دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سہیل احمد پر گستاخی کا الزام یا پروپیگنڈا؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
پاکستان میں توہین مذہب و توہین مقدسات قوانین ایک نہایت حساس، پیچیدہ اور جذباتی نوعیت کا مسئلہ ہیں، جو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ ایک طرف یہ قوانین اہلِ ایمان کے نزدیک دین اور مقدسات کے تحفظ کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں، تو دوسری طرف ان کے اطلاق اور ممکنہ غلط استعمال پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ یہی دوہرا زاویہ نظر اس بحث کو مزید گہرا اور اہم بنا دیتا ہے۔ اسلام میں مقدسات، بالخصوص انبیاء کرام، اہلِ بیت اور صحابہ کرام کی عزت و حرمت بنیادی عقائد میں شامل ہے۔ بطور اک ادنیٰ سے مسلمان اور سیاست و قانون کے طالب علم میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایسے قوانین کا وجود، مذہب اور مقدسات کے خلاف گستاخی روکنے کے لئے ایک فطری اور ضروری امر ہے۔ اگر یہ قانونی بندوبست نہ ہو تو آزادی اظہاررائے کے نام پر ایسی حرکات کو فروغ مل سکتا ہے جو معاشرتی انتشار اور مذہبی اشتعال کا باعث بنیں۔
تاہم مسئلے کا دوسرا پہلو زیادہ تشویشناک ہے، اور وہ ہے ان قوانین کا مبینہ غلط یا بے جا استعمال۔ حالیہ برسوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں توہین مذہب کے الزامات کی بنیاد پر افراد کو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بعض مواقع پر ہجوم کے تشدد کا نشانہ بھی بننا پڑا۔ یہ صورت حال قانون کی بالادستی اور انصاف کے تقاضوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت بعض مقدمات نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا ہے کہ بعض اوقات یہ قوانین ذاتی دشمنی، غلط فہمی، کسی خاص مقصد یا سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے نتیجے میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ جب کسی شخص پر محض الزام کی بنیاد پر معاشرتی دباؤ بڑھ جائے اور انصاف کے تقاضے پس پشت چلے جائیں تو یہ نہ صرف قانون بلکہ دین کے بنیادی اصول عدل کے بھی منافی ہے۔
اسی تناظر میں حالیہ واقعہ، جس میں پاکستان کے بین الاقوامی شہرت کے حامل معروف فنکار سہیل احمد کو ایک تقریر کے دوران تاریخی و مذہبی حوالہ دینے پر تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا، ایک اہم مثال ہے۔ اگر کسی بیان کو اس کے مکمل سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جائے اور اس کی من مانی تشریح کی جائے تو یہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ کسی بھی فرد کے بیان کا جائزہ لیتے وقت ضروری ہے کہ اس کی نیت، مکمل گفتگو اور اصل پیغام کو مدنظر رکھا جائے، نہ کہ چند الفاظ کو بنیاد بنا کر فیصلہ صادر کر دیا جائے۔ یاد رہے اک مخصوص سیاسی جماعت اور ان کے حمایتی صحافیوں اور یوٹیوبرز نے سہیل احمد کے آدھے بیان کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فورمز کی زینت بنا کر اداکار کے خلاف خوب بھڑاس نکالی اور گستاخی کے الزامات عائد کئے۔ حالانکہ موصوف نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے درمیان تقابلی جائزہ پیش کیا اور اگلے بیان میں کہا کہ ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے میں شامل ہونا ہے یا پھر یزید کے قافلے میں؟ اہل عقل و دانش سے رہنمائی مطلوب ہے، بتائیں کہ سہیل احمد کے مکمل ویڈیو کلپ میں موجود مواد سے توہین اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کیسے ثابت ہوتی ہے؟ اور کیا پروپیگنڈا پھیلانے والوں کی جانب سے آدھے اور غیر مکمل بیان کی بنیاد پر اداکار سہیل احمد پر توہین اہل بیت کا مقدمہ درج ہونا چاہیے؟
افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ بغیر تحقیق کئے پروپیگنڈا کا حصہ بننے میں ذرا برابر بھی دیر نہیں لگاتا۔ معاشرے کے اس رویے سے یہ اندیشہ ہے کہ مستقبل میں قرآن و حدیث میں درج مقدسات کے واقعات اور قصائص کو بیان کرتے ہوئے بھی بہت احتیاط کی جائے یا بتایا ہی نہ جائے ورنہ آپ پر بھی توہین کا الزام لگا کر اگلے جہاں پہنچانے کا بخوبی اہتمام کردیا جائے گا۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہر متنازع یا حساس بیان کو توہین کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے؟ اور کیا محض عوامی ردعمل یا سوشل میڈیا مہم کی بنیاد پر کسی کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے؟ ایک مہذب اور قانون پسند معاشرے میں اس کا جواب نفی میں ہونا چاہیے۔ قانون کا اطلاق شواہد، نیت اور واضح قانونی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ جذباتی ردعمل یا عوامی دباؤ کے تحت۔ اسلامی تعلیمات بھی ہمیں احتیاط، تحقیق اور عدل کا درس دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں واضح ہدایت موجود ہے کہ کسی خبر پر بغیر تحقیق کے یقین نہ کیا جائے اور کسی کے خلاف قانونی اقدام کرنے سے پہلے مکمل حقائق معلوم کیے جائیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات اور اشتعال انگیز بیانات کو پھیلانے کی بجائے ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح علماء کرام کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو مسجد کے منبر سے عوام کی رہنمائی فرمائیں اور سورۃ الحجرات کی آیت جس میں فاسق کی خبر کی تصدیق کرنے کا حکم ملتا ہے، اس آیت کے ذریعہ عوام کی رہنمائی فرمائیں اور یہ شعور پیدا کریں کہ ہر خبر یا الزام کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
واپس کریں