دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بلوچستان: مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی
No image بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنہ الہندوستان کے خلاف آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مصدقہ تعداد 92 ہو گئی جبکہ تین روز پہلے پنجگور اور شعبان میںبھی 41 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بربریت کی انتہا کرتے ہوئے گوادر میں بلوچ مزدور خاندانوں کے 11 معصوم کو شہید کر دیا جن میں 5 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔شہید ہونے والے تمام افراد کا بلوچستان سے ہے جو محنت مزدوری کے لیے گوادر آئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اس گھناؤنے واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے ان گھناؤنے واقعات کے خلاف گوادر کے غیور عوام میں شدید غم وغصہ پیدا کر دیا ہے۔ گردو نواح کے علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے ممکنہ ٹھکانوں کے خلاف مزید آپریشن جاری ہیں۔علاوہ ازیں، 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے حملے ناکام بنا دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، فتنہ الہندوستان کے سپانسرڈ دہشت گردوں نے ایک بار پھر بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی مذموم کوشش کی۔ دہشت گردوں نے 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں تخریب کاری کی کارروائیاں کیں۔ سکیورٹی فورسز کی طرف سے کی گئی جوابی کارروائیوں میں تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 15 جوان اور 18 شہری بھی شہید ہوگئے۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، گوادر، پنجگور، تمپ، پسنی میں حملے کیے۔ بہادر سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو فوری جواب دیا اور ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔
پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کی لعنت کا سامنا کر رہا ہے جس نے نہ صرف ملکی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کیا بلکہ معیشت، سماجی ہم آہنگی اور عوام کے امن و سکون کو بھی متاثر کیا ہے۔ بھارت کے ایما پر پاکستان کے مختلف حصوں میں والی دہشت گردی کی یہ کارروائیاں صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہیں بلکہ معصوم شہری بھی ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ ہماری بہادر سکیورٹی فورسز ملک کے طول و عرض میں جوابی کارروائیاں کر کے دہشت گردوں کو نہ صرف کیفرِ کردار تک پہنچا رہی ہیں بلکہ عوام کو یہ پیغام بھی دیا جار ہا ہے کہ عساکرِ پاکستان اپنے وطن کی حفاظت کا فریضہ ادا کرنے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ سکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ہمہ وقت چوکنا ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
بلوچستان کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا بھی بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیموں کے نشانے پر ہے۔ ان علاقوں میں تخریب کاری کی کارروائیوں کا بنیادی مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا، عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ بھارت برسوں سے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ میں مصروف ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف دہشت گرد تنظیموں کو مالی، عسکری اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے۔ پاکستان نے متعدد بار بین الاقوامی فورمز پر ٹھوس شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا براہِ راست ہاتھ ہے۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن سدھیر یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری اس ضمن میں ایک ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ کلبھوشن یادیو نے اپنے اعترافی بیان میں پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے بھارتی ریاستی اداروں کی سرپرستی کا اعتراف کیا جس نے بھارت کے نام نہاد امن پسند چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔
بدقسمتی سے افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ افغانستان میں قائم طالبان کی عبوری حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیمیں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر تخریب کار گروہ، افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ افغانستان میں ان عناصر کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ انھیں اسلحہ، لاجسٹک سپورٹ اور نقل و حرکت کی سہولت بھی حاصل ہے۔ افغانستان میں عدم استحکام اور کمزور بارڈر مینجمنٹ نے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر رکھا ہے۔ یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ پاکستان بارہا افغان حکام پر زور دے چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔ تاہم عملی اقدامات کی کمی کے باعث دہشت گردی کا یہ سلسلہ مکمل طور پر رک نہیں سکا۔ اس تناظر میں افغانستان کا منفی کردار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
پاکستان کے غیور عساکر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوم کے محافظ وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت ہی آج پاکستان میں دہشت گردی کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم مکمل امن کے حصول کے لیے اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو ہر قسم کے اختلافات پس پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا اور قومی سطح پر مشاورت کر کے ان کمیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا ہوگی جو دہشت گردی کے ناسور کو پھیلنے میں مدد دے رہی ہیں۔ دہشت گردی کسی ایک جماعت یا صوبے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اور سب مل کر ہی اس سے نمٹ سکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ اگر عالمی برادری واقعی خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے تو اسے دوہرے معیارات ترک کرتے ہوئے بھارت کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کی پشت پناہی کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی روشنی میں بھارت کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔ اس سلسلے میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی سے آج تو پاکستان متاثر ہو رہا ہے لیکن یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی دہشت گردوں کی لگائی گئی آگ صرف پاکستان تک محدود رہے گی۔ بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں نے اگر اس سنجیدہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے پاکستان کا ساتھ نہ دیا اور بھارت کو لگام نہ ڈالی تو یہ سلسلہ عالمی امن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کا باعث بنے گا!بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں