دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران دشمنی میں ٹرمپ کی پوری دنیا کے ساتھ محاذ آرائی
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ حکم حتمی ہے اور اس اقدام کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ یہ اعلان محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر محاذ آرائی کی علامت ہے۔چین نے اس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ چینی وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جنگوں اور ٹیرف پالیسیوں کا کوئی فاتح نہیں ہوتا بلکہ اس طرح کے اقدامات عالمی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران سمیت دیگر ممالک کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تجارتی تعلقات جاری رکھیں گے۔ روس نے بھی ایران کے غیر ملکی شراکت داروں کو تجارتی محصولات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی امریکی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ادھر صدر ٹرمپ اب بھی ایران پر حملے کے حوالے سے اپنے بیان پر قائم ہیں۔جس کی روس کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے۔خود امریکہ کے اندر بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی زیرِ قیادت سینئر معاونین نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ کسی بھی حملے سے قبل سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔
امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ امریکی سفارت خانہ نے زمینی راستوں سے آرمینیا یا ترکی کے ذریعے نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے، جو حالات کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔اسی دوران قطر کے العدید ایئر بیس پر امریکی جنگی طیاروں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کے سی-135 ایئر ری فیولنگ ٹینکرز اور بی-52 اسٹریٹجک بمبار سمیت متعدد امریکی طیارے پرواز کر چکے ہیں، جنہیں ممکنہ حملے کی ریہرسل قرار دیا جا رہا ہے۔ العدید ایئر بیس ایران کی سرحد سے تقریباً 200 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف مختلف آپشنز پیش کیے ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام پر حملے، سائبر کارروائیاں اور اندرونی سکیورٹی نظام کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے اور بعض اقدامات چند دنوں میں ممکن ہو سکتے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں، اسی لیے اسرائیلی دفاعی فورسز بھی کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کسی بھی غلط قدم کے اثرات فوری اور وسیع ہوں گے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ دوبارہ فوجی آپشن کی طرف جاتا ہے تو ایران تیار ہے، تاہم دھمکیوں اور ڈکٹیشن کے بغیر مذاکرات کے لیے بھی آمادگی موجود ہے۔ ان کے مطابق ایران واشنگٹن کو اس وقت سنجیدہ اور منصفانہ مذاکرات کے موڈ میں نہیں دیکھ رہا۔صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ایرانی مظاہرین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دیں اور مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے حتیٰ کہ اداروں پر قبضہ کرنے جیسے بیانات دیے، جو ایک خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی کے مطابق اسرائیل کے ساتھ گزشتہ برس کا تنازعہ مسلح افواج کے لیے ایک منفرد تجربہ تھا اور گزشتہ چھ ماہ میں امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیاری کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج ایرانی فوج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باصلاحیت ہے۔روس نے ایک بار پھر ایران پر امریکی حملے کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں مصنوعی طور پر بھڑکائے گئے احتجاج اب ماند پڑ رہے ہیں اور حالات بتدریج استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔دوسری جانب برطانیہ، اٹلی اور جرمنی نے ایرانی سفیروں کو طلب کر کے مظاہروں کے دوران شہریوں کے خلاف تشدد پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ برطانوی حکومت نے مزید پابندیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں کو بیرونی حمایت حاصل تھی۔ ایرانی انٹیلی جنس کے مطابق مختلف علاقوں سے امریکی ساختہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے، جبکہ عباس عراقچی کے مطابق بیرونِ ملک سے دہشت گرد عناصر کو ہدایات دی جا رہی تھیں، جس کا مقصد قتل و غارت پھیلانا تھا۔
اسی دوران تہران کی آزادی چوک سمیت مختلف شہروں میں حکومت کے حق میں بڑے مظاہروں نے صورتحال کو بدل دیا۔ ان مظاہروں کے بعد حکومت مخالف تحریک کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایرانی حکومت کے مطابق ابتدائی احتجاج مہنگائی کے خلاف تھا، جس پر ریاست نے کیش ریلیف پیکج دیا، مگر بیرونی مداخلت نے حالات کو خراب کیا۔ عالمی سطح پر اس تمام صورتحال کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ نہ تو ایران پر حملے کے حوالے سے عالمی اتفاقِ رائے موجود ہے اور نہ ہی ٹرمپ کے حامی ممالک اس اقدام کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ خود امریکی انتظامیہ کے اندر بھی واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔صدر ٹرمپ خطے اور دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لے جا رہے ہیں جہاں اقوامِ متحدہ کی بے عملی اور عالمی قیادتوں کی خاموشی مزید خطرناک نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔ ایران کے آج کسی بھی مسلم ملک کے ساتھ تعلقات کشیدہ نہیں ہیں۔ ایک وقت تھا جب ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے دکھائی دیتے تھے، مگر ایران کی اعلیٰ قیادت اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی دوراندیشی پر مبنی سوچ اور دانشمندانہ حکمتِ عملی کے باعث آج دونوں ممالک ایک دوسرے کے اتنے قریب آ چکے ہیں جتنے قریبی دوست ہوا کرتے ہیں۔او آئی سی کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک مشترکہ، سنجیدہ اور مؤثر لائح? عمل ترتیب دے۔ اگر ٹرمپ نے اپنی دھمکیوں پر عمل کر لیا تو نہ صرف خطے کا امن تباہ و برباد ہو جائے گا بلکہ اس کے اثرات عالمی امن کے لیے بھی انتہائی ہلاکت خیز ثابت ہوں گے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں