان سے ناجائز مطالبات منوانے کے لیے ان کی بیماری کے علاج کو روکا جا رہا ہے۔
عمران خان کی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آنکھوں کے ڈاکٹروں کی ایک ملک گیر تنظیم کے لاہور کے صدر اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ عمران خان کی آنکھوں کو خون اور آکسیجن فراہم کرنے والی رگوں میں رکاوٹ پیدا ہو چکی ہے۔ ان کی رائے میں اس بیماری کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو آنکھوں کی بینائی ضائع بھی ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر اقبال نے مزید کہا، ”اس بیماری کا علاج آنکھوں کا ہرعام ڈاکٹر نہیں کر سکتا۔ صرف آنکھوں کی اس بیماری کے ماہر ڈاکٹر ہی اس کا علاج کر سکتے ہیں۔ عمران خان کی بیماری کے بارے میں ملک میں بہت کنفیوژن ہے، اس لیے جب تک ان کی بیماری کے مناسب ٹیسٹ نہیں ہوتے اور اس کے نتائج شئیر نہیں کیے جاتے، تب تک اس بارے میں مزید کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔‘‘
گزشتہ ماہ پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص ہوئی ہے اور اس بیماری کی وجہ سے ان کی آنکھ کی رگوں میں ایک خطرناک رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے۔ اس کے چند روز بعد دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت پر آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کیا گیا۔
واپس کریں