
میاں عامر نے تین ماہ پہلے اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک کے سامنے ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجویز رکھی۔ ملک کو ترقی دلانے کے لئے صوبوں کو تقسیم کر کے ایک درجن سے زیادہ صوبے بنانے کا فارمولہ پیش کیا۔ اس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز نے اس موضوع پر رائے عامہ بنانے کا کام شروع کیا۔انوکھے لاڈلے اس بار چاند نہیں صوبوں سے کھیلنا چاہ رہے ہیں۔ تاکہ وہ انہیں توڑیں۔ انہیں یہ گمان ہے کہ ٹکڑے ہونگے تو ترقی ہوگی، ملک کی پینتالیس فیصد آبادی جو اس وقت غربت کی آگ میں جل رہی ہے، ذلت سے نکل کر خوشحال بن جائے گی۔
پانچ کروڑ کے قریب بجلی سے محروم لوگ اپنی کٹیا روشن کر سکیں گے۔ ذلت والی زندگی عزت میں تبدیل ہو جائے گی۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں زیادہ نہیں تو کم از کم ایک درجن ہی سہی، صوبے تو بناؤ، کیونکہ پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی یہ چار صوبے ہیں۔ اگر چالیس بن جائیں تو کیا ہی بات ہو۔
لیکن خواہشوں کا کیا ہے۔ اگر یہ پوری ہوتیں تو کون فقیر رہتا، کون فہم سے بانجھ ہوتا۔
لاڈلوں کو نہیں معلوم کہ تاریخ ایک آئینہ ہوتی ہے۔ جس میں دیکھنے کے لئے دل گردہ چاہیے ہوتا ہے۔
اٹھہتر سال پہلے اس خطے میں رہنے والی قوموں نے اپنے وطنوں کو ملا کر ایک فیڈریشن کی شکل دی۔ لیکن بنگالی پہلے دن ہی پسند نہ آئے۔
قیامِ پاکستان کے کچھ ماہ بعد جب جناح صاحب نے ڈھاکہ میں حکم صادر کیا کہ قومی زبان تو اردو ہی ہوگی۔ بنگالی بھڑک اٹھے۔ کہا کہ جس زبان کا ان کے خطے سے لینا دینا نہیں وہ آپ ہم پر کیسے مسلط کر سکتے ہیں۔
سلسلہ وہیں سے شروع ہوا۔ اکثریت سے جان چھڑانا تھی، لاڈلے کامیاب رہے۔ البتہ جوش میں آ کر خون کچھ زیادہ ہی بہا دیا۔ لیکن حوصلہ اتنا، کہ کبھی ندامت کی نوبت ہی نہ آئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ حالیہ تاریخ ہے۔
یہ کون نہیں جانتا کہ اس خطے میں سندھ وطن، پنجاب وطن، پشتون وطن، بلوچ وطن اپنی زمین، زبان، کلچر رکھتے تھے۔ اور اب بھی رکھتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں سندھ کا کیس مکمل طور پر انفرادی ہے۔ جس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔
لیکن پہلے بات ہو جائے دنیا ٹی وی کے مالک میاں عامر کی۔ جنہوں نے تین ماہ پہلے اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک کے سامنے ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجویز رکھی۔ ملک کو ترقی دلانے کے لئے صوبوں کو تقسیم کر کے ایک درجن سے زیادہ صوبے بنانے کا فارمولہ پیش کیا۔
اس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز نے اس موضوع پر رائے عامہ بنانے کا کام شروع کیا۔ کچھ ٹی وی مالکان نے بھی کھلے بندوں اس حمایت کی۔
اسٹیبلیشمنٹ کے قریبی لوگ اب اس تجویز کی کھلی وکالت کر رہے ہیں۔ تاجروں کی بڑی تنظیم کے سربراہ سے کراچی میں پریس کانفرنس کرا کر نئے صوبے بنانے کا مطالبہ کرایا گیا اور اس پریس کانفرنس کو لائیو دکھانے کے لئے تمام ٹی وی مالکان کو ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ پی ٹی وی کو روکا گیا کہ کہیں یہ تاثر نہ جائے کہ سرکار اس کے پیچھے ہے۔
اگر تھوڑی دیر تصور کر لیا جائے کہ واقعی ملک میں درجنوں صوبے بن جائیں تو کیا منظرنامہ ہوگا؟
