مہمان کالم
وطن عزیز پاکستان میں مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافے نے غریب اور متوسط طبقےسے دو وقت کی روٹی چھین لی ہے۔ حیرت یہ ہے کہ پانچ کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے، دس کلو آٹے کا تھیلا 1100 روپے جبکہ 20 کلو آٹے کا تھیلا 2200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، مگر حکومت اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت پنجاب سمیت پورے ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ عوام کی آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہو پارہا ۔ بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سے مزدور، دیہاڑی دار اور سفید پوش طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ ایک طرف بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب آٹے جیسی بنیادی ضرورت بھی اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے پورے لاؤ لشکر کے ہمراہ آذربائیجان کا دورہ کیا اور وہاں تنور پر روٹیاں لگانے کی ٹک ٹاک بنا کر پنجاب کے عوام سے مذاق بھی خوب کیا ۔ اس وقت صوبہ پنجاب کے عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بدترین معاشی بحران کا شکار ہیں۔ ہماراحکمران طبقہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائےبیرونی دوروںاور نمائشی اقدامات میں مصروف ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ نظام پر سرمایہ داروں اور مافیاز کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے، جنہوں نے پورے ملک کے معاشی ڈھانچے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں مگر انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر آٹےاور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کرے، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں بھی مہنگائی کے ستائے عوام کوبڑا ریلیف ملنا چاہیے ۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں صرف 6 روپے فی لٹر کمی کر کے پاکستانی عوام کے ساتھ گھناؤنا مذاق کیا ہے ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، اشیائے خورونوش، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتوں میں بھی خطیر اضافہ ہو چکا ہے ۔ اس وقت حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے اربوں روپے وصول کر رہی ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے غریب عوام پر مزید ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں ۔ ارباب اقتدار کو چاہیے کہ پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کرتے ہوئے اسے 250 روپے فی لیٹر تک لایا جائے۔ حکومت پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور مہنگائی میں کمی کیلئےہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کرے۔المیہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے وفد کے جاتے ہی ٹیکس لیکیج روکنے اور ٹیکس ریونیو بڑھانے سے متعلق شرائط پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے، جس سے عوام پر مزید معاشی بوجھ پڑنےکاخدشہ ہے۔ملک میں جاری معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتوں کی تباہی کی بنیادی وجہ فرسودہ سیاسی و معاشی نظام ہے، جس نے عام آدمی کی زندگی مشکل ترین بنا دی ہے۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کی ناقص معاشی پالیسیوں اور سودی نظام کے باعث ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ پالیسی ریٹ میں صرف ایک فیصد اضافے سے قومی قرضوں میں 540 ارب روپے کا اضافہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سودی نظام معیشت ملک کیلئے زہر قاتل بن چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے عوام کو مہنگائی، اضافی ٹیکسوں اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مسلسل قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔ ان حالات میں ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں، صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور لاکھوں نوجوان بے روزگار ہو رہے ہیں، مگر حکمران طبقہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے آئی ایم ایف کی غلامی میں مصروف ہے۔ حکومت کی تمام تر توجہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے عالمی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے پر مرکوز ہے، جسکے باعث مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سودی معیشت سے نجات حاصل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اسلامی معاشی نظام ہی پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکال سکتا ہے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔ ایسے دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے مسلسل عوام پر مہنگائی کے بم گرا رہی ہے۔ بجلی صارفین سے تقریباً 9 روپے فی یونٹ تک اضافی ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف بھی حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے توانائی کے شعبے کو عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کا ذریعہ بنا لیا ہے، جسکے نتیجے میں مہنگائی اور غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی کے بلوں میں اس وقت مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ٹیکس شامل کیے جا رہے ہیں جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس اور دیگر سرچارجز شامل ہیں۔ پہلے ہی بجلی کی بنیادی قیمتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں کو ٹیکس وصولی کا آسان ذریعہ بنانا عوام کے ساتھ سراسر ظلم کے مترادف ہے۔ صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث بند ہو رہی ہیں، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران عوام سے مزید ٹیکس وصول کر کے اپنی ناکام معاشی پالیسیوں کا بوجھ شہریوں پر منتقل کر رہے ہیں۔خداراعوام پر رحم کریں۔
واپس کریں