دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ
 شرافت رانا ایڈووکیٹ
شرافت رانا ایڈووکیٹ
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا دیا جانا افسوسناک ہے ۔ آصف علی زرداری نے اپنے خلاف مقدمہ میں ضمانت قبل از گرفتاری کروائی ہوئی تھی ۔ اچانک وہ جج صاحب کے سامنے پیش ہوئے اور انہوں نے جج سے کہا کہ میں زندگی میں ہمیشہ عدالت کی عزت اور احترام کے لیے قربانی دیتا آیا ہوں ۔
میں نے عدالت کو عزت دلانے کے لیے پوری عمر جدوجہد کی ہے ۔ میں نے عدالت کو بااختیار بنانے کے لیے پوری عمر سرمایہ کاری کی ہے ۔
میں ملک میں ایسا جمہوری نظام رائج کرنے کے لیے قربانی دیتا رہا ہوں جس میں عدالت کا ہر فیصلہ حرف آخر ہو ۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج اس روز عدالتی نظام اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ میرے مخالف پر حاوی ہو جائے ۔
میں گزشتہ زندگی میں جو کچھ عدالت کو دے چکا ہوں اسے اپنی ذات کے لیے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دوں گا ۔
میرے دشمن آج کے دن عدالت سے زیادہ طاقتور ہیں اور وہ مجھے ہر قیمت پر گرفتار کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
میں اس پورے بوجھ سے عدالت کو بچانا چاہتا ہوں ۔ اس لیے میرے میں استدعا کرتا ہوں کہ میری درخواست قبل از گرفتاری ضمانت بصیغہ واپسی خارج کر دی جائے۔
میری وجہ سے عدالتی نظام پر اس قدر بوجھ نہ آئے کہ عدالت کے وقار اور عزت شہرت کو نقصان پہنچے ۔
کاش ایمان مزاری ان کی والدہ محترمہ اور ان کو چلانے والے لوگ اس پورے فلسفہ سے واقف ہوتے ۔
کاش ایمان مزاری جن دنوں طالب علم ہوتی تھیں اور قانون کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں ۔ ان دنوں پاکستان کی پاور ڈائنامکس کے بارے میں معلومات کے حصول کی جدوجہد کرتیں ۔
ایمان اور شیریں مزاری نے جسٹس بندیال ۔ منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ کے ایما پر اس عدالتی نظام کو بے حد کمزور کر کے مارا ہے ۔
جن دنوں عدالتی نظام عمران خان کو پارلیمان کی مخالف سمت میں چلا رہا تھا اور فوج پر غالب ہونے کا دعوی کرتا تھا ۔ ہم بار بار کہتے تھے کہ ایک وقت میں دو لڑائیاں لڑنا ممکن نہیں ہوا کرتا ۔
اگر ریاستی مقتدرہ پر قابو پانا ہے تو عدالتی نظام کو پارلیمان کے ساتھ ملنا ہوگا ۔
لیکن عمران خان کی محبت میں جسٹس بندیال اطھر من اللہ ۔ منصور علی شاہ اینڈ کمپنی نے عدالتی نظام کو وہاں جا کر مارا جہاں پینے کو پانی نہ ملے ۔
ممکن ہے کوئی اور صورتحال ہوتی تو بھی ایمان مزاری کو سزا ہو جاتی لیکن بطور فرسٹ افینڈر یعنی ایک ایسا ملزم جس نے زندگی میں مبینہ طور پر پہلا جرم سرزد کیا ہو اسے کسی بھی جرم میں زیادہ سے زیادہ سزا دینا عدالتی اور قانون کے فلسفہ کے متصادم ہے ۔
مبینہ ٹویٹس کے جرم پر ایمان مزاری کو جرمانہ یا محض اس کے وکالت کے لائسنس کی منسوخی کی سزا دے دی جاتی تو کافی ہوتی 10 سال قید با مشقت کا اعلان کرنا نامناسب ترین عدل گستری اور عدالتی اختیارات کا نامعقول استعمال ہے ۔
واپس کریں