دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کا تجارتی خسارہ 41فیصد بڑھ کر نو ارب ڈالر سے زائد ہو گیا
No image سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران خطے کے نو ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 41فیصد بڑھ کر نو ارب ڈالر سے زائد ہو گیا ہے‘ جو گزشتہ برس چھ ارب 36کروڑ ڈالر تھا۔ اس مدت میں علاقائی ممالک کو دو ارب 30کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد جبکہ 12ارب ڈالر سے زائد کی اشیا درآمد کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ علاقائی تجارت کا توازن واضح طور پر درآمدات کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافے کا یہ رجحان وقتی یا اتفاقی نہیں بلکہ گزشتہ کئی سال سے تسلسل کے ساتھ جاری ہے‘ جس پر حکومتی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر کنٹرول کے بغیر نہ تو تجارتی خسارے پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی معیشت کو ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے حکومت کو اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور اقتصادی مواقع کی وجہ سے علاقائی تجارت میں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ضروری ہے کہ تجارتی توازن کو اپنے حق میں کرنے کیلئے قابلِ تجارت مصنوعات کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ خام مال کی تجارت کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات سے بھی برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارے میں کمی کی جا سکتی ہے۔
واپس کریں