مہمان کالم
قریباً چھیالیس سینتالیس برس قبل کی بات ہے جب کینیڈا کے ایک ٹی وی کی خاتون صحافی نے ایرانی شاہ محمد رضا شاہ پہلوی کا انٹرویو کیا تھا۔ اس نے شاہ سے سوال کیا کہ ایران میں آپ کو ریت سے تیل مل جاتا ہے جس پر کوئی خاص لاگت نہیں آتی جبکہ کینیڈا میں ہمیں زمین کی گہرائیوں سے تیل نکالنے کے لیے بے پناہ وسائل خرچ کرنا پڑتے ہیں بھاری مشینری استعمال کرنی پڑتی ہے اور مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ پھر بھی اپنے تیل کی زیادہ قیمت طلب کریں۔شاہ ایران نے تحمل سے جواب دیا کہ آپ کا سوال اپنی بنیاد میں ہی غیر مناسب ہے۔ آپ کو تیل حاصل کرنے کے لیے زیادہ مزدور درکار ہوتے ہیں انہیں زیادہ اجرت دینا پڑتی ہے آپ کے اخراجات زیادہ ہیں۔ لیکن ذرا یہ بتائیے کہ گندم اگانے کے لیے آپ کو آبپاشی پر کیا خرچ آتا ہے۔ تقریباً کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آسمان سے بارش کی صورت میں پانی عطا کرتا ہے اور آپ اس پانی کے لیے کوئی قیمت ادا نہیں کرتے۔ پھر آپ اور امریکہ اسی سستی گندم کی قیمت کو ساٹھ ڈالر سے بڑھاکے ڈھائی سو ڈالر میں دنیا کو بیچ دیتے ہیں۔ کیا یہ انصاف ہے۔؟خاتون صحافی نے قدرے الجھن کے ساتھ کہا کہ تو آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم اپنی اشیاء پر زیادہ قیمت وصول کرتے ہیں۔ شاہ ایران نے فوراً جواب دیا کہ جی ہاں بالکل یہی بات ہے۔ اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ لوگ اپنے آپ کو دنیا میں سب سے برتر کیوں سمجھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگ ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ناانصافی کو اصول بنا لیا گیا ہے۔ مگر اب وقت بدل رہا ہے آپ کو نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمیں یعنی ایران کو دبایا نہیں جا سکتا۔پھر شاہ نے وہ جملہ کہا جو آج بھی ایران کی خارجہ پالیسی کا نچوڑ محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جو خلیج فارس کا داخلی راستہ ہے اور ہماری شہ رگ ہےہم اسی پر قائم ہیں۔ ہماری فورسز وہاں صرف دفاع کے لیے موجود نہیں بلکہ وہ کسی بھی سمت میں کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ کوئی بھی ہم پر حملہ نہیں کر سکتا ۔یہ انٹرویو دہائیوں پرانا ہے مگر جب اسے سنا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آج کی بات ہو۔ کیونکہ آج بھی وہی آبنائے ہرمز ہے وہی ایران ہے اور وہی پیغام پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے۔آج 2026 ہے اور آج بھی آبنائے ہرمز عالمی سیاست کا سب سے حساس نقطہ بنی ہوئی ہے۔ شاہ ایران کے انٹرویو کے الفاظ کے عین مطابق اس پر حملہ ہوا تو آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے دراصل عالمی نظام کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ اس ایک فیصلے نے نہ صرف امریکہ اور یورپ بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تیل کی ترسیل رکنے سے عالمی معیشت لڑکھڑا گئی ہے۔ منڈیاں غیر یقینی کا شکار ہیں اور توانائی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دنیا کو اچانک احساس ہوا ہے کہ ایک تنگ سمندری راستہ کس طرح عالمی طاقتوں کو بے بس کر سکتا ہے اور وہی آبنائے ہرمز جسے کبھی صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ سمجھا جاتا تھا آج ایک اسٹریٹجک ہتھیار بن چکی ہے۔ایران نے اس صورتحال میں مکمل بندش کے بعد ایک واضح پیغام دیا ہے۔ اس نے صرف اپنے اتحادیوں اور دوست ممالک کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام محض ردعمل نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اسٹریٹجک فیصلہ ہے۔ یہ دنیا
