دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں؟شکور رحیم
No image تیل کی برآمدات کے لیے نہایت اہم آبنائے ہرمز ایک بار پھر اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جب رواں ہفتے ایرانی مسلح بحری کشتیوں نے عمان کے شمال میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں محو سفر ایک امریکی پرچم بردار آئل ٹینکر کے انتہائی قریب پہنچ گئیں۔
اسی دوران امریکی فوج کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا، جو بحیرۂ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے قریب ”جارحانہ انداز‘‘ میں پہنچا تھا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی نمایاں ترین علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اہم ترین تجارتی گزر گاہ
تجزیہ کار طویل عرصے سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تہران آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے یا حتیٰ کہ اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج کو خلیجِ عمان اور اس سے آگے بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
اپنے تنگ ترین مقام پر یہ 33 کلومیٹر چوڑی ہے، جبکہ جہاز رانی کی پٹی ہر سمت میں صرف تین کلومیٹر چوڑی ہے۔
دنیا میں استعمال ہونے والے مجموعی تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ تجزیاتی ادارے ورٹیکسا کے مطابق گزشتہ سال اوسطاً روزانہ دو کروڑ بیرل سے زائد خام تیل، کنڈینسیٹ اور ایندھن اس راستے سے منتقل ہوا۔
اوپیک کے رکن ممالک سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق اپنےخام تیل کی زیادہ تر برآمدات اسی راستے سے بالخصوص ایشیا کو بھیجتے ہیں۔ دنیا کے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندگان میں شامل قطر بھی اپنی تقریباً تمام ایل این جی کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی توانائی سے متعلق ادارے کے مطابق یو اے ای اور سعودی عرب کی موجودہ پائپ لائنوں میں تقریباً 26 لاکھ بیرل یومیہ اضافی گنجائش موجود ہے، جسے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بحرین میں موجود پانچویں امریکی بحری بیڑے کو اس علاقے میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
تاریخی طور پر اس آبنائے میں کشیدگی نئی نہیں۔ 1973ء میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک پر تیل کی پابندی عائد کی تھی۔ 1980ء سے 1988ء تک ایران عراق جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی برآمدات میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، جسے ”ٹینکر وار‘‘ کہا جاتا ہے۔
جنوری 2012 ء میں ایران نے امریکی اور یورپی پابندیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ مئی 2019ء میں متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے باہر، چار بحری جہازوں پر حملے ہوئے، جن میں دو سعودی آئل ٹینکر بھی شامل تھے۔
ایران نے 2023ء میں دو اور 2024ء میں ایک بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب یا اس کے اندر قبضے میں لیا، جن میں سے بعض واقعات امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں پیش آئے۔ گزشتہ سال امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد تہران نے اس آبنائے کو بند کرنے پر غور کیا تھا۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں