ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔ارشاد محمود
مہمان کالم
خواجہ آصف کے آزاد کشمیر کی موجودہ صورت حال کے بارے میں انٹرویوز سن کر افسوس ہوتا ہے، بلکہ یہ مصرع یاد آتا ہے: “ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو۔”
دنیا بھر کے کمزور سے کمزور ملکوں میں بھی وزیر دفاع ایک ذمہ دار منصب سمجھا جاتا ہے۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ریاستی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن ہمارے خواجہ صاحب دنیا کے ہر موضوع پر ایسی بے تکی گفتگو کرتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی اپنی بھد اڑتی ہے بلکہ پاکستان کے بارے میں بھی لوگ حیران رہ جاتے ہیں کہ کیسے کیسے نابغے اس قوم کے نصیب میں لکھ دیے گئے ہیں۔
خواجہ آصف کی گفتگو کسی منصوبے کا حصہ ہے یا نہیں، یہ الگ بحث ہے، لیکن اس نے یہ تاثر ضرور قائم کیا ہے کہ پاکستانی حکام اور میڈیا کا ایک حصہ، جو مقتدرہ کے قریب تصور کیا جاتا ہے، شعوری طور پر بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستانی عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کر رہا ہے کہ:
کشمیری پاکستان مخالف ہیں۔
وہ جس تھالی میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے ہیں۔
ایکشن کمیٹی کے اندر بھارتی لابی کا مرکزی کردار ہے۔
اس عمل کو انگریزی میں demonization of a community کہا جاتا ہے۔ یہ وہ پہلا قدم ہوتا ہے جہاں کسی پوری کمیونٹی کی اجتماعی طور پر تذلیل کی جاتی ہے، اس کے خلاف ایسا ماحول بنایا جاتا ہے کہ اگر بعد میں اس پر تشدد ہو، یا اس کی جائز سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو کچلا جائے، تو اسے آسانی سے قومی مفاد کے نام پر ملک دشمن سرگرمیوں کا لیبل لگا دیا جائے۔ یہ دراصل اختلافِ رائے کو جرم بنانے کا عمل ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہوتا ہے۔
کشمیریوں کی تذلیل کے لیے جس طرح بے دریغ اور یک طرفہ طور پر قومی میڈیا استعمال کیا جا رہا ہے، اس نے ہر کشمیری اور ہر حساس پاکستانی کو دکھی کیا ہے۔ یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔ اس سے باہمی رنجشیں پیدا ہوں گی، اور جسمانی فاصلے سے زیادہ ذہنی، فکری اور جذباتی دوری جنم لے گی۔
پاکستانی عوام کو متبادل بیانیے سے باخبر نہیں ہونے دیا جا رہا۔ انہیں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ آزاد کشمیر میں اٹھنے والی آوازیں صرف کسی ایک گروہ، جماعت یا نظریے کی نمائندہ نہیں بلکہ گورننس، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اشرافیہ کی مراعات، مہاجرین کی نشستوں کے شفاف انتخاب، اور عام آدمی کے معاشی بوجھ سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہیں۔
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ریاستی اداروں کے کرتا دھرتا ایک غیر سیاسی ذہن کے ساتھ اس سارے مسئلے کو محض امن و امان کے عدسے سے دیکھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چند بیانات، چند گرفتاریاں، چند الزامات اور میڈیا کے ذریعے کردار کشی سے مسئلہ دب جائے گا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے مسائل دبائے نہیں جاتے، صرف مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
مکرر عرض ہے کہ آج نہیں تو کل ایکشن کمیٹی کا دھرنا بھی ختم ہو جائے گا۔ سڑکیں بھی کھل جائیں گی۔ بازار بھی بحال ہو جائیں گے۔ لیکن آج جو تلخیاں پیدا کی جا رہی ہیں، وہ دہائیوں تک ہمارا تعاقب کریں گی۔
حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف کو غداری نہ بنایا جائے۔ مطالبات کو سازش نہ کہا جائے۔ اور قومی میڈیا کو کسی پوری کمیونٹی کی تذلیل کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سیاسی حل کا راستہ کھولا جائے۔
واپس کریں