مہمان کالم
حالیہ ایران - اسرائیل /امریکا جنگ سے دنیا کے کونسے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں-
گلف: پہلے تو خلیجی ممالک الگ الگ کھڑے نظر آ رہے ہیں- ایک طرف سعودی عرب ھے جو گلوبل ساؤتھ کی طرف آ چکا ھے اور دوسری طرف یو اے ای ھے جو ابھی تک اسرائیل کے زیر اثر ھے اور ابراھام کارڈ دل سے لگائے ہوئے ھے-
قطر صاف طور پہ سعودی عرب کی لائن پہ ھے- اور جلد گلوبل ساؤتھ کی طرف آ رہا ھے- بحرین اسی طرف جائے گا جس طرف سعودی عرب- کویت ابھی گومگو کی کیفیت میں ھے- اومان نیوٹرل ھے-
متحدہ ارب امارات :
یہ برطانوی اور امریکی سامراج کی بنائی گئی ایک مصنوعی وحدت ھے اور ایک ملک دکھائی دیتا ھے- لیکن شارجہ اب ناراض ھے اور جلد یا بدیر اماراتی ریاست کو توڑ دے گا- شارجہ قدامت پرست ھے اور ابراھام اکارڈ کو تسلیم نہیں کر پا رہا- فجیرہ اور راس لا خیمہ بھی ابو ظہبی سے شکایات کرتے رہتے ہیں- دبئی اور ابوطہبی ایک طرف ہیں- شارجہ بہرحال کسی وقت بھی کوئی دھماکہ کر سکتا ھے- اور گلوبل ساؤتھ اسکا مستقبل ھے-
نیٹو:
نیٹو کا حال برا ھے- نیٹو بنانے والا امریکہ الگ کھڑا ھے اور یورپ نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا جس پر امریکا سخت ناراض ھے- یوکرین لڑائی پہ بھی امریکا اور یورپ الگ کھڑے ہیں- کینیڈا بھی امریکا کے مقابلے میں یورپ بلکہ اب چین کے ذیادہ نزدیک ھے-ترکی تو بلکل ہی مختلف سمت میں کھڑا ھے- جو نیٹو کا اھم ترین پرزہ ھے- یہ اتحاد یا تو ٹوٹ جائے گا اور اگر نہ بھی ٹوٹا تو غیر موثر ضرور ہو جائے گا-
یورپین یونین:
یورپی یونین سے برطانیہ تو پہلے نکل چکا تھا مگر اس جنگ میں اٹلی ، سپین الگ کھڑے نظر آئے- فرانس ، جرمنی اور برطانیہ میں بھی کوئی ہم آہنگی نہیں نظر آئی-
یورپین یونین محفوظ ھے لیکن اس کی بین الاقوامی معاملات پہ پہلے جیسی ہم آہنگی نہیں رہے گی- انہیں بھی تیل کی مار پڑی ھے-
واپس کریں