کیا صوبے بنانے سے پہلے صوبوں کی عوام کا کوئی ردعمل آئے گا؟ اگر آئے تو اس میں صوبوں کے اندر موجود حکمران اور اپوزیشن جماعتیں کیا موقف اختیار کریں گی؟
لیکن پہلا سوال تو یہ ذہن میں آتا ہے کہ اچانک یہ شوشہ کیوں چھوڑا گیا ہے۔
بہت سارے لوگ سوچ رہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں صوبوں کو ٹکڑے کر کے نئے صوبے بنانا کیسے ممکن ہے۔ جب آئین کے اندر صوبوں کی حدود کو تبدیل کرنے میں صوبائی اسمبلیوں کا فیصلہ کن کردار ہو۔
صوبائی حدود آئین کے تحت کیسے تبدیل ہوتی ہیں، اس پر بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر لاڈلے کیوں صوبوں کی حدود کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
اٹھارھویں ترمیم سے پہلے وفاق مائی باپ ہوا کرتا تھا لیکن اس ترمیم کے بعد صورتحال مکمل الٹ ہو گئی۔ صوبے مالی طور پر مستحکم ہو گئے، اپنے اپنے ترقیاتی منصوبے بنائے، مکمل کیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو گرانا مشکل کام بن گیا۔
اس درمیان سیاسی جماعتوں نے لوکل باڈیز کو جان بوجھ کر کمزور کیا تاکہ عام آدمی ان کے محتاج رہیں۔ تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو چلے گئے۔ اب وفاق پریشان ہے کہ اپنے اخراجات کیسے پورے کرے۔ غیر ملکی قرضہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ آدھا بجٹ صرف سود اور اقساط کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ دفاعی بجٹ اس کے علاوہ ہے، باقی جو کچھ بچتا ہے اس سے پورا ملک چلایا جاتا ہے۔
یہ بحث الگ کہ کس صوبے نے اپنی عوام کے لئے کیا کیا، لیکن وفاقی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ ایک بڑے عرصے سے اس کوشش میں رہے کہ اٹھارھویں ترمیم کو رول بیک کیا جائے لیکن وہ ناکام رہے۔
سبب یہ تھا کہ وفاق میں جو بھی حکومتیں رہیں، ان کی صوبوں میں بھی حکومتیں تھیں، اور وہ اس ایجنڈے کو مکمل کرنے میں بھی رکاوٹ رہیں۔
ایک عرصے سے وفاقی حکومت اور اس کا بیوروکریٹک ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ بے انتہا مراعات لیکن کارکردگی زیرو۔
اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ بھی بے اثر ہوتے ہوتے اس حد تک پہنچ گئی کہ اب نہ اس کا جمہوریت کے ساتھ کوئی تعلق ہے نہ قانون سازی کے ساتھ کوئی سروکار، جو کاغذ دیے جاتے ہیں اور جو کہا جاتا ہے وہ کر دیا جاتا ہے۔
ابھی تک تو یہ کہا جارہا ہے کہ 27ویں ترمیم ایک مکمل پیکج ہوگا۔ جس میں آئین کے آرٹیکل 239/4 میں تبدیلی بھی شامل ہوگی۔
اس آرٹیکل میں صوبائی حدود تبدیل کرنے کا طریقہ درج ہے۔ جس کے تحت کوئی بھی صوبائی اسمبلی اپنی حدود کو تبدیل کرنے کے لئے دو تہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کرے گی اور اس کے بعد وہ اسے وفاق کو بھیج دے گی۔ قومی اسمبلی اسے آئینی ترمیم کی صورت میں دو تہائی اکثریت سے منظور کرے گی، جس کے بعد سینیٹ بھی یہی طریقہ اختیار کرے گا۔ عموماً کسی بھی آئینی ترمیم کے بعد صدر اس بل پر دستخط کرتے ہیں لیکن صوبے کی حدود والی ترامیم میں یہ بل صدر کے پاس جانے سے پہلے ایک بار پھر صوبائی اسمبلی جائے گا اور اس کی منظوری کے بعد صدر اس پر دستخط کریں گے۔
