دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دہشت گردی کی نئی لہر
No image خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں گزشتہ روز دہشت گردوں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کر کے ڈی ایس پی اور چار اہلکاروں سمیت سات افراد کو شہید کر دیا۔ دوسری جانب ڈی آئی خان اور بھکر کے درمیان داجل چیک پوسٹ پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں چار اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعات دہشت گردی کی اسی لہر کا تسلسل ہیں جس میں سکیورٹی فورسز‘ بالخصوص پولیس اہلکار دہشت گردوں کے خصوصی نشانے پر ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں خیبر پختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ایک نئی اور منظم حکمت عملی سامنے آئی ہے اور دہشت گرد آئے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔ 11 فروری کو ٹانک اور 12 جنوری کو لکی مروت میں دہشت گردوں کے حملے میں دو ایس ایچ او شہید ہوئے‘ گزشتہ برس اکتوبر میں ہنگو میں ایس پی آپریشنز کو نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔ یہ واقعات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ دہشت گرد اب گھات لگا کر وار کر رہے ہیں اور ان کا بنیادی ہدف وہ سکیورٹی ادارے ہیں جو عوام اور دہشتگردوں کے درمیان دیوار بنے کھڑے ہیں۔
اگر گزشتہ تین برسوں کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا کے 500 سے زائد پولیس اہلکار دہشتگرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس پولیس پر ہونیوالے حملوں میں 50 فیصد سے زائد کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی طور پر 536 حملوں میں پولیس کی چوکیوں‘ موبائل ٹیموں اور اعلیٰ افسران کو نشانہ بنایا گیا۔ دیکھا جائے تو ان حملوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب خطے میں جیو سٹرٹیجک تبدیلیاں رونما ہوئیں اور دہشت گردوں کو سرحد کے اُس پار محفوظ پناہ گاہیں میسر آئیں۔ حالیہ عرصے میں دہشت گردی کی لہر میں شدت کی ایک بڑی اور تکنیکی وجہ دہشت گردوں کے پاس موجود جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی ہے۔ دہشت گرد اب روایتی ہتھیاروں کے بجائے جدید تھرمل امیجنگ اور نائٹ ویژن ہتھیار استعمال کر رہے ہیں‘ جبکہ پولیس اہلکار ان جدید آلات سے محروم ہیں۔ اس تکنیکی برتری نے دہشت گردوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ دور سے اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنائیں۔
ان حالات میں ناگزیر ہو چکا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی روح کے مطابق پولیس کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ روایتی پولیس کلچر اور پرانے ہتھیاروں کے ساتھ دہشت گردی کی اس جدید لہر کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا‘ نہ ہی پولیس کو اب ایک روایتی امن وامان برقرار رکھنے والی فورس کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس‘ جو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر ہے‘ کو اب وہ تمام جدید وسائل‘ تھرمل کیمرے‘ نائٹ ویژن چشمے‘ بلٹ پروف گاڑیاں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے جدید آلات فراہم کرنا ہوں گے جو ان کے مدمقابل دشمنوں کے پاس موجود ہیں۔ جب تک پولیس کی جنگی صلاحیتوں کو بہتر نہیں بنایا جاتا تب تک اس نئی لہر پر قابو پانا مشکل ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ صوبائی پولیس اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے‘ اسے مضبوط بنانا داخلی سکیورٹی کا ناگزیر تقاضا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں پشاور میں منعقدہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں صوبائی حکومت‘ فوج اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ‘ سیاسی استحکام اور معاشی بحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ ضروری ہے کہ ایپکس کمیٹی میں طے کردہ نکات کے تحت دہشت گردی کے خلاف ایک منظم اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون اور تعامل کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔
واپس کریں