دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ٹرمپ کا عالمی قوانین کو نہ ماننے اور کہیں بھی حملہ کرنے کا اعلان
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری دنیا پر امریکی برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے اور ماسوائے ان کی اپنی اخلاقیات کے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں نہیں روک سکتی۔ گذشتہ روز نیویارک ٹائمز اور دوسرے عالمی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی سلامتی سب سے عزیز ہے۔ امریکہ روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہوجائے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔ ان کے فیصلے کسی بین الاقوامی قانون کے تابع نہیں۔ اس کے لیئے گرین لینڈ اور وینزویلا کی مثالیں دنیا کے سامنے ہیں۔ "میں امریکہ کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیئے کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے میں آزاد ہوں۔ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا فیصلہ ہے"۔ خدائی دعوے پر مبنی ٹرمپ کے اس اعلان پر دنیا بھر میں سخت ردعمل کا اظہار سامنے آرہا ہے۔ جرمن صدر فرینک والٹرسٹین نے کہا کہ امریکہ نظام کو تباہ کررہا ہے، دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں بدلنے سے بچایا جائے۔ اسی طرح ڈنمارک کے صدر نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم گولی پہلے ماریں گے اور سوال بعد میں کریں گے۔ ایران پر اسرائیلی حملے اور ٹرمپ کی ایران کو دھمکیوں کے باعث امریکہ ایران کشیدگی پہلے ہی علاقائی اور عالمی امن کے لیئے سنگین خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے جبکہ امریکہ روس ایٹمی معاہدہ ٹوٹنے کی بھی پرواہ نہ کرنے کا عندیہ دے کر امریکی صدر "جس کی لاٹھی اس کی بھینس" کے تصور کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں آج عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں انہوں نے دنیا کے تمام ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کے اختیار کا دعویٰ کیا، عالمی قوانین کو ماننے سے انکار کیا اور ایٹمی معاہدوں کو غیر اہم قرار دیا، دراصل ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو طاقت کے نشے میں انسانیت، اخلاقیات اور عالمی امن کو روندنے پر تُلی ہوئی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی صدر نے جارحانہ زبان استعمال کی ہو، فرق صرف یہ ہے کہ اس بار یہ بیانات محض دھمکی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ساتھ جڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وینزویلا پر حملہ، اسرائیل کی غیر مشروط سرپرستی، بھارت کی پشت پناہی، ایران کو کھلی وارننگز، چین کو دھمکیاں اور روس کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو ختم کرنے کا عندیہ، یہ سب اس امر کی علامت ہیں کہ امریکہ خود کو عالمی نظام سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔ٹرمپ کا یہ کہنا کہ “صرف میری اخلاقیات ہی مجھے روک سکتی ہیں” دراصل پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ایک فرد کی “ذاتی اخلاقیات” کو عالمی امن کا ضامن بنا دیا جائے تو پھر اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، ایٹمی معاہدات اور بین الاقوامی قوانین کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ یہ سوچ عالمی نظام کو جنگل کے قانون میں بدلنے کے مترادف ہے جہاں طاقتور ہی حق پر ہوتا ہے۔
جرمن صدر کا امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنا اور ڈنمارک کا سخت ردعمل ظاہر کرنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یورپ بھی اب امریکہ کی غیر ذمہ دارانہ قیادت سے خوفزدہ ہے۔ ایران کے صدر کی وارننگ بھی محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس اضطراب کی علامت ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتا ہے۔ چین اور روس جیسی ایٹمی طاقتوں کو براہ راست دھمکانا گویا آگ کے ڈھیر پر ماچس پھینکنے کے مترادف ہے۔ٹرمپ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے دورِ صدارت میں چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ یقین دہانی عالمی امن کی ضمانت ہے یا طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی ایک اور کوشش؟ اگر امریکہ خود عالمی معاہدوں کو روندتا رہے گا تو پھر دوسرے ممالک کو کس اخلاقی بنیاد پر روک سکے گا؟
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ امریکی قیادت اقوام متحدہ سمیت کسی عالمی ادارے کی حیثیت تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اسی لیے قائم کی گئی تھی کہ دنیا دوبارہ عالمی تباہی کا شکار نہ ہو۔ اگر امریکہ جیسے بڑے ملک کی جانب سے اس ادارے کو بے وقعت بنا دیا گیا تو پھر چھوٹے ممالک کے لیے انصاف، خودمختاری اور بقا کی کیا ضمانت باقی رہ جائے گی؟اس صورتِ حال میں یہ سوال بھی شدت کے ساتھ ابھر رہا ہے کہ کیا دنیا کو ٹرمپ کے اقدامات کو “خدا کی رضا” سمجھ کر خاموشی سے اپنی تباہی کا انتظار کرنا چاہیے؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم، جبر اور جارحیت کبھی خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ اگر عالمی قیادتوں نے امریکی عزائم کے آگے بروقت بند نہ باندھا تو یہی تکبر، یہی عسکری جنون اور یہی عالمی قوانین کی نفی تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور یہ جنگ روایتی نہیں بلکہ ایٹمی جنگ ہوگی، جس میں کوئی فاتح نہیں ہوگا کیونکہ اس روئے زمین پر انسانوں اور چرند پرند سمیت ہر ذی روح کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔
ایٹمی ماہرین بار بار خبردار کر چکے ہیں کہ محدود ایٹمی تصادم بھی عالمی درجہ حرارت، خوراک کے نظام اور انسانی بقا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ایسے میں کسی ایک شخص یا ریاست کو یہ حق دینا کہ وہ دنیا کے مستقبل کا فیصلہ کرے، سیدھی خودکشی کے مترادف ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادتیں محض بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ ٹرمپ کی دنیا کو تہس نہس کرنے والی سوچ کا پھیلاؤ روکنے کے لیئے عملی اور مؤثر سفارتی، سیاسی اور قانونی اقدامات اٹھائیں۔ اقوام متحدہ کے علاوہ یورپی یونین، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم، افریقی یونین اور لاطینی امریکی ممالک کو بھی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کو محض قراردادوں کی فیکٹری نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں عالمی امن کا ضامن بنانا ہوگا۔بالخصوص ایٹمی ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی فورمز پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خلاف اور عالمی قوانین کی بالادستی کے لیئے واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کریں۔ ہمیں کسی بلاک کی اندھی تقلید کے بجائے اصولی موقف اپنانا ہوگا کہ یہ دھرتی کسی ایک طاقت کی جاگیر نہیں بلکہ اقوام عالم کی مشترکہ دھرتی ہے۔ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل شاید بولنے کے لیے کوئی محفوظ شہر، کوئی مستحکم ریاست اور شاید کوئی منظم انسانی معاشرہ باقی نہ رہے۔ عالمی قیادتوں کو چاہیے کہ وہ طاقت کے اس جنون کے آگے دیوار بنیں، نہ کہ محض خاموش تماشائی بن کر دنیا کی تباہی کا انتظار کریں۔ اس حوالے سے یہی تجسس ابھر رہا ہے کہ کیا انسانیت اپنی بقا کے لیے کھڑی ہوگی یا تاریخ ایک بار پھر یہ جتائے گی کہ دنیا نے چند طاقتور ہاتھوں میں اپنی تقدیر دے کر خود اپنے انجام پر مہر ثبت کی ہے۔ اس کے لیئے عالمی قیادتوں کو جو بھی سوچنا اور کرنا ہے وہ آج ہی کرنا ہے کیونکہ کل شاید فیصلہ کرنے والا بھی کوئی نہ بچے۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں