رہبر کا انتخاب اور آخری موقع ۔فرنود عالم / روزنامہ جنگ
مہمان کالم
کربلا کا شاید ہی کوئی واقعہ یا کوئی کردار ہو جسکی علامت اور شبیہ شیعہ مکتب کے پاس موجود نہ ہو۔ راستے اور مسافر کی، سوار اور سواری کی،زرہ اور زرہ پوش کی، پیاس اور پیاسے کی، مکان اور مکین کی،ہاتھ اور ہتھیار کی، سب کی شبیہ موجود ہے۔
ضابطے کے مطابق سید علی خام نہ ای رہبر تھے۔عقیدت مند انہیں مگر شبیہ کے طور پر دیکھتے تھے۔ انہیں لگتا تھا امام کا قد کاٹھ، بول چال، انداز و ادا سب رہبر جیسا ہی ہوگا۔
اب جب امام کی طرح رہبر بھی قتل کر دیے گئے ہیں تو عقیدت مندوں کیلئے وہ کربلا سے چلی آنے والی کہانی کا ایک زندہ کردار بن گئے ہیں۔ کہانی میں یہ جگہ شاید کسی کو نہیں ملی۔ امام خمینی کو بھی نہیں۔
سید خام نہ ای کی وفات طبعی ہوتی تو عقیدت مند ان کا متبادل رہبر ڈھونڈتے۔ وہ جنگی حالات میں دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہاتھ مارے گئے۔اس لیے نئے رہبر کی بجائے وہ خامنہ ای کی شبیہ ڈھونڈتے رہے۔ امیدوار اور بھی بہت دم خم والے تھے، مگر انکی نگاہ آیت اللہ مجت بی خامنہ ای پہ ٹھہر گئی۔
مجلس خبرگان رہبری کیلئے یہ دن مشکل رہے۔ ایک طرف عقیدت کا تقاضا رہا کہ ایسی شبیہ منتخب کی جائے جوجذبات کی تسکین کرسکے، دوسری طرف حالات کا یہ مطالبہ رہا کہ ایسا ایک رہبر تلاش کیا جائے جوحالات کو موافق ہو۔
عقیدت کی سنیں تو سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ ہم اگلا رہبر بھی کھو دیں کیا؟ امریکا تو کہہ چکا کہ مجتبی ہمیں منظور نہیں ہے۔ امریکا کی نامنظوری مجتبی خامنہ ای کو اپنوں میں اور بھی معتبر بناتی ہے مگر یہ بات مشکل میں اضافہ بھی تو کرتی ہے۔
ٹیکنالوجی کو غیب کی خبریں مل رہی ہیں۔اسے یہ تک معلوم ہوتا ہے کہ اسماعیل ہ انیہ کس ہوٹل کے کس کمرے میں کون سے والے بیڈ پر کس کروٹ لیٹے ہوئے ہیں۔بنکروں، تہہ خانوں اور یہاں تک کہ میٹنگ روم میں میزائل پہنچ رہے ہیں۔ہاتھوں اور بستوں میں پیجر پھٹ رہے ہیں۔اب کیا کریں؟
دو قدم پیچھے ہٹیں تو انقلاب پرسوال اٹھتے ہیں۔دو قدم آگے بڑھیں تو نہ ختم ہونے والی ایک جنگ سر پر کھڑی ہوجاتی ہے۔کیا بیٹھے بٹھائے پورے ای ران کو داو پرلگادیں؟
اب جو بھی سوال ہے وہ سید مجتبی خامنہ ای کے سامنے ہے۔
پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ مذہب کی پرانی تشریح پر چلنا چاہتے ہیں یا پھر نوے کی دہائی میں سامنے آنے والے اصلاح پسند ایرانی دانشوروں اور سیاست دانوں کے ساتھ مشاورت بڑھانا چاہتے ہیں۔
مشکل کشائی تو اسی میں ہے کہ اصلاح پسندوں سے رہنمائی لی جائے۔ایران کی داخلی سلامتی کے ساتھ یہ خود اپنی بقا کا بھی سوال ہے۔
حوزہ علمیہ سے فیض لینے والوں میں ضرور شہادت کا جذبہ موجود ہوگا مگر عام لوگ اب موت کو گلوریفائی نہیں کرتے۔وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔اپنی تخلیقی اور پیداواری صلاحیتوں کو آزمانا چاہتے ہیں۔انہیں ماحول اور فضا کی سازگاری چاہیے۔انہیں ایسی کوئی تشریح اور تعبیر نہیں چاہئے جو جبر پر کھڑی ہو۔
جبر انہیں اب انقلاب اور ولایت فقیہ جیسے خوش نما عنوان کے ساتھ بھی قبول نہیں ہے۔
