دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نفرت کا زہر آنکھ میں بھرنے کا شوق تھا۔طاہر سواتی
No image چیف جسٹس کے حکم پر عمران نیازی کے وکیل سلمانٗ صفدر نے اڈیالہ جیل میں ان سے تین گھنٹے ملاقات کے بعد ایک لمبی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں نیازی کو ملنے والی سہولیات، مرغن غذاؤں سمیت کافی تفصیلات موجود ہیں، لیکن پوری رپورٹ میں عمران نیازی سے وابسطہ ایک جملے نے جنگل میں آگ لگا دی ہے: "میری نظر 6/6 تھی، لیکن اب ایک آنکھ کی نظر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔"
یہ کسی ڈاکٹر کی رپورٹ نہیں، نہ ہی سلمان صفدر کوئی ڈاکٹر ہیں۔ بلکہ یہ وکیل کا اپنے موکل سے مکالمہ ہے۔ ہر وکیل اپنے موکل کی رپورٹ مرتب کرے گا تو ایسی ہی ہوگی۔ بلکہ تین گھنٹے میں تو اتنی لمبی رپورٹ ٹائپ بھی نہیں ہوسکتی۔
اس رپورٹ میں اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہے کہ "میری بینائی 6/6 تھی"، اگر اس کی بینائی سو فیصد ٹھیک تھی تو پھر اتنے عرصے سے وہ نظر کی عینک کیوں استعمال کرتا رہا؟
پمز ہسپتال کے اعلیٰ ترین ذرائع کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 80-85 فیصد بینائی ضائع ہونے والی بات غلط اور مبالغہ آرائی ہے۔ جب سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کی بینائی سو فیصد بحال اور ریکور ہو گئی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس کا علم نہیں ہے۔
دنیا کا کوئی بھی ڈاکٹر ۷۴ سالہ شخص کی سو فیصد بینائی کی تصدیق نہیں کرسکتا۔
نیازی کو جیل میں فائیو اسٹار ہوٹل جیسے سہولیات ملی ہوئی ہیں، اس قسم کی لگژری جیل آج تک کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ نومبر 2023 سے آج تک سپیشل میڈیکل بورڈز نے 27 بار عمران نیازی کا معائنہ کیا ہے۔ روزانہ سو سو لوگ ملاقات کرکے آتے تھے، بلکہ اس نے تو اڈیالہ جیل کو پارٹی سیکرٹریٹ میں تبدیل کردیا تھا۔
ابھی نیازی کی بہن نے ملاقات کی، جس کے بعد اس کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک لمبی ٹویٹ داغ دی گئی۔ اس میں ہر قسم کی بکواس موجود تھی، لیکن آنکھ کی بیماری کا کہیں ذکر نہیں۔
اس رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے 16 فروری سے پہلے دوبارہ معائنہ کرنے کی یقین دہانی پر درخواست نمٹا دی۔ اس کے ساتھ معائنے کے دوران فیملی ممبر کی موجودگی یقینی بنانے کی استدعا سپریم کورٹ نے مسترد کردی، اور کتابوں کی فراہمی کو ڈاکٹر کے مشورے سے مشروط کردیا۔
میرے خیال میں تو ایک آزادانہ میڈیکل بورڈ سے اس ذہنی مریض کی آنکھ کا معائنہ کرانا چاہیے۔ پھر خدانخواستہ اگر ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو رینجرز سے معائنہ کروانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
یہ نوسرباز چھ ماہ تک گرفتاری سے بچنے کے لیے ٹانگ پر پلستر لگائے گھومتا رہا۔ پھر رینجرز کے ایک ضرب سے وہ ٹانگ ایسی ٹھیک ہوئی کہ اس نے جیل جاتے ہی اسپورٹس سائیکل کا مطالبہ کردیا ۔
میرے خیال میں تو عمران نیازی کے لیے جیل میں وہی سہولیات ملنی چاہئیں جو اس نے اپنے سیاسی مخالفین کو دی تھیں۔ آج اس کے لیے انسانی ہمدردی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا نیازی میں خود انسانیت نامی کی کوئی چیز ہے؟
یہ فرعون بڑے ببانگِ دہل کہتا تھا،
"میں ان کو تکلیف پہنچاؤں گا... میں ان کو رلاؤں گا"
اور اس کے پیروکار تالیاں بجاتے تھے۔
نواز شریف کے معالج مرحوم ڈاکٹر طاہر شمسی کا بیان تھا کہ
"نواز شریف کے جسم پر نیل تھے، سرخ دھبے تھے، مسوڑھوں سے خون آ رہا تھا، کوئی ڈاکٹر ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھا۔ میرے سامنے ان کی کیفیت ہارٹ اٹیک والی تھی۔"
عمران نیازی کو نواز شریف کے میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں پر شک تھا کہ انہوں نے نواز شریف سے پیسے لیے۔ نیازی حکومت نے ڈاکٹروں سے کئی گھنٹے انٹروگیشن کی، اور بینک اکاؤنٹس تک چیک کیے گئے۔ ایک بار تو نواز شریف کو علاج کے لیے گائنی وارڈ لے گئے اور پھر سوشل میڈیا پر یہی یوٹیوبر اس بات کی ٹرولنگ کرتے رہے۔ یہ نواز شریف کی بیماری والی حالت کی تصاویر اورُ ویڈیو جلسوں میں چلا کر مذاق اڑاتا رہا ۔
میاں نواز شریف کو سلو پوائزن دینے کے بعد جب طبیعت بگڑ گئی تو مجبوراً باہر بھیجنا پڑا۔ شہباز شریف کو کمر کا کینسر ہے، انہیں جان بوجھ کر بکتر بند میں سفر کروایا تاکہ کمر درد مزید بڑھے۔ مریم نواز کے سیل اور واش روم میں کیمرے لگوائے، ہوٹل روم کا دروازہ توڑوایا۔
رانا ثنااللہ کو جھوٹے ہیروئن کیس میں گرفتار کروایا۔ اوپر سے اس کی شوگر اور بلڈ پریشر کی دوائیاں روک کر اسے جان سے مارنے کی کوشش کی، اس کے کمرے میں چینی کا شیرہ ڈالا جس پر چیونٹیاں آتی تھیں جو اسے ساری رات سونے نہیں دیتی تھیں۔
خواجہ آصف، شاہد خاقان، احسن اقبال، آصف علی زرداری، اس کی بہن سمیت تمام سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات درج کروائے۔ ان سیاسی مخالفین کے جیل کے کمروں میں کیمرے لگوائے کیونکہ یہ وحشی ان کو براہِ راست اذیت میں دیکھ کر خوش ہوتاتھا۔
2021 میں اس نے مفتی کفایت پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنا کر گرفتار کروایا گیا، جیل میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہوئی تھی۔ کفایت اللہ علاج کی درخواستیں کرتے رہے مگر کسی نے نہ سنی۔
آج سلمان صفدر کی پوری رپورٹ دیکھیں کہ اس میں ان کو تمام سہولتیں دی گئی ہیں، اس میں کہاں لکھا گیا ہے کہ عمران خان کو ٹارچر کیا گیا ہے؟ لیکن بہنوں، پیروکاروں اور میڈیا نے ایک ہنگامہ مچا رکھا ہے کہ تاریخ میں اس سے بڑا ظلم کبھی ہوا نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ۷۴ سال کی عمر میں یہ حضرت جس قسم کی مرغن غذائیں کھا رہے ہیں، اس کے بعد ان کی بیماری کے بجائے صحت مند رہنے پر حیرت ہونی چاہیے۔ چوہتر سال کے بزرگ کو دس بیماریاں لگی ہوتی ہیں۔ مہاتما کو ایک عرصے سے شوگر ہے، بلڈ پریشر کا مسئلہ ہے، اوپر سے مرغن کھانوں سے ہاتھ نہیں رکتا۔
بہرحال، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، نہ یہ چوری چکاریاں کرتا نہ اسے جیل جانا پڑتا ۔
کرتا نہ آج جیل میں ہوتا۔ نہ یہ اپنے مخالفین پر ظلمُ کرتا ، نہُ اس کی آنکھیں ہر وقت نفرت اور وحشت کی آگ اگلتی نہ اسے آج یہ دن دیکھنے پڑتے ،
بقول شاعر:
بس اک گھڑی کی بات تھی کہ ضبط توڑ کر
وہ شخص دو جہان کی رسوائی لے گیا
نفرت کا زہر آنکھ میں بھرنے کا شوق تھا
یہ شوق ایک شخص کی بینائی لے گیا
واپس کریں