دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اقوام متحدہ کی قراردادیں اور یوم حق خود ارادیت ۔سردار ساجد محمود
مہمان کالم
مہمان کالم
ہر سال 5 جنوری کو دنیا بھر میں کشمیری عوام حقِ خود ارادیت کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے ہند و پاکستان (UNCIP) کی 5 جنوری 1949 کی تاریخی قرارداد کی یاد دلاتا ہے، جس میں اقوامِ متحدہ نے واضح طور پر تسلیم کیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی آزادانہ مرضی سے، اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ بین الاقوامی وعدہ آج تک پورا نہیں ہو سکا اور مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین حل طلب تنازعات میں شامل ہے۔
حقِ خود ارادیت کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 1(2) اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ کو عوام کے مساوی حقوق اور حقِ خود ارادیت کے احترام سے مشروط کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 55 اس اصول کو عالمی امن، استحکام اور انسانی حقوق کے فروغ سے جوڑتا ہے۔ بعد ازاں، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 1514 (1960) اور قرارداد 2625 (1970) نے اس اصول کو مزید تقویت دی اور واضح کیا کہ تمام اقوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے بغیر اپنے سیاسی مستقبل کا آزادانہ تعین کریں۔ جموں و کشمیر کے عوام اس قانونی دائرہ کار میں پوری طرح شامل ہیں، کیونکہ اقوامِ متحدہ نے خود ان کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کیا ہے۔
1947 کے تنازع کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر پر براہِ راست اختیار سنبھالا اور متعدد قراردادیں منظور کیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد 47 (1948) میں جنگ بندی، فوجوں کی مرحلہ وار واپسی اور رائے شماری کا واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا۔ اس فریم ورک کو UNCIP کی 5 جنوری 1949 کی قرارداد میں غیر مبہم انداز میں دہرایا گیا، جس میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کا بھارت یا پاکستان سے الحاق عوام کی آزادانہ رائے سے طے ہوگا۔ یہ قراردادیں نہ تو منسوخ کی گئی ہیں اور نہ ہی کسی نئی قرارداد سے تبدیل ہوئیں، اس لیے بین الاقوامی قانون کے تحت آج بھی مکمل طور پر نافذ العمل ہیں۔
اس کے باوجود بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک داخلی معاملہ ہے، جو کہ بین الاقوامی قانون کے صریحاً خلاف ہے۔ اقوامِ متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 103 واضح کرتا ہے کہ منشور کے تحت ریاستوں کی ذمہ داریاں کسی بھی دوطرفہ معاہدے پر فوقیت رکھتی ہیں۔ اس تناظر میں شملہ معاہدہ 1972 اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔ اسی طرح 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا یکطرفہ خاتمہ نہ تو اس خطے کی متنازع حیثیت کو بدل سکا اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو ختم کر سکا۔
سیاسی اور قانونی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)، پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (UAPA) جیسے کالے قوانین نے ماورائے عدالت گرفتاریوں، طویل نظربندی، طاقت کے بے جا استعمال اور استثنیٰ کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ قانونی نقطۂ نظر سے یہ اقدامات عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین سے متصادم ہیں۔ اظہارِ رائے، اجتماع اور میڈیا کی آزادی پر پابندیوں نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
یکطرفہ آئینی اقدامات اور سیاسی دعووں کے باوجود جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوئی۔ یہ خطہ آج بھی ایک متنازع علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق ہونا ہے۔ بین الاقوامی قانون طاقت کے ذریعے علاقے کے حصول یا آبادی کے تناسب میں زبردستی تبدیلی کی اجازت نہیں دیتا، اور نہ ہی کسی قابض قوت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی متنازع خطے کا سیاسی مستقبل خود طے کرے۔
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو بحال کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری مؤثر کردار ادا کرے، انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حقِ خود ارادیت کا آزادانہ استعمال کر سکیں۔ اس حق سے مسلسل انکار نہ صرف انسانی المیے کو طول دے رہا ہے بلکہ عالمی قانونی نظام کی ساکھ کو بھی مجروح کر رہا ہے۔
لہٰذا 5 جنوری محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک ادھوری بین الاقوامی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کا حقِ خود ارادیت کوئی رعایت نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ قانونی حق ہے۔ اس حق کا احترام ہی کشمیر میں انصاف، خطے میں پائیدار امن اور عالمی اصولوں کی بقا کی ضمانت بن سکتا ہے۔
واپس کریں