دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان سے بھاگنا خان کے لیئے آسان نہیں
مہمان کالم
مہمان کالم
دوستو ۔۔بشار الاسد کو جب یقین ہوگیا کہ اس کا اقتدار اب باقی نہیں بچے گا تو اس نے شام کے خزانے میں موجود اربوں روپے جمع کیئے روس منتقل کیئے اور سب کچھ برباد کرکے روس بھاگ نکلا ۔۔۔شام اور شامی عوام مریں ۔۔جئیں۔ سب بھاڑ میں گیا۔۔
۔اشرف غنی کا معاملہ بھی بالکل ملتا جلتا ہے۔اشرف غنی نے بھی اقتدار جاتا دیکھا تو افغانستان سے کروڑوں ڈالرز کے تھیلے بھرے ۔ جہاز پکڑا اور ملک سے فرار ہوگیا۔
۔
اب تیسری شخصیت کی طرف آو۔۔
اس فوجی پروڈکٹ کو جب یقین ہوگیا کہ اب اس کا اقتدار جائے گا ۔ تو اس نے اکتوبر 2021 سے ہی پاکستان کو دیوالیہ بنانے کے پلان پر عملدرآمد شروع کروا دیا ۔
آئی ایم ایف سمیت ہوری دنیا سے قرض پروگرام کی ری شیڈولنگ روک دی۔اور جان بوجھ کر پٹرول اور ڈیزل کو سستا کروا دیا ۔
تاکہ اس کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی نئی آنے والی حکومت کو سب بوجھ اٹھانا پڑے ۔اور ظاہر سی بات ہے جب نئی حکومت مہنگائی کرتی ہے تو عوام سابقہ حکومت کو یاد کرکے بولتے ہیں کہ وہ تو بہت اچھا تھا ۔
اس کا یہ پلان مکمل کامیاب رہا ۔
پی ڈی ایم والے گوبر کے اس ڈھیر میں کودے تو گوڈے گوڈے ڈوب گئے۔
ملک تقریبا دیوالیہ ہوچکا تھا ۔بس اعلان باقی تھا ۔۔ہر طرف مہنگائی کا راج قائم ہوا تو لوگ لگے گالم گلوچ کرنے۔۔
اور سابقہ دور حکومت کی تعریفیں کرنے لگ گئے۔۔
۔
اب سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ
چلو عمران خان اپنی مقبولیت بڑھانے میں کامیاب ہوگیا۔۔
مگر کیا عوام کو اس کے بنائے گئے پلان سے فائدہ ہوا؟؟
کیا یہ ریاست پاکستان سے وفاداری تھی ؟؟
کیا مخلص لیڈر یہی کچھ کرتے ہیں؟؟؟
۔
بشار الاسد ، اشرف غنی اور عمران خان میں فرق صرف ملک سے بھاگنے کا ہے
اور پاک افواج کے ہوتے ہوئے پاکستان سے بھاگنا خان کے لیئے آسان نہیں۔۔۔
میری دعا ہے کہ عمران خان کی 150 سال عمر ہو ۔تاکہ یہ ایک لمبی سزا بھگتے۔۔
واپس کریں