ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
کہتے ہیں کسی قدیم شہر میں ایک ایسا بازار تھا جہاں دو تاجر برسوں سے ایک ہی شاہراہ کے کنارے اپنی دکانیں سجائے بیٹھے تھے۔ ایک تاجر کے پاس دور دراز ملکوں سے آنے والا مال تھا، دوسرے کے پاس اپنے شہر کی پیداوار؛ دونوں کی تجارت ایک دوسرے کے وجود سے وابستہ تھی۔ ایک روز بازار میں چند نئے قصہ گو نمودار ہوئے۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ یہ شاہراہ تمہاری خوشحالی کا راستہ نہیں بلکہ تمہاری محتاجی کی علامت ہے؛ یہ قافلے تمہاری معیشت کو مضبوط نہیں کرتے بلکہ تمہاری خودمختاری کو نگل جاتے ہیں۔ لوگوں نے پوچھا، "اگر ایسا ہے تو ثبوت کیا ہے؟" قصہ گوؤں نے اعداد کے ٹکڑے دکھائے، مگر مکمل حساب کی کتاب پیش نہ کی۔ تب ایک بوڑھا محاسب اٹھا اور بولا: "بیانیہ وہ آئینہ ہے جس میں آدمی اپنی خواہش دیکھ لیتا ہے؛ حقیقت وہ دفتر ہے جس میں آمد و خرچ دونوں درج ہوتے ہیں۔" آج پاک چین تعلقات کے گرد گردش کرتے ہوئے بعض مباحث کو اسی تمثیل کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 2026ء میں دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ منا رہے ہیں؛ سرکاری سطح پر اسے محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی شراکت داری کے نئے مرحلے کا موقع قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں تنقید کی گنجائش ہے یا نہیں—ہر سنجیدہ تعلق میں تنقید ناگزیر ہے—سوال یہ ہے کہ تنقید حساب کی بنیاد پر ہوگی یا افسانے کی بنیاد پر۔ CPEC پر اعتراض ہو تو ہونا چاہیے، مگر اس اعتراض کی میزان میں مکمل اعداد، مالیاتی شرائط، روزگار، توانائی، صنعتی پیداوار، برآمدات، مقامی قدر افزائی اور طویل المدتی قومی مفاد سب شامل ہونے چاہییں۔ کسی شراکت داری کو محض اس لیے تقدس کا جامہ پہنانا کہ وہ دوست ملک سے متعلق ہے، اتنا ہی غیر علمی رویہ ہے جتنا ہر چینی منصوبے کو ازخود قومی نقصان قرار دینا۔
اگر ہم جذبات کے دھندلکے سے نکل کر تاریخ کے کاغذ پر نگاہ ڈالیں تو CPEC کا پہلا مرحلہ ایک مختلف تصویر دکھاتا ہے۔ پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق فیز اول کے 17 بڑے توانائی منصوبوں میں تقریباً 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی اور ان سے 8,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی؛ اسی سرکاری ریکارڈ کے مطابق 888 کلومیٹر جدید شاہراہیں مکمل ہوئیں اور گوادر میں ہسپتال، تربیتی مرکز، ہوائی اڈہ، پانی صاف کرنے کا منصوبہ اور شمسی سہولیات جیسے منصوبے بھی قائم کیے گئے۔ یہ اعداد کسی جذباتی تقریر کے نہیں، ایک سرکاری ادارے کے بیان کردہ نتائج ہیں؛ البتہ ان کا مطلب یہ بھی نہیں کہ CPEC کے ہر منصوبے کو معاشی طور پر کامیاب، ہر معاہدے کو مثالی اور ہر انتظامی فیصلے کو بے عیب قرار دے دیا جائے۔ یہی وہ باریک خط ہے جسے سنجیدہ تجزیہ کار کو نمایاں رکھنا چاہیے۔ توانائی کے بحران میں اضافہ شدہ پیداواری صلاحیت ایک اہم کامیابی تھی، لیکن اس کے ساتھ ٹیرف، قرض، صلاحیت کی ادائیگی، ایندھن کی درآمد، گردشی قرضے اور منصوبوں کی طویل المدتی مالی پائیداری جیسے سوالات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ گوادر بھی محض ایک بندرگاہ کا نام نہیں؛ اسے علاقائی رابطے کے مرکز میں تبدیل کرنے کا تصور تبھی معاشی حقیقت بنے گا جب بندرگاہ، سڑک، ریل، صنعتی زون، مقامی معیشت اور برآمدی سرگرمی ایک ہی اقتصادی منطق میں مربوط ہوں۔ خود مئی 2026ء کے پاک چین مشترکہ اعلامیے میں گوادر کو علاقائی رابطے کا مرکز بنانے، خنجراب کے ذریعے زمینی رابطہ مضبوط کرنے اور CPEC 2.0 کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اب فرض کیجیے کہ اسی قدیم بازار میں ایک نیا معمار آتا ہے اور کہتا ہے: "پہلے مرحلے کی دیواریں دیکھ کر مطمئن نہ ہوجاؤ؛ اب اصل امتحان یہ ہے کہ ان دیواروں کے اندر کارخانے آباد ہوتے ہیں یا نہیں۔" یہی دراصل CPEC 2.0 کا بنیادی سوال ہے۔ اگر پہلا مرحلہ زیادہ تر توانائی اور رابطے کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل تھا تو اگلا مرحلہ صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، تجارت اور انسانی سرمائے کو پیداوار کی نئی زنجیروں میں جوڑنے کا مرحلہ ہونا چاہیے۔ دونوں ممالک کے مئی 2026ء کے مشترکہ اعلامیے میں صنعتی پارکوں، ٹیکسٹائل و گھریلو آلات سمیت صنعتی تعاون، معدنیات، تیل و گیس، زرعی پیداوار، مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تربیت جیسے شعبوں میں تعاون کو واضح طور پر آگے بڑھانے کا عزم کیا گیا ہے۔ یہاں سے ایک نہایت اہم حقیقت سامنے آتی ہے: CPEC کی کامیابی کا اگلا پیمانہ اب صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنی سڑکیں بنیں یا کتنے میگاواٹ پیدا ہوئے؛ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ان منصوبوں نے پاکستان کی اپنی صنعتی استعداد، برآمدی مسابقت، زرعی پیداوار، ٹیکنالوجی منتقلی، مقامی سپلائی چین اور انسانی مہارت کو کس حد تک بڑھایا۔ چین سے تعلق کا بہترین ثبوت چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی درآمد نہیں بلکہ پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی برآمد ہونی چاہیے؛ چینی سرمایہ کاری کا حقیقی ثمر صرف منصوبے کا افتتاح نہیں بلکہ مقامی صنعت کا مستقل ارتقا ہونا چاہیے۔ اسی طرح طلبہ، تربیت اور علمی تبادلے بھی محض اعداد نہیں؛ وہ اس وقت قومی سرمایہ بنتے ہیں جب علم پاکستان کے اداروں، صنعتوں اور جامعات میں قابلِ استعمال مہارت میں تبدیل ہو۔ سرکاری مشترکہ اعلامیے میں 2025-2029 کے دوران پاکستان کے لیے 3,000 تربیتی مواقع جاری رکھنے اور زرعی و تعلیمی تعاون بڑھانے کا ذکر بھی اسی وسیع تر انسانی سرمائے کی سمت اشارہ کرتا ہے۔
شام ڈھل چکی تھی۔ بازار میں قصہ گو اب بھی اپنی اپنی آواز بلند کیے ہوئے تھے، مگر بوڑھا محاسب خاموشی سے حساب کی کتاب بند کر رہا تھا۔ کسی نے پوچھا، "تو کیا تم کہتے ہو کہ ہر اعتراض جھوٹ ہے؟" اس نے سر اٹھایا اور کہا، "نہیں؛ میں کہتا ہوں کہ ہر اعتراض کو ثبوت کی عدالت میں حاضر ہونا چاہیے، اور ہر تعریف کو بھی۔" یہی شاید پاک چین شراکت داری کے موجودہ مرحلے کا سب سے ضروری سبق ہے۔ دوستی کو اندھی عقیدت کی ضرورت نہیں، بلکہ شفافیت کی ضرورت ہے؛ شراکت داری کو نعروں کی نہیں، قابلِ پیمائش نتائج کی ضرورت ہے؛ اور CPEC کو محض جغرافیائی راہداری نہیں بلکہ معاشی تبدیلی کی راہداری بننا ہوگا۔ 75 برس کی سفارتی رفاقت ایک قابلِ احترام تاریخی سرمایہ ہے، مگر تاریخ کبھی مستقبل کی ضمانت نہیں بنتی؛ مستقبل ہمیشہ موجودہ فیصلوں سے تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو نہ تو ہر تنقید کو دشمنی سمجھنا چاہیے اور نہ ہر الزام کو حقیقت۔ ہمیں معاہدوں کو پڑھنا ہوگا، اعداد کو جانچنا ہوگا، منصوبوں کی لاگت اور منافع کو پرکھنا ہوگا، مقامی صنعت کے حصے کو ناپنا ہوگا، روزگار کے معیار کو دیکھنا ہوگا اور یہ سوال مسلسل پوچھنا ہوگا کہ آخر اس شراکت داری سے پاکستان کی پیداواری قوت، برآمدی صلاحیت اور انسانی استعداد میں کتنا اضافہ ہوا۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو شوریدہ بیانیوں کی گرد خود بیٹھ جائے گی؛ اور جہاں کمزوری ہو وہاں اصلاح ہی حقیقی دوستی کا تقاضا ہوگی۔ کیونکہ مضبوط دوست وہ نہیں جو ہر خامی پر پردہ ڈال دے، بلکہ وہ ہے جو آئینہ سامنے رکھ دے۔ پاک چین تعلقات کا آئندہ باب بھی اسی اصول پر لکھا جانا چاہیے: نہ محبت کو اندھا پن بننے دیا جائے، نہ تنقید کو تعصب؛ نہ دوستی کو تقدس کی آڑ میں احتساب سے آزاد کیا جائے، نہ اختلاف کو دشمنی کا نام دیا جائے۔ حقیقت کی سب سے بڑی قوت یہی ہے کہ اسے کسی مصنوعی بیانیے کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
واپس کریں