اب جو پلان ہے وہ یہ کہ صوبائی حدود میں تبدیلی کا اختیار صوبائی اسمبلی سے وفاق کی طرف چلا جائے گا۔ جس کے بعد نئے صوبے بنانے کے لئے صوبائی اسمبلی کی رضامندی کا اختیار ختم کر دیا جائےگا۔
ممکن ہے کہ پنجاب راضی ہو جائے۔ پختونخوا میں فاٹا اور ہزارہ صوبے پر بھی کوئی زیادہ پریشانی نہیں ہے۔ بلوچستان میں تو اس وقت ایک جنگی صورتحال ہے، وہاں اگر پشتون بلوچ تقسیم ہوتی ہے تو یہ مقامی سطح پر لوگوں میں مزید نفرتیں بڑھانے کا سبب بنے گی۔ لیکن سندھ کی صورتحال تینوں صوبوں سے مکمل طور پر مختلف ہے۔
سندھ کے خدشات دہائیوں کے ہیں، پانی تقسیم میں بے انصافی، اسٹیبشلمنٹ کی طرف سے ایسی جماعتوں کی پذیرائی کرنا جو سندھ کی تقسیم کی شدید خواہش رکھتی رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کے ہاتھ سے زمینیں لیکر رٹائرڈ فوجیوں کو دینا۔ ون یونٹ نافذ کر کے صوبے کی شناخت ختم کرنا، وفاقی ملازمتوں میں استحصال کرنا، ضیا دور میں جس طرح دیہاتوں پر بمباریاں کی گئیں وہ کوئی پرانی باتیں نہیں ہیں۔ تقسیم کے وقت کس طرح زبان اور شہروں کو چھینا گیا یہ ایک الگ کہانی ہے۔
سات دہائیوں کی اس ہزار داستان نے بے اعتباری کو زیادہ بڑھا دیا ہے۔
یہی سبب ہے کہ سندھ میں ایک اجتماعی سیاسی سوچ وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی گئی ہے۔ وہ اپنے کلچر، دریا، زبان اور صوبائی حدود پر کوئی دلیل سننے کے لئے تیار نہیں۔ مشرف دور میں کالاباغ ڈیم یا حال ہی میں نہروں کی تعمیر کا معاملہ ہو، وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اندازہ ہو گیا کہ عوام کا شدید ردعمل کتنا خوفناک ہوتا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ سندھ میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث شروع ہوگی تو یہ ایک نئے جھگڑے میں تبدیل ہو جائے گی۔ کیونکہ ایم کیو ایم خود بھی چاہتی ہے اور اسے اس بار تو مفت کا مینڈیٹ اسی لئے دیا گیا ہے تاکہ اسے جو کہا جائے وہ کر لے۔
سندھ میں جتنی بھی صوبائی اور وفاقی جماعتیں سیاست کر رہی ہیں ان جماعتوں کو بھی اپنی پالیسیز، سندھ کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے بنانا پڑیں گی۔ کیونکہ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، اور دیگر کو امید ہے کہ وہ اس فیصلے سے مستقبل میں بینیفشریز ہو سکتی ہیں۔ لیکن جب تک منافع ملے تب تک نقصان کتنا ہوگا، انہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا۔
رہی بات نظام تبدیل کرنے اور صوبوں کو تقسیم کر کے ترقی کرنے کی، تو لوکل باڈیز کا طاقتور سسٹم لایا جائے۔ ضلع ناظم یا چیئرمین براہ راست عوام سےمنتخب کرایا جائے۔ صوبائی فنانس کمیشن کو طاقتور بنایا جائے تاکہ عوام کو اس کا حصہ ملے۔
صوبوں کو تقسیم کرنے کی خواہش سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر کمزور اور مرکز کو مضبوط بنانے سے زیادہ نہیں۔
عوام کی ترقی اس صورت میں ہو سکتی ہے جب دولت اور وسائل کی تقسیم انصاف پر ہو۔ انوکھے لاڈلوں کو یہ بات جتنی جلد سمجھ میں آ جائے یہ ان کے اور ملک کے لئے بہتر ہے کہ صوبوں کے عوام کو آپس میں لڑانے کی غلطی نہ کریں۔ کیونکہ پاکستان کے عوام پہلے ہی بہت سے مسائل سے دوچار ہیں، دو صوبے پہلے ہی آپ کی پالیسیز کی وجہ سے جل رہے ہیں۔ باقیوں پر رحم کریں، نان ایشوز کو ایشوز نہ بنائیں۔
واپس کریں