محمد ریاض ایڈووکیٹ
گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی باہر بیٹھے کسی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ یا یوٹیوبر کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق اداروں کے خلاف یوٹیوبرز کی مہم سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے پاک فوج کو اپنی فوج کہا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے تسلیم کیا کہ اداروں کے خلاف مہم سے پارٹی کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور سہولت کاری کے الزامات بے بنیاد ہیں، تاہم حکمت عملی نہ ہونے سے ہر تحریک کے بعد پارٹی مزید مشکلات میں گھر جاتی ہے۔گزشتہ ہفتے بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے لا تعلقی کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کو کلیم نہیں کرتی۔اس سے پہلے سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کو بچانے کے لیے وکلا سے جان چھڑا کر سیاسی قیادت کو آگے لانا اور اسے موقع دینا چاہیے۔ ان رہنماؤں کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ پارٹی کے اندر اس حقیقت کا احساس پیدا ہوچکا ہے کہ سیاسی جماعت چلانے کے لیے سیاسی بصیرت، حکمت عملی اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلے ضروری ہیں۔
یاد رہے،سیاست میں بروقت فیصلوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جب حالات کسی جماعت کے ہاتھ سے نکلنے لگیں اور نقصان کے اسباب واضح ہونے کے باوجود اصلاح نہ کی جائے تو بعد کے اعترافات محض پچھتاوا بن جاتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے موجودہ حالات اور پارٹی قائدین کے بیانات کے بعد پنجابی کی ضرب المثل ”ویلے دی نماز، کویلے دیاں ٹکراں“ یاد آتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نماز وقت پر ادا ہو تو عبادت ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد سر ٹکرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ سیاست میں بھی فیصلہ بروقت نہ ہو تو بعد کی کوششیں بے سود رہتی ہیں۔کاش پارٹی لیڈرشپ جو باتیں آج کررہی ہے وہ بہت پہلے کرتی توآج پارٹی اور پارٹی لیڈرشپ کے حالات ایسے نہ ہوتے۔کاش عمران خان، جسٹس وجیح الدین، اکبر ایس بابر ایسے بانی اراکین کو کھڈے لائن لگاکر عثمان بزدار، لوٹوں و دیگر مفادپرست افراد کو نہ پارٹی کمان دیتے اور نہ ہی ایوان اقتدار میں پہنچاتے تو یقینی طور پر عمران خان آج اڈیالہ جیل میں مقیم نہ ہوتے۔
بندہ ناچیز اپنے متعدد کالموں میں عرض کرچکا ہے کہ تحریک انصاف سیاست دانوں کی بجائے وکلا ء، یوٹیوبرز اور بیرونی ممالک میں مقیم افراد جو عمران خان اور پارٹی کے آفیشیل اکاؤنٹس چلا رہے ہیں، انکے ہاتھوں یرغمال ہوچکی ہے۔پارٹی میں موجود سیاستدانوں نے اگر معاملات کو حل کرنے کے لئے براہ راست یا پسِ پردہ کوششیں شروع کیں تو پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس خصوصاعمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے صحیح معنوں میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔کسی شخص نے معاملات ٹھیک کرنے کے لئے کوئی ڈھنگ کی بات کی تو ان سوشل میڈیا ایکوسٹ نے اس بندے کا جینا حرام کردیا۔ کچھ یو ٹیوبرز اپنے وی لاگز کا آغاز تعوذ، تسمیہ اور درود شریف سے تو کرتے ہیں، لیکن پھر ایسے ایسے من گھڑت دعوے، پروپیگنڈے اور خبریں پیش کرتے ہیں جن کے ذرائع واضح نہیں ہوتے۔ اس سے کارکنوں اور نوجوانوں میں جذباتی ردعمل پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ویورشپ بھی بڑھتی جاتی ہے۔
ایسے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ چیلنج دیتے رہے کہ: عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر دکھاؤ، خان کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ، انہیں اڈیالہ جیل پہنچا کر دکھاؤ، بشریٰ بی بی اور عمران کی بہنوں کو پکڑ کر دیکھاؤ،علی امین گنڈاپور یا سہیل آفریدی کوہٹا کر دیکھاؤ اورخیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا کر دیکھاؤ۔ سوال یہ ہے کہ ان نعروں سے پارٹی کو فائدہ ہوا یا مشکلات بڑھیں؟ جبکہ اس دوران سنسنی خیز وی لاگز سے بعض یوٹیوبرز نے ویورشپ اور آمدن میں اضافہ ضرور کیا۔بلا شک و شبہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے نام پر مواد تیار کرکے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں ویورشپ حاصل کی جا سکتی ہے۔ بعض افراد کے لیے سیاسی وابستگی سے زیادہ اہم ویوز، مقبولیت اور ڈالرز کی آمدن بن چکی ہے۔
پاک۔ افغان اور پاک۔ بھارت کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا اکاؤنٹس اوریوٹیوبرز خصوصا سمندر پار یوٹیوبرز نے افغانیوں اور بھارتیوں کی زبان بولی اور جنگی محاذ پر سرگرم پاکستانی مسلح افواج کے خلاف جی بھر کر غلیظ پروپیگنڈا کیا۔ نو مئی واقعات پر ان یوٹیوبرز کا یہی رویہ تھا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور وی لاگز کے ذریعہ پاکستانی نوجوان نسل کو دفاعی تنصیبات پر حملوں، اشتعال انگیزی اور سرکاری اہلکاروں پر تشدد کے لئے مسلسل ابھارا گیا۔ابھی بھی وقت ہے کہ جماعت کی بقا کے لیے سنجیدہ فیصلے لئے جائیں۔ تحریک انصاف کو وکلاء کے غیر ضروری سیاسی اثر و رسوخ، پارٹی اور قائدین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والوں اور یوٹیوبرز کے دباؤ سے نکالنے میں پارٹی سیاستدانوں کو آگے آنا ہوگا۔ وکلاء قانونی رہنمائی ضرور کریں، صحافی حقائق سامنے لائیں، مگر سیاست کرنا سیاست دانوں کا کام ہے۔ سبق بروقت نہ سیکھا گیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ کیونکہ بڑے بزرگ ہمیشہ ہی سے یہی سیکھاتے آئے ہیں کہ ”ویلے دی نماز، کویلے دیاں ٹکراں“
واپس کریں