دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
محبِ وطن" پاکستانیوں کا رویہ اور فکری تضاد۔ مہتاب عزیز
مہمان کالم
مہمان کالم
حیرت انگیز بلکہ افسوسناک طور پر، خود کو "محبِ وطن" کہلوانے والے بعض پاکستانیوں کا آزاد جموں کشمیر کے حوالے سے منطقی استدلال اور رویہ، ہندوتوا کی علمبردار راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) اور کٹر صہیونی اسرائیلیوں سے سو فیصد مماثلت رکھتا ہے۔
آر ایس ایس (RSS) کی ذہنیت کا موقف یہ ہے کہ اگر کشمیری اپنے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں، بھارت سے آزادی کی بات کرتے ہیں، یا ظلم کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اپناتے ہیں، تو ان پر ڈھایا جانے والا ہر ریاستی ظلم، تشدد اور بربریت بالکل جائز ہے۔
اسی طرح کٹر متعصب صہیونی اسرائیلوں کا نظریہ ہے کہ چونکہ فلسطینی ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں، اس لیے ان کا قتلِ عام کرنا، نسل کشی کرنا اور انہیں ہر قسم کی انسانی اذیت سے دوچار کرنا عین درست عمل ہے۔
بدقسمتی سے، "محبِ لاوطن" پاکستانیوں کا رویہ بھی بعینہٖ ایسا ہی ہے۔ چونکہ آزاد کشمیر کے غیور عوام اپنے بنیادی آئینی و معاشی حقوق مانگ رہے ہیں، مہنگائی اور ناانصافی کے خلاف دھرنے اور ہڑتالیں کر رہے ہیں، اور وہاں کچھ حلقے خودمختاری کی بات بھی کرتے ہیں—اس لیے (ان دانشوروں کے نزدیک) ان پر گولیاں چلانا، خوراک اور ادویات کی سپلائی بند کر کے انہیں بھوکا مارنے کی سازش کرنا بالکل بجا ہے۔
اس کے علاوہ خواجہ آصف جیسے مفاد پرست سیاستدانوں کو تاریخ اور جغرافیہ کی الف ب کا ازسرِ نو مطالعہ کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے ریاست جموں کشمیر کی آبادی کو جن تین حصوں میں بانٹا ہے، اُن کی ڈسکرپشن بالکل مختلف ہے:
اُن کی بیان کردہ کشمیریوں کی پہلی قسم: یہ کشمیر کے وہ باشندے ہیں جن کی اکثریت نے 1947ء میں شیخ عبداللہ کے پرچم تلے، نظریاتی مغالطے کا شکار ہو کر بھارت سے الحاق کی کھل کر حمایت کی تھی اور 'نیشنل ملیشیا' بنا کر باقاعدہ بھارتی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ 1980ء کی دہائی تک وہاں "آزادی" کبھی کوئی مقبول نعرہ نہیں رہا، اور آج بھی وہاں بھارت نواز اور آزادی پسندوں کا تناسب زیادہ سے زیادہ 40 اور 60 کا ہے۔
دوسری قسم: یہ جموں کے وہ باشندے ہیں جن کا کشمیر سے کوئی نسلی یا لسانی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کیا، جس کا خمیازہ انہیں تاریخ کے بدترین قتلِ عام کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
تیسری قسم (آزاد کشمیر): یہ وہ غیور لوگ ہیں جنہوں نے 1947ء سے پہلے ہی پاکستان کے حق میں تاریخی تحریک چلائی۔ انہوں نے منظم ہو کر ظالم ڈوگرا فوج کا بے جگری سے مقابلہ کیا، جان و مال کی بے پناہ قربانیاں دیں، ایک وسیع خطۂ زمین تلوار کے زور پر آزاد کروایا اور پھر اس کا رضاکارانہ الحاق پاکستان سے کیا۔
یہاں ایک اور بات بھی واضع کرنا ضروری ہے۔ خواجہ آصف جیسے نام نہاد کشمیری وہ ہیں جن کے اجداد ایک صدی پہلے کشمیر چھوڑ کر پنجاب میں آباد ہو گئے تھے۔ ان میں اکثریت اُن نو مسلموں کی تھی جنہیں کشمیر میں ہندووں کے زمانے سے اچھوت اور سماجی طور پر کمتر سمجھا جاتا تھا اور وہ اس مسلسل معاشرتی ذلت و استحصال سے چھٹکارا پانے کے لیے 'جنت نظیر وادی' چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پنجاب آ کر ان کی اکثریت نے "خواجہ" کا سرنیم (Laqab) اختیار کیا، جو کشمیر میں ایرانی اثر کی وجہ سے عمومی تعظیم کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔
پھر 1947ء کے فسادات میں یہ لوگ مشرقی پنجاب سے سکھوں کے حملوں کے خوف سے مغربی حصے (موجودہ پاکستان) میں منتقل ہو گئے۔ اب المیہ یہ ہے کہ یہ لوگ "کشمیریت" کے جملہ حقوق پر یوں قابض ہو کر بیٹھے ہیں، جیسے یورپ سے آئے ہوئے اشکنازی یہودی، خود کو اصلی سامی (Semitic) نسل ظاہر کر کے فلسطین کی سرزمین پر حق جتاتے ہیں۔
کشمیر کی اصل نسلی شناخت ان تاریخی گوتوں (Castes) سے ہے:
بھٹ / بٹ (Bhatt / Butt)، میر (Mir)، زرگر (Zargar)، کمار / کرال (Kumar / Kral)، دھر / ڈار (Dhar / Dar)، دربو (Drabu)، لون (Lone)، صوفی (Sofi / Sufi)، ملک (Malik)، شیخ (Sheikh)، کول (Kaul)، رائنا (Raina)، کاک (Kak)، کاو (Kaw)، پٹو (Pattu)، کچرو (Kachru)، کچلو (Kichlu)، مانتو / منٹو (Mantu / Mintoo)، نہرو (Nehru)، ہکسر (Haksar)، ہنڈو (Handoo)، ولی (Wali)، تنترے (Tantray)، پارے (Parray)، پریمو (Parimoo)، مٹو (Mattoo)، راج گرو (Rajguru)، بدخشى (Badakhshi)، بھان (Bhan)، بزاز (Bazaz)، اندرابی (Andrabi)، بکشی / بخشی (Bakshi)، راذر (Rather)، رازدان (Razdan)، منشی (Munshi)، سپرو (Sapru)، تھوسو (Thussu)، تیکو (Tikoo)، زٹشی (Zutshi)، ماگرے / مگرے (Magre / Magray)، یٹو (Yatoo)، گنائی / گانی (Ganaie)، وانچو (Wanchoo)، مادن (Madan)، وانی / وین (Wani / Wyne)، نینگرو (Nengroo)، گیلانی (Geelani) اور چک (Chak)۔
دوسری جانب، جموں ڈویژن سمیت آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر حصوں میں گجر، مغل، ڈوگرے، سدھن اور راجپوت قبائل بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
واپس کریں