محمد ریاض ایڈووکیٹ
زمانہ قدیم سے سفید پرچم امن، جنگ بندی اور مفاہمت کی علامت کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ جب میدانِ جنگ میں خونریزی کو وقتی طور پر روکنا مقصود ہوتا، زخمیوں کو سنبھالنا یا مذاکرات کی راہ ہموار کرنی ہوتی تو سفید عَلَم لہرا کر فی الوقتی امن کو ایک موقع دیا جاتا تھا۔ مگر آج کے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں امن کی علامتیں بھی نئی صورت اختیار کر رہی ہیں اور انہی میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم ایک مضبوط اور باوقار علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ حالیہ ایران۔امریکہ کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی نازک صورتحال، آبنائے ہرمز کی غیر معمولی اہمیت اور عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا جہاں ایک معمولی غلطی بھی تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی تھی۔ ایسے حساس موقع پر پاکستان نے جس بردباری، حکمت اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک مثال بھی بن چکا ہے۔
پاکستان نے پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اعلیٰ سطحی رابطے، خفیہ و علانیہ سفارتی پیغامات اور علاقائی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جہاں تصادم کی بجائے مکالمے کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان نے نہ صرف اپنے تعلقات کو متوازن رکھا بلکہ ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو قریب لانے کی سنجیدہ کوششیں جاری رکھیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کامیابی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی۔ پاکستانی پرچم کے سائے تلے متعدد مال بردار بحری جہازوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور غیر جانبدار ملک کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی کارنامہ ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار کو مزید بلند کیا۔ اس کامیابی کا اعتراف عالمی سطح پر بھی سامنے آیا۔ جب وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم“ایکس”پر پاکستانی پرچم کے تحت جہازوں کو گزرنے کی اجازت ملنے کا پیغام جاری کیا تو اسے غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔ حیران کن طور پر امریکی صدر نے خود اس پیغام کو ری پوسٹ کر کے نہ صرف اس کی تصدیق کی بلکہ بالواسطہ طور پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔ یاد رہے اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کے امن مذاکرات سے متعلق پیغام کو بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ری پوسٹ کیا جانا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ عالمی قیادت پاکستان کے سفارتی مؤقف اور کردار کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔اسی طرح ایرانی حکام کی جانب سے بھی متعدد مواقعوں پر پاکستانی کردار کو سراہا جاتا رہا ہے۔
یہ واقعات محض سوشل میڈیا ئی سرگرمیاں نہیں بلکہ جدید سفارتکاری کی ایک جھلک ہیں، جہاں ایک پیغام، ایک بیان یا ایک ری پوسٹ بھی عالمی بیانیے کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان نے اس میدان میں بھی اپنی موجودگی مؤثر انداز میں منوائی ہے۔تاہم، جہاں دنیا پاکستان کی ان کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے، ہمارے ازلی دشمن بھارت میں پاکستانی سفارتی کامیابیوں پر صف ماتم بچھی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف ملک کے اندر کچھ مخصوص انتشار پسند گروہ ایسے بھی ہیں جو ہر مثبت پیش رفت کو مشکوک بنانے، ہر کامیابی کو متنازع بنانے اور بداعتمادی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔ یہ عناصر نہ صرف حقیقت سے چشم پوشی کرتے ہیں بلکہ دانستہ طور پر منفی پراپیگنڈا کر کے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ہر قومی کامیابی پر سیخ پا ہو جاتے ہیں، دشمن کے بیانیے کو دہراتے ہیں اور اپنی ہی ریاست کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ ان کی سوچ میں نہ وسعت ہے، نہ بصیرت صرف نفرت، تعصب اور انتشار۔ مگر اب قوم باشعور ہو چکی ہے اور ایسے عناصر کے عزائم کو بخوبی پہچان چکی ہے۔پاکستان نے جس دانشمندی اور تدبر کے ساتھ ایک ممکنہ عالمی تصادم کو کم کرنے میں کردار ادا کیا، وہ ایک تاریخی حقیقت بن چکا ہے۔ یہ کردار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ امن کا داعی ہے، تصادم کا نہیں۔ مفاہمت کا علمبردار ہے، محاذ آرائی کا نہیں۔
الحمدللہ رب العالمین۔پاکستان آج عالمی افق پر اپنی متوازن، مدبرانہ اور مؤثر سفارتکاری کے باعث ایک باوقار مقام حاصل کر رہا ہے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ محض بلند و بانگ تقاریر اور کھوکھلے بیانات دینا آسان ہوتا ہے، مگر حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حکمت، بصیرت اور دوراندیشی کے ساتھ سفارتی محاذ پر کامیابی حاصل کرنا ایک نہایت کٹھن اور صبر آزما مرحلہ ہے۔ پاکستان نے اپنی سنجیدہ اور اصولی خارجہ پالیسی کے ذریعے نہ صرف عالمی برادری میں اپنا تشخص مضبوط کیا ہے بلکہ اپنے مخالفین کے بے بنیاد پراپیگنڈے کو بھی مؤثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن عناصر اور اندرونی انتشار پھیلانے والے حلقے آج بوکھلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں، جبکہ پاکستان عزت، وقار اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
واپس کریں