دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عمران خان سے ملاقات،بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ کا خلاصہ
No image جیل میں عمران خان کی حالت اور کس ماحول میں رہ رہے ہیں۔ دن کیسے گزارتے ہیں اور کیا کھاتے پیتے ہیں۔ ۔
عمران خان کی دائیں آنکھ میں بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی، ‏عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک میری دونوں آنکھوں سے بینائی بلکل درست اور مکمل تھی لیکن پھر آہستہ آہستہ blur ہونا شروع ہوا میں نے بتایا تو نوٹس نہیں لیا گیا پھر اچانک میری دائیں آنکھ سے مکمل بینائی چلی گئی جس کی وجہ سے انہوں نے پمز کے ڈاکٹر عارف کو بلایا جس نے Blood clot سے تشخیص کی جس سے sever damage ہوا اس کے آنکھ میں ٹیکا لگانے کے باوجود میری دائیں آنکھ میں بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی صحت کے حوالے سے ساری تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں
ابتداء میں ملاقات کا مقصد واضح کیا گیا کہ زیرِ دستخطی عدالت کا معاون اور دوست کی حیثیت سے آیا ہے تاکہ عدالتی حکم کے مطابق رہائشی حالات کا جائزہ لے سکے۔ ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہی اور شام 4:30 بجے اختتام پذیر ہوئی۔
درخواست گزار نے بتایا کہ وہ متعدد مقدمات میں گرفتار رہے۔ پہلے دو ماہ ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں رہے، پھر اکتوبر 2023 میں ایڈیالہ جیل منتقل ہوئے، جہاں سے اب تک وہیں مقیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ منتقلی کے بعد سے وہ ایک ہی مخصوص حصے میں رکھے گئے ہیں اور تقریباً دو سال چار ماہ سے تنہائی میں قید ہیں۔
انہوں نے انٹرویو کے آغاز میں اپنی تیزی سے کم ہوتی بینائی کا معاملہ اٹھایا، جو گزشتہ تین ماہ میں شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جیل حکام نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ سابق سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم کا تبادلہ 16.01.2026 کو ہو چکا ہے اور ان کی جگہ ساجد بیگ تعینات ہوئے ہیں۔
درخواست گزار کے مطابق اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل (6/6) تھی۔ اس کے بعد دھندلاہٹ اور نظر کی کمزوری شروع ہوئی۔ بعد میں اچانک دائیں آنکھ کی مکمل بینائی چلی گئی۔ پمز ہسپتال کے ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف نے معائنہ کیا اور بتایا کہ خون کے لوتھڑے (Blood Clot) کی وجہ سے شدید نقصان ہوا ہے۔ علاج (بشمول انجیکشن) کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
زیرِ دستخطی نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار شدید ذہنی دباؤ اور تکلیف میں نظر آئے، آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا اور بار بار رومال استعمال کر رہے تھے۔
جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق درخواست گزار اس وقت ڈاکٹر محمد عارف (پمز) کے زیرِ علاج ہیں۔ روزانہ تین مرتبہ بلڈ پریشر اور آکسیجن لیول چیک کیے جاتے ہیں۔ تاہم مکمل طبی ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ خاندان کی جانب سے 06.02.2026 کی ایک میڈیکل رپورٹ فراہم کی گئی، جس پر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کے دستخط تھے، مگر اس میں مکمل تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
درخواست گزار نے بتایا کہ عمر کے پیش نظر انہیں باقاعدہ خون کے ٹیسٹ اور ذاتی معالجین (ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف) تک رسائی کی ضرورت تھی، مگر متعلقہ عرصے میں یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ تقریباً تین ماہ تک صرف آئی ڈراپس دیے جاتے رہے، جس سے کوئی بہتری نہیں آئی اور بالآخر دائیں آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 73 سال کی عمر کے باوجود گزشتہ دو برسوں میں دانتوں کے معائنے یا علاج کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، حالانکہ انہوں نے متعدد بار درخواست کی۔
سیل کے اندر کوئی الماری موجود نہیں تھی، جس کے نتیجے میں درخواست گزار کے زیادہ تر کپڑے پانچ ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے۔ مزید برآں معائنہ کے دوران سیل میں موجود کرسی غیر آرام دہ پائی گئی۔
iii۔ بستر:
سیل کے معائنہ کے دوران دیکھا گیا کہ بستر میں ایک سنگل بیڈ کا گدا، چار تکیے اور دو کمبل شامل تھے۔ مزید یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ پانچ جوڑے جوتے/اسپورٹس شوز بستر کے نیچے رکھے گئے تھے۔
iv۔ ذاتی سامان:
سیل کے فرش پر سرمئی رنگ کا قالین نما میٹ موجود تھا۔ دستخط کنندہ نے درخواست گزار کے ذاتی استعمال کی اشیاء اور سامان کا مشاہدہ کیا، جن میں جائے نماز اور تسبیح بھی شامل تھیں۔ دو تولیے بھی موجود تھے۔
مزید برآں تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی ہوئی پائی گئیں، جن کے ساتھ دو لپٹے ہوئے سیب، دو ڈمبلز، اور ذاتی نگہداشت کی اشیاء مثلاً ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ایئر فریشنر، شیوِنگ جیل اور شیوِنگ کِٹ بھی موجود تھیں۔
v۔ بیت الخلا:
سیل کے اندر تقریباً ساڑھے چار فٹ ضرب ساڑھے چار فٹ کا بیت الخلا موجود تھا، جسے پانچ فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی کوئی چھت نہیں تھی۔ بیت الخلا کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت کے ساتھ واش بیسن اور آئینہ موجود تھا۔ صفائی کے حوالے سے بیت الخلا کی سینیٹری حالت میں بہتری کی گنجائش دیکھی گئی۔
vi۔ ہوا داری:
ہوا داری کے حوالے سے سیل میں تقریباً دو ضرب دو فٹ کے دو روشن دان موجود تھے جو چھت کے مخالف سروں پر واقع تھے، جس سے کراس وینٹیلیشن ممکن تھی۔ تاہم سیل کے اندر بیت الخلا ہونے کے باوجود کوئی ایگزاسٹ سسٹم نصب نہیں تھا۔
داخلی دروازے پر لوہے کی سلاخوں کا ڈھانچہ موجود تھا جس پر ہوا سے بچاؤ کے لیے پلاسٹک شیٹ لگائی گئی تھی۔
میں نے مشاہدہ کیا عمران خان مکمل بینائی یعنی دیکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے عمران خان کی آنکھ سے مسلسل پانی نکل رہا تھا عمران خان باربار ٹشو استعمال کر رہے تھے عمران خان شدید تکلیف میں تھے۔
واپس کریں