
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بعض حلقے کچھ عرصہ پہلے تک امن کا علم بردار سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا تھے۔ ویسے تو غزہ میں سوا دو برس سے ناجائز صہیونی ریاست کی طرف سے جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ان کے لیے اسے امریکا کی طرف سے فراہم کی جانے والی جملہ امداد و اعانت کو ہی دیکھ لیا جائے تو اس غلط فہمی کا ازالہ ہو جاتا ہے لیکن جو کسر رہ گئی وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا میں کی جانے والی غیر قانونی کارروائی اور ایران اور گرین لینڈ کے مسئلے پر سامنے آنے والے جارحانہ بیانات نے پوری کردی۔ امریکی صدر کی ’عنایات‘ صرف مذکورہ تین ممالک تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی نہ کسی نام کا اضافہ کر کے دنیا پر یہ واضح کرتے ہیں کہ امریکا ایک بدمعاش ریاست ہے، لہٰذا اس سے کسی بھی صورت میں امن دوستی اور استحکام پسندی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
صورتحال اس حد تک بگڑی ہوئی ہے کہ امریکی اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق، صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی جا چکی ہے جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکانات پر غور شروع کیا گیا ہے۔ یہ غور و فکر ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملوں کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششوں کے ردعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ممکنہ کارروائی کا مقصد براہِ راست فوجی تنصیبات کے بجائے غیر فوجی اہداف ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی حکمتِ عملی سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب، ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں تہران اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو جوابی کارروائی کا جائز ہدف سمجھے گا۔ یہ وارننگ ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمان سے خطاب کے دوران دی۔ انھوں نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا اور اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حقیقت میں اسرائیل اور امریکا خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ جلائو گھیرائو کرنے والے آگ سے محفوظ رہیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا شرمناک بیان امریکی اور اسرائیلی عزائم ظاہر کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایران میں افراتفری اور بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔ امریکا اسرائیل اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایران میں فسادات کرا رہے ہیں۔ ایرانی عوام فسادیوں اور دہشت گردوں سے خود کو دور رکھیں۔ ایرانی عوام فسادیوں کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ ایرانی عوام کو یقین رکھنا چاہئے کہ ہم انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر، ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد65 ہو گئی ہے جن میں 15 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک ڈھائی ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جن میں سے تہران کے قریب سے 100 مسلح فسادی بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں لیکن فسادیوں سے سختی سے نمٹیں گے اور املاک تباہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔
ایک طرف امریکا ایران میں گڑبڑ کر رہا ہے تو دوسرا محاذ شمالی امریکا میں واقع ڈنمارک کے زیر انتظام علاقے گرین لینڈ میں کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی سربراہ کو حکم دیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کریں۔ تاہم سینئر امریکی فوجی گرین لینڈ پر حملے کے منصوبے کے مخالف ہیں اور صدر ٹرمپ کی توجہ نسبتاً کم متنازع سمجھے جانے والے امور کی جانب کرائی جارہی ہے جن میں روس کے گھوسٹ جہازوں کو سمندروں میں روکنا یا ایران پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔ اخبار کے مطابق، امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے نزدیک گرین لینڈ پر حملہ غیرقانونی ہوگا اور کانگریس اس کی حمایت نہیں کرے گی۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹرز کی توجہ ملک کی معاشی صورتحال سے ہٹا کر گرین لینڈ کی جانب کرنا چاہتے ہیں۔اخبار کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ برطانوی وزیراعظم سے کھلا اختلاف ہوگا اور اس صورت میں نیٹو اتحاد ٹوٹ جائے گا۔
امریکی صدر نے کیوبا کے بارے میں بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ کیوبا کے پاس اب مزید تیل اور سرمایہ نہیں جائے گا۔ کیوبا کو مشورہ دیتا ہوں ڈیل کر لے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ اس صورتحال یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی صورتحال پیدا کر رہے ہیں جس کے ممکنہ نتائج تیسری جنگِ عظیم کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور امریکا کو کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دیں گے جس کے نتیجے میں دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو جائے۔ اقوامِ متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل خاموش تماشائی بن کر یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں ادارے عملی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں، لہٰذا ان کی طرف سے امریکا جیسے طاقتور ملک کے خلاف کسی ٹھوس اقدام کی توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی۔ اندریں حالات، دنیا کے اہم اور طاقتور ملکوں کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور امریکی جارحیت کا علاج کرنے کے لیے کوئی قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنا چاہیے، صرف اسی صورت دنیا کو امریکا کی جارحیت سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔
واپس کریں