احتشام الحق شامی
سوشل میڈیا ہویا نیشنل میڈیا آپ کو زیادہ تر خبریں ”سیاسی“ سننے اور پڑھنے کو ملیں گی اور زیادہ تر واہ واہ سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرنے پر دکھائی دے گی جبکہ اس وقت سب سے زیادہ اگر کوئی خبریں بننا ضروری ہیں تو وہ جنگ زدہ اور حساس صوبے خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے حالات سے متعلق ہیں جنہیں یا تو دبا دیا جاتا ہے یا پھر معمولی طور پر پیش کیا جاتا ہے جو شرمناک اور افسوسناک ہے۔دونوں صوبوں میں دہشت گردی، لاپتہ افراد، علیحدگی پسندی، سکیورٹی فورسز پر حملے، اور ترقیاتی پسماندگی جیسے سنگین مسائل دہائیوں سے چل رہے ہیں لیکن ہمارے میڈیا کی ترجیحات اور کوریج کا انداز ملاحظہ فرمائیں۔
مین سٹریم میڈیا (خصوصاً اردو چینلز) پنجاب، سندھ بلخوصوص کراچی اورلاہور کی سیاست، کرکٹ، اور سنسنی خیز سیاسی ڈراموں کو زیادہ کوریج دیتا ہے کیونکہ وہاں سے ویوز یاٹی آر پی زیادہ آتی ہے۔ آگے میں سلگتے ہوئے بلوچستان یا خیبر پختون خواہ کی خبروں کو عموماً ”بریکنگ“ کے طور پر دکھایا جاتا ہے مثلاً جب کوئی بڑا دھماکہ ہو اور بس جبکہ باقی دنوں میں کوریج انتہائی کم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ٹرینڈز زیادہ تر پنجاب اور سندھ کی سیاست بازی یا وائرل ویڈیوز سے بنتے ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختون خواہ وسائل سے مالا مال ہے مگر غریب ترین صوبے ہیں اور یہاں کے سرحدی علاقے شدید مسائل کا شکار ہے لیکن جب قومی میڈیا یاحکومت ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں اٹھاتی تو باقی ملک کے لوگوں کو بھی لگتا ہے کہ مذکورہ صوبوں میں سب اچھا ہے۔
ہمارے بے ضمیر سوشل اور قومی میڈیا کا یہ وہی بے ضمیر احساس ہے جو فلسطین، مقبوضہ کشمیر، شام یا افریقی ممالک کی خبروں کے ساتھ ہوتا ہے۔من حیث القوم بے غیرتی اور بے ضمیری ہمارے خون میں رچ بس چکی ہے۔
واپس کریں