دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
متحد ہو کر عالمی وعدوں کی پاسداری کے لیے آواز اٹھائیں۔ غلام محمد صفی
No image سلام آباد (نامہ نگار) نیشنل بک فاؤنڈیشن (NBF) اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (KIIR) کے زیر اہتمام محمد یوسف ملک کی نئی تحقیقی تصنیف ''Universal Declaration of Human Rights & Kashmir: A Tale of Unending Atrocities'' کی پروقار تقریبِ رونمائی کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں سیاسی و، حریت رہنماؤں، وائس چانسلرز، ماہرینِ تعلیم، انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف جامعات کے طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیر برائے کشمیر کاز، آرٹس اینڈ لینگویجز محترمہ نبیلہ ایوب خان تھیں، جبکہ مہمانانِ گرامی میں سردار مسعود خان، ڈاکٹر کامران جہانگیر،،غلام محمد صفی،فرزانہ یعقوب، الطاف حسین وانی اور دیگر شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ یہ کتاب محض ایک دستاویزی مجموعہ نہیں بلکہ عالمی اداروں کے دوہرے معیار کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشمیر جیسا دیرینہ تنازع خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور محمد یوسف ملک نے نہایت عرق ریزی سے ثابت کیا ہے کہ بھارت کس طرح عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔
مہمانِ خصوصی وزیر حکومت محترمہ نبیلہ ایوب خان نے اپنے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر کے سائے میں زندگی گزارنے والی خواتین کی حالتِ زار اور ان کی قربانیوں کو خاص طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کتاب کو اقوامِ متحدہ کے فورم پر عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے ایک ''اہم ہتھیار'' قرار دیا اور کہا کہ یہ تصنیف عالمی برادری کو انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی توڑنے پر مجبور کرے گی۔کنوینر آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کتاب کو ظلم کے خلاف ایک مشعلِ راہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں جاری بھارتی مظالم اور جبری گمشدگیاں عالمی چارٹر کی نفی ہیں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر عالمی وعدوں کی پاسداری کے لیے آواز اٹھائیں۔ چیئرمین KIIR الطاف حسین وانی نے ریاستی جبر کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی شمولیت کے ساتھ پاک بھارت مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن ڈاکٹر کامران جہانگیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی فوجی چھاؤنیوں میں تبدیلی انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے، ادارہ ایسی علمی تخلیقات کی سرپرستی جاری رکھے گا جو مظلوموں کی آواز بنیں۔ سابق وزیر فرزانہ یعقوب نے کہا کہ نوجوانوں کو پیلٹ گن سے بینائی سے محروم کرنا انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے، یہ کتاب اس ظلم کو قلمبند کرنے کی اہم کاوش ہے۔ رانا طارق اقبال نے بھی خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مندرجات کو تاریخی حقائق کے عین مطابق قرار دیا۔تقریب کے آخر میں مصنف محمد یوسف ملک نے ایک جامع پریزنٹیشن کے ذریعے تصویری شواہد اور شماریاتی ڈیٹا کی روشنی میں بتایا کہ کس طرح قابض بھارتی افواج انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کے مختلف آرٹیکلز کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ان کی تحقیق ناقابلِ تردید ثبوتوں پر مبنی ہے جو اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت امن کے قیام میں مددگار ہوگی۔ تقریب کی نظامت انچارج میڈیا جموں و کشمیر لبریشن سیل نجیب الغفور خان نے کی۔ تقریب کے شرکاء نے مصنف کی اس عظیم کاوش کو کشمیر کاز کے لیے گراں قدر اثاثہ قرار دیتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
واپس کریں