دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماضی میں آئی پی پیز سے یکطرفہ شرائط پر کیے گئے معاہدوں کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے
No image حالیہ دنوں میں حکومت نے سولر انرجی اور بجلی کے بلوں میں فکس چارجز سے متعلق جو پالیسیاں جاری کی ہیں‘ انہوں نے عوام میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ ماضی میں آئی پی پیز سے یکطرفہ شرائط پر کیے گئے معاہدوں کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ کمرشل صارفین کیلئے بجلی کا ریٹ متوازن بنانے کا سارا بوجھ حکومت گھریلو صارفین پر ڈال دینا چاہتی ہے۔ پاکستان میں بجلی کے نرخ اس وقت بھی علاقائی ممالک کی نسبت کئی گنا زیادہ ہیں اور اسکے سبب نہ صرف گھریلو صارفین کیلئے بلوں کی ادائیگی دشوار ہو چکی بلکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت بھی بے پناہ بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں حکومت کی حالیہ پالیسیوں‘ خاص طور پر نیٹ بلنگ اور فکس چارجز کے نفاذ نے عام آدمی سے لے کر بڑے صنعتکار تک‘ سب کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فی یونٹ بجلی کی قیمت (ٹیکسوں اور سرچارجز سمیت) اوسطاً 60سے 70 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ صنعتی صارفین کیلئے یہ بوجھ مزید سنگین ہو چکا ہے۔
جب توانائی اتنی مہنگی ہو گی تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں کیسے مقابلہ کر سکیں گی؟ یہی وجہ ہے کہ برآمدات سکڑتی جا رہیں اور تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ قریب تین سال قبل جب بجلی کے نرخ ناقابلِ برداشت ہوئے تو متوسط اور اَپر مڈل کلاس نے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر پینلز لگوائے تاکہ کچھ ریلیف مل سکے لیکن حکومت نیٹ بلنگ کے تحت صارفین سے بجلی سستے داموں خریدنا اور خود انہیں مہنگے داموں فروخت کرنا چاہتی ہے۔ تاحال اس پالیسی پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے مگر مسئلے کا پائیدار حل خود حکومت کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب بجلی کے بلوں میں فکس چارجز کا اضافہ بھی ایک متنازع فیصلہ ہے۔ صارفین بجلی استعمال کریں یا نہ کریں‘ منظور شدہ لوڈ کے حساب سے ایک مخصوص رقم بہرصورت ادا کرنا ہو گی۔ یہ منطق کہ آئی پی پیز کی کپیسٹی پیمنٹس کیلئے یہ چارجز ضروری ہیں‘ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے۔ سالانہ اربوں روپے کی بجلی چوری کا بوجھ بھی ’ایڈجسٹمنٹ‘ کی صورت میں عام صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ترسیلی نظام پرانا ہونے کی وجہ سے جو 15 سے 20 فیصد بجلی ضائع ہوتی ہے‘ اسکا خسارہ بھی صارفین ہی کے کھاتے میں جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومتی بدانتظامی اور ادارہ جاتی غفلت کا خمیازہ عام آدمی کیوں بھگتے؟ پھر جی ایس ٹی‘ انکم ٹیکس‘ ایکسائز ڈیوٹی اور فیول ایڈجسٹمنٹ سمیت درجنوں ٹیکسز بل میں شامل ہوتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ بجلی کے بل حکومت کیلئے ٹیکس اکٹھا کرنے کا آسان حربہ بن چکے ہیں۔ اس وقت بجلی کے ترسیلی نقصانات 600ارب سے متجاوز ہو چکے ہیں‘ جو گزشتہ مالی سال 284 ارب روپے رہے۔ گردشی قرضہ بھی دو ہزار ارب روپے کی خطرناک حد کو چھو رہا ہے۔
موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے‘ بجلی کے بلوں کو متوازن بنانا اس کا سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ اس دوران آئی پی پیز معاہدوں کی اصلاح اور نئی شرائط پر معاہدوں کی نوید بھی سنائی گئی مگر یہ اقدامات بھی اصل خرابی کو دور کرنے میں ناکافی رہے۔ بجلی کی قیمت میں مسلسل اضافے کا خوفناک اثر صنعتی شعبے پر پڑ رہا ہے۔ ہزاروں چھوٹی‘ درمیانی اور بڑی صنعتیں محض اس وجہ سے بند ہو چکی ہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر‘ جو ملک کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ ہے‘ توانائی کی بلند قیمتوں کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں مسابقت کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ دیکھا جائے تو اس سارے بحران کی اصل جڑ وہ معاہدے ہیں جو ماضی میں نجی بجلی گھروں کیساتھ کیے گئے۔ غیر منصفانہ آئی پی پیز معاہدے حکومت کے گلے کی پھانس بن چکے ہیں۔ ملک کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے کپیسٹی پیمنٹس کے معاملے کو مستقلاً حل کرنے کی ضرورت ہے۔ توانائی کا مسئلہ اب معاشی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے اور اس کو حل کرنے کیلئے خرابیوں کے دہانے کا مستقل سدباب ضروری ہے۔بشکریہ دنیا نیوز
واپس کریں