دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ریاستی امر شاہی ،پلاٹس اور مراعات۔حذیمہ بخاری، ڈاکٹر اکرام الحق
No image امیر اور طاقتور افراد انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لیے رجعت پسند ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں اور اس کے باوجود ایف بی آر مقررہ محصولات کے اہداف کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے، تین بار اہداف میں کمی کے بعد بھی، ایک کھرب روپے سے زائد کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا!
ٹیکس حکومت کو ان لوگوں سے پیسہ اکٹھا کرنے کی اجازت دیتا ہے، جن کے پاس اس کو ادا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ٹیکس کو وفاقی حکومت کو رقم منتقل کرنے کے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر حکومت ٹیکس لگا کر جمع ہونے سے زیادہ رقوم خرچ کرنا چاہتی ہے، تو وہ بچت کرنے والوں سے قرض لے کر اضافی فنڈز اکٹھا کر سکتی ہے” — سٹیفنی کیلٹن، دی ڈیفیسٹ متھ
پاکستان کی امر شاہی و اشرافیہ — ملیٹرو جوڈیشری- سول کمپلیکس، تاجرو صنعت پیشہ سیاست دان اور غیر حاضرزمیندار— موجودہ معاشی بحران کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے ملک کو قرضوں کی بھیانک دلدل میں دھکیل دیا ہے — وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ کی بھیک مانگتے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہے کہ خود انحصاری کی بات کرتے ہیں! وہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن اربوں روپے کے ٹیکس فری (tax free ) فوائد حاصل کرنے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اپنی کنیز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
رعایتی قانونی ریگولیٹری آرڈرز (SROs) کے ذریعے ریاستی امر شاہی (State Oligarchy) کو ٹیکس استثنا ، امیر غیر حاضر زمینداروں سے زرعی انکم ٹیکس کی عدم وصولی، طاقتور ملٹری اور سول اداروں کی لگژری اور تجارتی املاک پر معمولی ٹیکس جیسے کہ ان کے کلبز اور گالف کورسز، جرنیلوں، ججوں اور اعلیٰ سول حکام کو دی جانے والی بے مثال ٹیکس چھوٹ کی بد دولت ، قومی خزانہ کو زبردست نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
اگر ٹیکس استثناء اور مراعات کو ختم کیا جاتا ، تو ہمارا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب %16 سے %20 کے درمیان ہو سکتا تھا —یہ مالی سال 2024-25 کے لیے قومی سطح پر محض 11.1 فیصد تھا، جس میں سے ایف بی آر کا حصہ 10.2 فیصد تھا۔
یہ بیانیہ کہ پاکستانی ٹیکس ادا نہیں کرتے — تجزیہ کاروں، ٹی وی اینکرز، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور غیر ملکی عطیہ دہندگان میں مقبول ہے— ایک بھیانک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ غریب اور مُتوّسط پاکستانی سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے لوگ ہیں، جب کہ طاقتور ریاستی امر شاہی کے ارکان نہ صرف ٹیکسوں میں چھوٹ حاصل کرتے ہیں بلکہ پسے ہوئے طبقات کی محنت اور حاصل شدہ ٹیکسوں اور قرضوں پر عیاشی کرتے ہیں—1780 کی دہائی کے فرانس کا متوازی منظر آج کے پاکستان میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
ہماری ریاستی امر شاہی و افسر شاہی، خود پرستی، خود تعریفی، خوشامد، نا اہلیت،بدعنوانی، طاقت اور پیسہ کے کھونے جانے کے خوف سے پیدا ہونے والی مایوسی، جیسی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہے۔ یہ چند،قومی وسائل پر قابض افراد، ہی ہمارے بہت سے کلیدی مسائل کی جڑ ہیں۔اور تو اور ان میں مذہبی انتہا پسندوں اور جدید اسلحہ بند دہشت گردوں سے لڑنے تک کی اخلاقی ہمت اور عسکری صلاحیت نہ ہے ۔
لوگوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی کے بعد اپنی عیاشیوں کے لئے وہ مظلوم طبقات پر زیادہ سے زیادہ بالواسطہ ٹیکس لگا رہے ہیں- غریبوں کی زندگی کو اجیرن بنا رہے ہیں اور تاجروں کو مالا مال کر رہے ہیں۔ اب کہ برسراقتدار حکومت طاقتور جرنیلوں، ججوں اور لالچی بیوروکریٹس کو خوش کرنے کے لیے قرضاجات کا سہارا لئے ہوئے ہے، لیکن عام لوگوں کے لیے ارشاد ہے کہ خزانہ میں سود اور دفاعی اخراجات کے بعد کچھ نہیں بچتا - غریب اور مُتوّسط کے حالاتِ زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتے جا رہے ہیں! ہماری سماجی، سیاسی، معاشی تنزلی میں ریاستی امر شاہی کے کردار کو بے نقاب کرنے کی اشد ضرورت ہے، لیکن میڈیا، جو اس نظام سے فائدہ اٹھا تا ہے، چالاکی سے عوام کی توجہ غیر ضروری اور غیر اہم مسائل کی طرف مبذول کرواتا ہے—یہ تمام طبقے خود غرضی کے اسیر اور خود پسندی کا شکار ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں طاقت اور دولت کا ارتکاز، کنٹرول کی ہوس کے ساتھ، دائمی ادارہ جاتی تصادم، شہری ہنگامہ آرائی اور معاشی بحرانوں کو جنم دیتا رہا ہے — جس سے ریاست کی عملداری کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ کم از کم 100 ملین موبائل صارفین — پری پیڈ یا پوسٹ پیڈ — 40 فیصد سے زیادہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی آمدنی قابل ٹیکس حد سے کم ہے۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ وہ منبع پر ادا کیے گئے %15 انکم ٹیکس کی واپسی حاصل کر سکیں، کیونکہ ریٹرن فائل کرنے کی لاگت بہت زیادہ ہوگی، طریقہ کار پچیدہ ہے (ہر رقم کی واپسی کی درخواست آن لائن دائر کی جانی ہے) اور یہاں تک کہ اگر تمام تقاضے پورے ہوتے ہیں، ٹیکس حکام آخر میں اپنا ”حصہ“ مانگیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار، اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب وغیرہ یا تو ان حقائق سے واقف نہیں ہیں (یہ ممکن نہیں )یا وہ عام شہریوں کی حالت زار سے کم از کم پریشان ہونے سے مبرا ہو چکے ہیں۔
ہمار ی ریاستی امر شاہی کا ایک اور ناقابل معافی جرم ریاستی املاک پر قبضے کا نہ ختم ہونے والا عمل ہے — ریاست کی طرف سے حاصل ہونے والی بے مثال مراعات اور مراعات پر ٹیکس کی عدم ادائیگی سونے پر سُہاگہ ہے- انہیں انعامات کے طور پر ریاستی زمینیں اور شہروں میں قیمتی پلاٹس ملتے ہیں (مفت یا غیر معمولی قیمتوں پر) لیکن ان پر واجب الادا ٹیکس ادا نہیں ہوتا،یہاں تک کہ یہ ریاستی قانون کا تقاضا ہے جس کا ذکر تک نہیں ہوتا ۔
جلے پر نمک کا اضافہ کرتے ہوئے، عوام سے وصول کیے گئے ٹیکسوں کو بے دریغ اور کھلم کھلا ان کی عیش و عشرت پر ضائع کیا جاتا ہے، شاہی بنگلے، گاڑیوں کے بیڑے، نوکروں کی فوج، غیر ملکی دورے اور کیا نہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے سابق وائس چانسلر ندیم الحق کی سربراہی میں پلاننگ کمیشن نے 2013 میں تجویز کیا تھا کہ ان کے تمام فوائد اور مراعات کو منیٹائز (monetize ) کر نا ہی واحد حل ہے۔
ڈاکٹر ندیم کی اربوں کی بچت اور سرکاری ملازمین کے لیے منصفانہ ڈیل کی تجویز کردہ ’وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے رہائش کی سہولت کی منیٹائزیشن‘ جیسی تجاویز کی آج تک مفاد پرستوں نے سخت مزاحمت کی ہے، جو قومی وسائل کو نچوڑنے اور لوٹنے میں ہماری ریاستی امر شاہی کے استخراجی (predatory )کردار کی تصدیق کرتی ہے۔
بدعنوان اور نا اہل سرکاری ملازمین وفاداری کے ساتھ سیاسی اشرافیہ کی خدمت کرتے ہیں اور اس عمل میں قومی خزانہ کی قیمت پر اپنے لئے “خوش قسمتی” کے دوازے کھولتے ہیں ۔ ایف بی آر کی مثال لیں جہاں نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے قومی خزانہ کو سالانہ اربوں کا نقصان ہوتا ہے—یہ 2001 سے آج تک مختلف غیر ملکی قرضوں اور امداد سے چلنے والے اصلاحاتی (sic) پروگراموں کے باوجود ایک مثالی نا اہل اور بد عنوان ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ہاتھوں اربوں کے ضیاع اور قومی وسائل کی لوٹ مار کی حقیقت کا اعتراف موجودہ وزیراعظم بھی بار بار کر چکے ہیں۔
چونکہ امیر اور طاقتور افراد انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے، اس لیے رجعت پسند ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں اور اس کے باوجود ایف بی آر مقررہ محصولات کے اہداف کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے لیے، تین بار اہداف میں کمی کے بعد بھی، ایک کھرب روپے سے زائد کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا!
پاکستان میں ٹیکس کی کم وصولی کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مفادات کو چھوٹ اور رعایتیں حاصل ہیں—یہ مالی سال 2024-25 میں 5.84 ٹریلین روپے تک پہنچ گئیں اور تقریبا اتنی ہی رقم نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے ضائع ہوئی۔ صوبائی سطح پر، امیر غیر حاضر زمینداروں سے زرعی انکم ٹیکس وصول کرنے کا کوئی سیاسی ارادہ نہیں ہے — اس کا ٹیکس میں حصہ جی ڈی پی کے 1 فیصد سے بھی کم ہے!
افسوسناک بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس قانون کے تحت جن غریبوں کی آمدنی قابل ٹیکس حد سے نیچے آتی ہے ان پر مجرمانہ طور پر ٹیکس لگایا جاتا ہے- ان کی محنت کی کمائی سے حاصل ہونے والے فنڈز کو بھی حکمران اشرافیہ لوٹ کر ضائع کر دیتی ہے۔
ملیٹرو-جوڈیشل-سول کمپلیکس، وزراء، مشیروں، ایم این ایز اور ایم پی اے نے مل کر صرف ٹیکس فری مراعات پر پچھلے تین مالی سالوں میں 2 ٹریلین روپے کے فوائد حاصل کئے — یہی نہیں، طاقتور ملیٹرو جوڈیشل-سول کمپلیکس یعنی پاکستان کے حقیقی حکمرانوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 [”آرڈیننس“] کے سیکشن (11) 13 کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے پلاٹوں اور مراعات پر ایک پیسہ بھی ٹیکس کے طور پر ادا نہیں کیا:
” جہاں، ٹیکس کے سال میں، جائیداد کی منتقلی یا خدمات کسی آجر کی طرف سے ملازم کو فراہم کی جاتی ہیں، اس سال کے لیے”تنخواہ“ کے عنوان کے تحت ملازم پر ٹیکس کے لیے قابل وصول رقم میں جائیداد یا خدمات کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو شامل ہو گی جو پراپرٹی کی منتقلی یا خدمات فراہم کیے جانے کے وقت طے کی جاتی ہے، جیسا کہ ملازم کی طرف سے جائیداد یا خدمات کے لیے کی جانے والی کسی بھی ادائیگی سے کم ہوتی ہے۔“
انکم آرڈیننس کا سیکشن (b) 14 کسی بھی سہولت کی فراہمی کو شامل کرنے کے لیے”خدمات“ کی تعریف کرتا ہے اور سیکشن 68 میں”منصفانہ مارکیٹ ویلیو“ کے تصور کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے:
”منصفانہ مارکیٹ ویلیو۔ - (1) اس آرڈیننس کے مقاصد کے لیے، کسی خاص وقت میں کسی پراپرٹی یا کرایہ، اثاثہ، سروس، فائدہ یا اجازت کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو وہ قیمت ہوگی جو جائیداد یا کرایہ، اثاثہ، خدمت، فائدہ یا اجازت نامہ عام طور پر اس وقت کھلے بازار میں فروخت یا سپلائی پر حاصل کرے گا۔
(2) کسی بھی جائیداد یا کرایہ، اثاثہ، سروس، فائدہ یا اجازت نامے کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو کا تعین منتقلی پر کسی پابندی یا اس حقیقت کے بغیر کیا جائے گا کہ یہ دوسری صورت میں نقد میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
(3) جہاں ذیلی دفعہ (1) میں بتائی گئی قیمت عام طور پر قابل یقین نہیں ہے، ایسی قیمت کا تعین کمشنر کر سکتا ہے۔“
آرڈیننس کی دفعہ (j) (1) 39 کو بھی نافذ کیا جانا چاہیے جو درج ذیل کو ٹیکس کے قابل انکم کے طور پر قرار دیتا ہے:
” کسی بھی فائدے کی منصفانہ مارکیٹ ویلیو، خواہ وہ رقم میں تبدیل ہو یا نہ ہو، جائیداد کی فراہمی، استعمال یا استحصال کے سلسلے میں موصول ہوئی ہے۔“
یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ملیٹرو-جوڈیشل-سول کمپلیکس ٹیکس کی دفعات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتا ہے اور ریاستی زمین و شہری پلاٹ ، مفت رہائش اور دیگر فوائد حاصل کرنے پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتا — یہ سب آرڈیننس کے سیکشن (11) 13 اور (j) (1) 39 میں شامل ہیں۔ ایف بی آر ان پر ٹیکس لگانے میں بالکل بھی دلچسپی نہیں رکھتا- ان کے اعلیٰ عہدے دار بھی ان فوائد سے مستفید ہوتے ہیں۔
حکمران اشرافیہ اپنی بے مثال اور بے تحاشا مراعات اور فوائد پر ٹیکس ادا کرنے کو تیار نہیں ہیں، ٹیکسوں کا بوجھ معاشرے کے کمزور طبقات پر ڈال رہے ہیں۔ یہ پاکستان کا اصل مخمصہ ہے۔
ان سے اربوں روپے کے کھوئے (lost ) ہوئے ریونیو کی واپسی یقینی طور پر سب کو یہ پیغام دے گی کہ ایف بی آر ایک خود مختار ادارہ ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ چونکہ معاشرے کے طاقتور طبقے واجب الادا ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں، اس لیے عام لوگ اپنی ٹیکس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے خلاف بجا طور پر بحث کرتے ہیں، خاص طور پر جب ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہی ہے، تو پھر اس ریاست میں تعلیم، صحت، رہائش اور ٹرانسپورٹیشن وغیرہ کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کی کیا بات کی جائے۔
واپس کریں