دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شاباش پاکستان۔محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب فیصلے صرف حالات کا رخ ہی نہیں بدلتے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستے متعین کرتے ہیں۔ اپریل کی سات اور آٹھ تاریخ کی درمیانی شب بھی ایسا ہی ایک فیصلہ کن لمحہ تھا، جب دنیا ایک ممکنہ تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی اور عالمی امن شدید خطرے میں تھا۔ ایسے کڑے وقت میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک تاریخی کارنامہ ہے، ایسا کارنامہ جس پر ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جانا چاہیے۔یہ وہ گھڑی تھی جب دنیا کی نظریں بڑی طاقتوں پر جمی ہوئی تھیں، مگر حیرت انگیز طور پر ایک ذمہ دار، باشعور اور جرات مند ریاست کے طور پر پاکستان نے میدان سنبھال لیا۔ یہ صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے اپنی حکمت، تدبر اور بروقت فیصلوں سے ثابت کیا کہ اصل طاقت صرف اسلحہ نہیں بلکہ ذہانت، صبر اور بصیرت میں ہوتی ہے۔پاکستانی قیادت خصوصا وزیر اعظم شہباز شریف، وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس نازک موقع پر جس غیر معمولی سنجیدگی اور مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تقلید ہے۔ پس پردہ ہونے والی سفارتی کاوشیں، رابطوں کا جال، اعتماد سازی کے اقدامات اور بروقت پیغام رسانی، یہ سب وہ عناصر تھے جنہوں نے ممکنہ تباہی کے بادلوں کو چھانٹ کر امید کی روشنی کو جنم دیا۔ یہ ایک ایسی“خاموش فتح”تھی جس کی گونج پوری دنیا نے محسوس کی۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ایران کے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گلی کوچوں تک اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم تک پاکستان کے حق میں شکریہ اور شاباش پاکستان کے نعرے گونج رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکہ جیسی عالمی طاقت بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے اظہارِ تشکر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نے واقعی ایک مؤثر، متوازن اور نتیجہ خیز کردار ادا کیا ہے۔سب سے قابلِ فخر بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس صورتحال میں نہ تو جذباتی فیصلے کیے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آ کر اپنا راستہ بدلا۔ بلکہ ایک متوازن اور خودمختار پالیسی اپناتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین انداز میں استعمال کیا۔ امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پاکستان نے ایک مضبوط پل کا کردار ادا کیا۔ ایک ایسا پل جو تصادم کے دہانے پر کھڑی دنیا کو امن کی طرف لے جانے میں معاون ثابت ہوا۔
یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں بطور قوم اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم اپنی طاقت کو پہچانتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ ہمارا ملک صرف مسائل کا مجموعہ نہیں بلکہ امکانات کا خزانہ ہے؟ آج کا پاکستان یہ ثابت کر رہا ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو، نیت صاف ہو اور حکمت عملی درست ہو تو کوئی بھی چیلنج ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا۔ بدقسمتی سے کچھ عناصر نے اس اہم موقع پر بھی انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ کسی نے اسے مذہبی رنگ دیا، کسی نے اسے ذاتی، سیاسی اور نظریات کی جنگ بنا دیا، اور کچھ نے تو قومی مفاد کے خلاف بیانیے کو فروغ دینے میں بھی دیر نہ لگائی۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ایسے عناصر ہمیشہ وقتی شور تو پیدا کر لیتے ہیں، مگر قوموں کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔
پاکستان کی اس کامیابی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ ہم صرف ردِعمل دینے والی قوم نہیں بلکہ پیش بندی کرنے والی قوم بن چکے ہیں۔ ہم حالات کے پیچھے نہیں چلتے بلکہ حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو ایک عام ریاست کو غیر معمولی بناتی ہے۔سفارتکاری کی دنیا میں بعض اوقات ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جو بظاہر سادہ یا غیر معمولی لگتے ہیں، مگر درحقیقت وہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہوتے ہیں۔ پاکستان نے بھی عالمی سطح پر امن کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے ایسے ہی دانشمندانہ اقدامات کیے، جن کے مثبت اثرات آج سب کے سامنے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نہ صرف حالات کو سمجھتا ہے بلکہ انہیں اپنے حق میں استعمال کرنا بھی جانتا ہے۔
جب بڑی طاقتیں بھی بعض اوقات الجھن کا شکار ہو جائیں، وہاں پاکستان کا یہ کردار ایک روشن مثال ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی قیادت کے اس مثبت کردار کو تسلیم کریں، اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستانی قوم ایک زندہ، باوقار اور باشعور قوم ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔ یہ لمحہ صرف خوشی کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ذاتی، مسلکی، سیاسی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کریں گے۔آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ امن کا سفیر ہے، ذمہ داری کا علمبردار ہے اور عالمی برادری میں ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔یہ صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہے تدبر کا، اتحاد کا، اور ایک ایسے پاکستان کا جو ہر چیلنج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ پاکستان زندہ باد ہمیشہ پائندہ باد!
واپس کریں