مذہب کی انقلابی تشریح نے ایران میں لاتعلقی اور بیگانگی کے احساس کو بڑھاوا دیا ہے۔ ایران میں بنیادی حقوق کا سوال تو پہلے ہی کھڑا تھا، اب بنیادی ضرورت کا سوال بھی گہرا ہوگیا ہے۔
روٹی بنیادی ضرورت ہے۔روٹی نہ ہو تو شہری کے پیٹ میں خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ شہری اسی کی طرف دیکھتا ہے جو اس خلا کو پر کرنے آتا ہے۔
سپریم کونسل کے مجتہدوں کے پاس پالیسیوں اور تشریحات میں بڑی تبدیلی کا یہ شاید آخری موقع ہے۔ آج سے چند ہفتے پہلے تہران اور مشہد کے بازاریوں کا سڑکوں پرنکلنا معمولی واقعہ نہیں تھا۔
بازاریوں کے ایجنڈے پر روٹی ہوتی ہے۔روٹی کا ایجنڈا کسی بھی کہانی سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہوگی کہ ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاج نظام کو پلٹنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، لیکن کیا وہ نظام کا تین اطراف سے گھیراو کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے تھے؟ بالکل رکھتے تھے مگر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے غلطی کردی۔وہ گرم تنور میں اپنی روٹیاں لگانے پہنچ گئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ اصلاح کا نعرہ لگانے والے چپ چاپ گھروں کو لوٹ گئے۔
یہ لوگ تبدیلی چاہتے تھے۔امریکا کی حصے کی جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے۔رضا پہلوی کی شکل تو بالکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
اصفہان کا بازاری سیاناہے۔وہ جانتا ہے کہ بیرونی مداخلت کے نتیجے میں یہ نظام درہم برہم ہوا تو ہم شاید شٹر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہ سکیں گے۔یہ بات درست بھی ہے۔ایسے کسی ملک کی نشاندہی کرنا بہت مشکل ہے جہاں عالمی طاقت خوشحالی کے نام پر گئی ہو اور پیچھے خوشحالی چھوڑ کر بھی آئی ہو۔
یہ سچ ہے کہ وہ خواتین جو دوپٹہ اتار کر خامنہ ای کے خلاف نکلی تھیں اب وہ خامنہ ای کی تصویر سینے سے لگاکر رو رہی ہیں، مگر اس میں پیشوائیت کا کوئی کمال نہیں ہے۔ کمال سارا اس حماقت کا ہے جو رضا پہلوی کے سرپرست سے سرسزد ہوئی ہے۔
خامنہ ای کا دکھ عقیدت مند کیلئے بہت گہرا ہوگا مگر شہری کیلئے یہ دکھ دائمی نہیں ہے۔اس کا گریہ چہلم پر تمام ہوجائے گا۔یہ خامنہ ای کی تصویر رکھ کر دوبارہ مزاحمت کا جھنڈا اٹھالے گا۔ضروری نہیں کہ تب اسرائیل اپنی غلطی پھر سے دہرائے گا۔
تب پیشوائیت کے پاس دو ہی راستے ہوں گے۔ تشدد کی راہ اختیار کرکے قہوہ خانوں میں ابلنے والی بغاوت کو ہوا دے، یا پھر اپنی تشریح کو شہریوں کی خواہش کے آگے سرنڈر کردے۔
حالات کس طرف جائیں گے، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لگتا مگر یہی ہے کہ وقت مجتہدوں کو تشریح کا ایک آخری موقع دینا چاہتا ہے۔
اس موقع کا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اگر عبدالکریم سروش اور سعید حجریان جیسے ایرانی دانشوروں کی اس رائے کا احترام کرلیا جائے،
'مذہب خود تو چلو مقدس ہو سکتا ہے مگر مذہب کی کوئی تشریح مقدس نہیں ہوتی'
واپس کریں