دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وینزویلا علاقہ کئی دہائیوں سے عالمی توانائی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے
No image وینزویلا دنیا کا وہ ملک ہے جس کے پاس تیل کے سب سے زیادہ ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں، جن کی مقدار 303 بلین بیرل سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ ذخائر دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک، حتیٰ کہ سعودی عرب سے بھی زیادہ ہیں۔ وینزویلا کے زیادہ تر تیل کے ذخائر اورینوکو آئل بیلٹ میں پائے جاتے ہیں، جو ملک کے مشرقی حصے میں واقع ایک وسیع علاقہ ہے۔ یہ علاقہ کئی دہائیوں سے عالمی توانائی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
تاہم وینزویلا کے تیل کی ایک بڑی خاص بات یہ ہے کہ اس کا زیادہ تر حصہ بھاری خام تیل (Heavy Crude Oil) پر مشتمل ہے۔ یہ تیل عام خام تیل کے مقابلے میں زیادہ گاڑھا ہوتا ہے، جسے نکالنا، صاف کرنا اور ریفائن کرنا نہ صرف مشکل بلکہ مہنگا بھی ہے۔ اسی وجہ سے جدید ٹیکنالوجی اور بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پڑتی ہے، جو وینزویلا اس وقت پوری طرح فراہم نہیں کر پا رہا۔
اگرچہ ملک کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل موجود ہیں، مگر معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام، امریکی پابندیاں، اور انتظامی مسائل کی وجہ سے تیل کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے۔ 1990 کی دہائی میں وینزویلا روزانہ 30 سے 35 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جبکہ آج یہ پیداوار کم ہو کر تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ تک رہ گئی ہے، جو اس کے وسائل کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
وینزویلا کی تیل کی صنعت مکمل طور پر سرکاری کمپنی Petróleos de Venezuela, S.A. (PDVSA) کے زیرِ انتظام ہے۔ یہ کمپنی ایک وقت میں لاطینی امریکا کی سب سے طاقتور آئل کمپنی سمجھی جاتی تھی، مگر بدانتظامی، کرپشن، ماہر افرادی قوت کی کمی اور سرمایہ کاری کے فقدان نے اسے کمزور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر وینزویلا میں سیاسی استحکام آ جائے، عالمی پابندیاں نرم ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری بحال ہو جائے تو یہ ملک ایک بار پھر عالمی تیل کی منڈی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر نہ صرف اس کی معیشت کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی میں بھی بڑا فرق ڈال سکتے ہیں۔
واپس کریں