ساجد الرحمن
چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی میانوالی کی اچانک معطلی کا معاملہ صرف فیصلے تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی جُڑا ہے کہ اسے عوام کے سامنے کس انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ کوئی عام افسر نہ تھے۔ انہوں نے یہ عہدہ ایک سخت مقابلے کے امتحان کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ مگر اس کامیابی کے باوجود انہیں “نااہلی اور بدانتظامی” جیسے الفاظ کے ساتھ ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں برطرف کیا گیا اور پھر یہ خبر سوشل میڈیا پر عام کر دی گئی۔ بات یہ ہے کہ یہی سرکاری پیج جو چند ہفتے پہلے ان کی کارکردگی کو سراہ رہا تھا، اچانک انہیں ناکام قرار دینے لگا۔ کل کا ہیرو آج کا نااہل افسر بنا دیا گیا، وہ بھی ایک ہی فیس بک ٹائم لائن پر۔ معاملے کو مزید خراب کرنے والی بات یہ ہے کہ خبر مقامی میڈیا کو بھی اسی انداز میں فراہم کی گئی۔ ایک غیرجانبدار اور پیشہ ورانہ بیان جاری کرنے کے بجائے خبر کو اس طرح گھڑا گیا کہ “بدانتظامی” ہی سرخی بن گئی۔ اس نے نہ صرف ایک سینئر ماہر تعلیم کی تذلیل کو بڑھا دیا بلکہ ایک خطرناک روایت بھی قائم کر دی کہ انتظامی معاملات کو عوامی تماشہ بنایا جائے۔ احتساب اپنی جگہ ضروری ہے۔ ہر سرکاری افسر کو کارکردگی پر جواب دہ ہونا چاہیے۔ لیکن احتساب اگر عزت نفس کو روند دے تو وہ انصاف نہیں ظلم ہے۔ ایک استاد، جس نے دہائیوں تک شعبۂ تعلیم کی خدمت کی اور اپنی محنت سے میرٹ پر اعلیٰ عہدہ حاصل کیا، اسے فیس بک پوسٹ یا سنسنی خیز خبر کی چند توہین آمیز سطور میں سمیٹ دینا کسی طور درست نہیں۔ مہذب معاشروں میں اس طرح کے معاملات نہایت احتیاط اور شائستگی سے نمٹائے جاتے ہیں۔ الزامات کی خاموشی سے چھان بین کی جاتی ہے، افسر کو وضاحت کا پورا موقع دیا جاتا ہے، اور معطلی یا تادیبی نوٹس غیرجانبدار اور شائستہ زبان میں تحریر کیے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ جب کوئی کارروائی ضروری بھی ہو، تو اسے اس انداز میں انجام دیا جاتا ہے کہ فرد کی عزت برقرار رہے اور ادارے کا وقار بھی قائم رہے۔ استاد معاشرے میں ایک مقدس مقام رکھتا ہے۔ وہ علم اور اقدار کا امین ہے اور اس کی عزت ہر تہذیب میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک استاد کو، جو اپنی محنت اور میرٹ پر افسر بنا، اس طرح ذلیل کرنا نہ صرف اس کی اپنی توہین ہے بلکہ یہ طلبہ، ساتھیوں اور آنے والی نسلوں کو بھی غلط پیغام دیتا ہے: کہ میرٹ کی کوئی وقعت نہیں اور عزت ایک نوٹیفکیشن میں ختم کی جا سکتی ہے۔ اصل "مِس کنڈکٹ" یہ نہیں کہ افسر سے کوئی رپورٹ بنانے میں غلطی ہوئی ہو، بلکہ یہ ہے کہ ہم کس بے پروائی سے ان کی عزت نفس کو کچل دیتے ہیں۔ اگر ہم مضبوط تعلیمی نظام چاہتے ہیں تو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ میرٹ عزت کا باعث بنے، ذلت کا نہیں۔
واپس کریں