
سٹیفن مِلر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف سٹاف ہیں، یہ پالیسی اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے معاملات پر ٹرمپ سرکار کے دستِ راست شمار ہوتے ہیں۔وینزویلا میں حالیہ امریکی کارروائی کے بعد امریکی عزائم جاننے کے لیے ان کا تازہ بیان انتہائی قابلِ غور اور معنی خیز ہے۔ یہ وہی سٹیفن ملر ہیں جنہیں گرین لینڈ ہتھیانے کے پلان کا اصل کاریگر سمجھا جاتا ہے،ان کا تازہ بیان دیکھا، بیان کیا تھا درحقیقت امریکہ کی تازہ مشن سٹیٹمنٹ تھی۔سی این این نے لکھا کہ امریکہ کے گلوبل کردار کے لیے یہ عہد ساز تبدیلی ہے۔ موصوف کا فرمان تھا کہ اب Strength, Force and Power ہی کےذریعے دنیا کے معاملات چلائیں گے۔جیک ٹیپر کے ساتھ گفتگو میں سٹیفن ملر نے اس کی تشریح کچھ یوں کی:
We live in a world in which you can talk all you want about international niceties and everything else, But we live in a world, in the real world … that is governed by strength, that is governed by force, that is governed by power.
سچی بات ہے ان جملوں کر انگریزی زبان میں پڑھنے کے بعد اردو ترجمے کی ہمت نہیں رہی۔ دنیا کیسے چلتی ہے؟ مفکرین کیا فرما گئے؟ فلسفی کہاں کھپتے رہے؟ سفارتکاری کس چڑیا کا نام تھا؟ مغربی جمہوریت کون سا حسین خواب تھا؟ روایتی اور غیر روایتی ابلاغ میں کیا فرق تھا؟ سب مدعے ہَوا ہوئے۔ یہ واقعی ایک نئی دنیا ہے۔
سیاست سے لے کر صحافت تک ہر سو ہر جا، کچھ ایسا برپا ہو رہا ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی تھی۔ کیوبا، کولمبیا، ایران، اور گرین لینڈ کو واضح ’حکمنامے‘ جاری کرتے ہی ٹرمپ سرکار کی مشن سٹیٹمنٹ کے عین مطابق امریکی اداروں نے کھلے پانیوں میں روسی تیل بردار جہاز قبضے میں لے لیے۔
امریکی حکام برملا بتا رہے ہیں کہ امریکی پابندیوں والے تیل کو خریدنے یا اس کی ترسیل کی اجازت نہیں ہوگی۔ عملی طور پر جہاز قبضے میں لے کر مشن سٹیٹمنٹ کا احیا ہی تو کیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کو ہی دیکھ لیں، موصوف نے خود ٹروتھ سوشل پر کہہ دیا کہ وینزویلا سے اب 30 سے 50 ملین بیرل اعلی کوالٹی تیل امریکہ کو دیا جائے گا۔ یہ تیل مارکیٹ کی قیمت کے مطابق بیچا جائے گا اور اس سے حاصل شدہ رقم میری صوابدید میں ہوگی بلکہ لکھا کہ وہ رقم میرے کنٹرول میں ہوگی۔ صدر امریکہ کے طور پر یہ میری ذمہ داری ہوگی کہ میں اس رقم کو امریکی اور وینزویلا کی عوام کے مفاد میں خرچ کروں۔
حیرت ہوئی جب کچھ مفکرین ٹرمپ کی تیل پر نظر کے خیال سے مسلسل انکاری رہے۔ ٹرمپ سرکار کے اس دو ٹوک اعلان کے بعد اب آپ ہی بتائیے کہ کون سے ورلڈ آرڈر کی تھیوری باقی ہے جس پر اہل دانش نے مزید دماغ خرچ کرنا ہے؟
یہ کہانی سادہ سی ہوچکی۔ مشن سٹیٹمنٹ واضح ہے۔ گرین لینڈ سے کیا چاہیے؟ گرین لینڈ جو دنیا کا سب سے کم گنجان آباد ملک ہے، پاکستان سے تقریباً تین گنا زائد رقبہ، تیل گیس اور رئیر ارتھ منرلز سے مالا مال ہے۔
کیا یہی کافی ہے؟ نہیں! گرین لینڈ ہتھیانے سے امریکہ بہادر جغرافیائی طور پر سیدھا یورپ اور روس کے اوپر نظر رکھنے میں کامیاب ہوگا۔
وینزویلا کے خلاف کارروائی دراصل اب محض ایک مثال ہے۔ ظاہر ہے اس کے اثرات دور رس ہوں گے لیکن پیغام بالکل واضح ہے یعنی: جو ممالک نئی گیم میں اہمیت حاصل کر چکے ہیں، ان کے لیے الگ اصول ہوں گے، اور جو ماڑے یا محکوم یا کمزور سمجھے جاتے ہیں، ان کے لیے الگ۔ مقامی سطح پر سیاسی ہوں یا غیر سیاسی مخالفین، ان سے کیسے نمٹنا ہے، تازہ واردات نے اس کی عملی شکل دنیا کے سامنے رکھ دی ہے۔
اقوامِ عالم کا شور، گلہ شکوہ اور سفارتی دباؤ کس کے لیے مؤثر ہے اور کس کے لیے محض رسمی بیانات؟ یہ حقیقت بھی اب پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کی حیثیت ایک بار پھر محدود اور علامتی سی ہوچکی۔ فیصلے بند کمروں میں اور کھلی طاقت کے زور پر ہو رہے ہیں۔
ایسے میں یہ سوال کہ یہ تازہ فارمولا مزید کہاں کہاں استعمال ہوگا؟ اب غیر ضروری ہوچکا۔ روس اور چین نے براہِ راست ٹکراؤ سے فوری گریز کیا ہے لیکن ظاہر ہے ان کی طاقت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ چُپ نہیں رہیں گے۔
کچھ یورپی ماہرین کے مطابق اب انفرادی طور پر کوئی بڑی قوت خود براہِ راست امریکہ سے ٹکر لینے کے بجائے نئے اتحاد بنانے کو ترجیح دے گی اور ان کے ذریعے ٹرمپ کی فیلڈنگ کمزور کی جائے گی۔
طاقت، توانائی، ٹیکنالوجی، معیشت اور علاقائی اتحاد، یہی وہ نئی گیم ہوگی جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کی سمت متعین کرے گی۔
کہانی کا مجموعی انجام البتہ خوش آئند نہیں۔ اس نئے ورلڈ آرڈر کے اثرات دنیا بھر کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے، خاص طور پر اُن ممالک کے لیے جو نہ تو طاقتور بلاکس کا حصہ ہیں اور نہ ہی فیصلوں کی میز پر موثر آواز کے حامل۔
یہ دنیا اب اُصولوں پر نہیں، طاقت کے ترازو پر تولی جا رہی ہے اور یہی اس نئے عالمی نظام کی سب سے تلخ حقیقت ہے۔
واپس کریں