
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل 13 جنوری 2026 کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا تھا، ”ایرانی محبِ وطن عوام احتجاج جاری رکھو اور اپنے اداروں پر قبضہ کرو، مدد راستے میں ہے۔‘‘
تاہم ایران میں شدید عوامی مظاہروں کے باوجود امریکہ کی جانب سے کسی عملی مدد کے آثار نظر نہیں آئے۔ امریکی صدر اپنے دعوؤں سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں اور اس بابت وہ کہتے ہیں کہ انہیں بریفنگ دی گئی ہے کہ ایران میں ہلاکتوں میں کمی آئی ہے اور اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ اس وقت اجتماعی پھانسیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو۔
اس کے برعکس اقوامِ متحدہ کے دیگر رکن ممالک اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل جمعے کے روز ایران میں مظاہرین کے خلاف ممکنہ طور پر’’خوفناک تشدد‘‘ کیے جانے پر غور کے لیے ایک خصوصی اجلاس منعقد کرے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ میں قائم ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کی ایک ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس کے مطابق، اب تک چار ہزار سے زائد ہلاکتیں دستاویزی شکل میں سامنے آ چکی ہیں، جن میں 150 سے زائد سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مزید 9 ہزار سے زیادہ اموات کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اندازوں کے مطابق اموات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مؤقف میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ بعض عرب ریاستوں کی جانب سے سفارتی دباؤ بھی بتایا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، قطر، عمان اور مصر کے نمائندوں نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کیے تاکہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کو روکا جا سکے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ان ممالک نے تہران پر بھی تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔
برلن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ مائنڈز سے وابستہ سیاسیات کی ماہر پولین رابی کے مطابق، ”خلیجی ریاستوں کے امریکی حملے کی مخالفت کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ ایک طرف وہ ایران کے کمزور رہنے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور دوسری جانب انہیں خدشہ ہے کہ کسی بھی حملے کے نتیجے میں تشدد قابو سے باہر ہو سکتا ہے اور وہ خود ایرانی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔‘‘
یہی خدشات ہیمبرگ میں جرمن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ سکیورٹی افیئرز کے ڈائریکٹر ایکارٹ ووئرٹز نے بھی ظاہر کیے۔ انہوں نے کہا، ”اگرچہ موجودہ حالات میں تہران میں حکومت کے خاتمے کا امکان کم ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو یہ بغیر تشدد ممکن نہیں۔ یہ تشدد صرف ایران میں نہیں تھمے گا بلکہ خلیجی ریاستوں کے خلاف بھی رخ اختیار کر سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔‘‘
ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کسی بھی مسلح تصادم کے سنگین معاشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ پولین رابی کے مطابق، ”اگر ایران نے تجارتی راستے، خاص طور پر خلیج فارس، بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے خلیجی معیشتوں اور عالمی تجارت پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘ انہوں نے بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے حملوں کی مثال دیتے ہوئے خبردار کیا کہ خلیج فارس میں ایسی صورتحال کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ووئرٹز کا ماننا ہے، ”خلیجی ریاستیں اس وقت معاشی تبدیلی کے اہم مرحلے سے گزر رہی ہیں، خصوصاً سعودی عرب اپنے ‘ویژن 2030‘ پر کام کر رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی بدامنی سرمایہ کاری، توانائی کی پیداوار اور سپلائی چینز کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘
آمرانہ طرز حکومت اور استحکام
ماہرین کے مطابق خلیجی ریاستیں خطے میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ آمرانہ طرزِ حکومت کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کسی نامعلوم سیاسی قوت کے ابھرنے کے بجائے موجودہ حکومتوں کے ساتھ کام کرنا زیادہ محفوظ راستہ ہے۔ ساتھ ہی وہ 2011 جیسے عوامی مظاہروں کے دوبارہ ابھرنے سے گریز کرنا چاہتی ہیں۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو
واپس کریں