محمد ریاض ایڈووکیٹ
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انہی بنیادی تعلیمات میں ایک نہایت اہم تعلیم صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اسلام نے صرف عبادات، روزہ، نماز اور حج پر زور نہیں دیا بلکہ انسان کے جسم، لباس، گھر، گلی، محلے، بازار حتیٰ کہ دل و دماغ کی پاکیزگی کو بھی ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں طہارت کو محض ایک عادت نہیں بلکہ عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:“بیشک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے”(سورۃ البقرہ: 222)۔ ایک اور مقام پر حکم دیا گیا:“اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو”(سورۃ المدثر: 4)۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ پاکیزگی محض جسمانی ضرورت نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں صفائی کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ یہ مختصر مگر جامع حدیث ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ایمان صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ عملی طرزِ زندگی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اگر صفائی نصف ایمان ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے“آدھے ایمان”کی حفاظت کر پا رہے ہیں یا مکمل غفلت کا شکار ہیں؟
بدقسمتی سے اگر ہم اپنے اردگرد کا ماحول دیکھیں تو جواب مایوس کن دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے محلے، گلیاں، بازار، سڑکیں اور عوامی مقامات گندگی سے بھرے نظر آتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں ہم بے احتیاطی سے کچرا نہ پھینکتے ہوں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ رویہ صرف کم تعلیم یافتہ افراد تک محدود نہیں بلکہ بسا اوقات پڑھے لکھے اور معاشی طور پر خوشحال طبقے میں بھی یکساں نظر آتا ہے۔ مہنگی گاڑیوں میں سفر کرنے والے لوگ کھانے پینے کی اشیاء کے خالی لفافے، بوتلیں اور دیگر فضلہ بے دریغ سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں، گویا صفائی ان کی ذمہ داری ہی نہیں۔
ہم اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ تعلیم شعور پیدا کرتی ہے، مگر ہمارے معاشرے میں بعض اوقات اس کا الٹ منظر دکھائی دیتا ہے۔ اگر سکولوں، کالجوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں، سرکاری دفاتر، حتیٰ کہ مساجد کے وضو خانوں اور لیٹرینوں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم صفائی کے معاملے میں کتنے غیر سنجیدہ ہیں۔ وہ مساجد جہاں انسان روحانی سکون تلاش کرنے جاتا ہے، اگر وہاں صفائی کا فقدان ہو تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اسلام نے تو یہاں تک تعلیم دی کہ“راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ لیکن ہمارا طرزِ عمل اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ ہم راستے صاف کرنے کی بجائے انہیں مزید آلودہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ پان اور گٹکے کی پیک سے رنگی دیواریں، سڑکوں پر پلاسٹک کا ڈھیراور جگہ جگہ کوڑا کرکٹ ہماری اجتماعی بے حسی کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ہم کس منہ سے دنیا کو اسلام کی دعوت دیں گے جب ہمارے اپنے اعمال اسلامی تعلیمات کی نفی کر رہے ہوں؟ تبلیغ صرف زبان سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ اگر ایک غیر مسلم ہمارے رویے، صفائی، دیانت اور اخلاق سے متاثر نہ ہو تو محض دعوے کافی نہیں ہوتے۔ اسلام کی خوبصورتی کا اصل عکس مسلمانوں کے کردار میں نظر آنا چاہیے، مگر افسوس کہ ہم نے اس پہلو کو نظرانداز کر دیا ہے۔
آج ہم یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں، مگر شاید ہم ان کی ترقی کے بنیادی اسباب پر غور نہیں کرتے۔ وہاں قانون کی پابندی، صفائی، نظم و ضبط، وقت کی قدر اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور عام ہے۔ اگرچہ وہ مسلمان نہیں، مگر صفائی کے وہ اصول اپنائے ہوئے ہیں جن کی تعلیم اسلام نے ہمیں چودہ سو سال پہلے دی تھی۔ یہ لمحہ فکر ہے کہ ہم دین کے دعوے دار ہو کر بھی اس کی بنیادی تعلیمات سے دور کیوں ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صفائی کو صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری سمجھنے کی بجائے اپنی ذاتی، دینی اور قومی ذمہ داری تصور کریں۔ اپنے گھر سے آغاز کریں، اپنے بچوں کو صفائی کا شعور دیں، گلی اور محلے کو صاف رکھنے میں کردار ادا کریں، اور عوامی مقامات کو اپنی ملکیت سمجھ کر ان کا خیال رکھیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک صاف معاشرہ صرف خوبصورتی نہیں بلکہ شعور، تہذیب اور ایمان کی علامت بھی ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں تو نہ صرف ایک مہذب قوم بن سکتے ہیں بلکہ ایک اچھے مسلمان بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ورنہ یہ سوال ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا کہ کیا ہم واقعی اپنے آدھے ایمان کو بھی محفوظ رکھ پا رہے ہیں، یا صرف نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں؟
واپس کریں