کے لیے ایک کھلا اشارہ ہے کہ عالمی معیشت کا بہاؤ اب صرف طاقت کے مراکز کے ہاتھ میں نہیں رہا بلکہ وہ ممالک بھی اسے موڑ سکتے ہیں جو اپنی جغرافیائی اہمیت اور سیاسی عزم کو ہتھیار بنانا جانتے ہیں۔ امریکہ کھل کر دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ ایران کے توانائی مراکز کو نشانہ بنائے گا۔ ایران کا جواب وہی ہے جو چالیس پینتالیس سال پہلے تھا کہ اگر ہماری توانائی پر حملہ ہوا تو پورے خطے کی توانائی خطرے میں پڑ جائے گی۔ آج ایران کی قیادت مجتبیٰ خامنہ ای کے ہاتھ میں ہے اور وہ بھی اسی حکمت عملی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم آبی راستہ ہے۔ اس کی چوڑائی صرف اکیس ناٹیکل میل ہے۔ دنیا کا تقریباً بیس فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران کی حکمت عملی سادہ مگر مؤثر ہے کہ اگر اس راستے کو بند کر دیا جائے تو عالمی معیشت مفلوج ہو جائے گی۔ شاہ ایران نے یہی بات کہی تھی۔ آج ایران کی انقلابی گارڈز بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ ہم ہر لمحہ اس گزرگاہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔۔ فرق صرف ٹیکنالوجی کا ہے۔ شاہ کے دور میں روایتی ہتھیار تھے آج ڈرون اور میزائل ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک سستا ایرانی ڈرون مہنگے مغربی دفاعی نظام کو ناکام بنا سکتا ہے۔ یہ طاقت اب صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ حکمت عملی کی ہے۔شاہ ایران نے جو سوال اٹھایا تھا کہ مغرب خود کو برتر کیوں سمجھتا ہے وہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ ایران آج اسرائیل اور امریکہ کے مقابل کھڑا ہے۔ خلیجی ممالک کی تنظیم نے الزامات لگائے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے محصول وصول کر رہا ہے اور ادائیگیاں چین کی کرنسی میں ہو رہی ہیں۔ پابندیوں کے باوجود ایران کا موقف واضح ہے کہ اگر ہمیں دبایا جائے گا تو ہم عالمی نظام کو اپنے انداز میں جواب دیں گے۔ یہ وہی سوچ ہے جو اس پرانے انٹرویو میں جھلکتی تھی۔جب اس انٹرویو کو دوبارہ سنا جاتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ خود کو دہرا رہی ہو۔ شاہ گیا خمینی آئے اور خمینی کے بعد علی خامنہ ای آئے اور اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے مگر پالیسی وہی ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کی شہ رگ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شاہ نے اسے مذاکرات کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور آج کا ایران اسے براہ راست طاقت کے اظہار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔آج مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ توانائی کی منڈیاں بے چین ہیں۔ تیل کی قیمتیں بلند ہو رہی ہیں۔ بحری راستے غیر محفوظ محسوس ہو رہے ہیں۔ اور انہی حالات میں شاہ ایران کے وہ الفاظ گونجتے ہیں کہ آپ کو نئی حقیقتوں کو ماننا ہوگا۔ وہ حقیقتیں آج دنیا کے سامنے کھڑی ہیں۔تاریخ نے محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک ایسے بادشاہ کے طور پر یاد رکھا جو اپنی عوام سے دور ہو گیا تھا اور روح اللہ خمینی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر جس نے ایک نظام بدل دیا۔ مگر جب بات آبنائے ہرمز کی آتی ہے تو دونوں ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک اسے شہ رگ کہتا تھا اور دوسرا اسے طاقت کا سرچشمہ قرار دیتا تھا۔ آج کا ایران اسی نظریے کو آگے بڑھا رہا ہے۔جب انٹر ویو والی وہ پرانی ویڈیو دیکھی جاتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے وقت رکا ہوا ہے۔ اگر آج محمد رضا شاہ پہلوی زندہ ہوتے تو شاید وہی الفاظ دہراتے۔ اور آج کا کوئی ایرانی کمانڈر بھی وہی بات کہتا ہے کہ ہم ہتھیار ڈالنے والے نہیں ہیں۔ یہی وہ تسلسل ہے جو ایران کی اصل کہانی ہے۔ آبنائے ہرمز وہی ہے ایران وہی ہے اور بقا کی جنگ بھی وہی ہے۔
واپس کریں