دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
نمک حرام ذہنیت
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
نمک حرام ذہنیت، ایک ایسی خطرناک سوچ جو اس مٹی میں جنم لے کر اسی مٹی کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا رویہ جو پاکستان کی ہر کامیابی پر کڑھتا ہے، ہر پیش رفت پر انگلی اٹھاتا ہے، اور ہر بحران پر خوشی کے شادیانے بجاتا ہے۔ یہ وہی“نمک حرام ذہنیت”ہے جو آج ہمارے معاشرے میں خاموشی سے نہیں بلکہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ پنپ رہی ہے۔ چہرے بدلتی ہے، زبان بدلتی ہے، مگر نیت ایک ہی رکھتی ہے یعنی پاکستان کو ہر صورت میں کمزور دیکھنا۔
یہ ذہنیت کسی ایک طبقے یا گروہ تک محدود نہیں۔ یہ مذہب، مسلک، سیاست اور جغرافیہ سب سے بالاتر ہو کر صرف موقع پرستی کی بنیاد پر اپنا چہرہ بدلتی ہے۔ جب بریلوی مکتب فکر اور ریاست کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہو تو یہی لوگ بریلوی بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ افغانستان کا معاملہ ہو اور دیوبندی فکر زیر بحث آئے تو یہ فوراً اسی رنگ میں ڈھل جاتے ہیں، اور افغان طالبان کے ترجمان بننے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایران کا ذکر ہو تو یہ شیعہ جذبات کے سب سے بڑے علمبردار بن جاتے ہیں، گویا پاکستانی شناخت ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آئے تو یہی عناصر وہابی فکر کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں اور سعودی بیانیے کو تقویت دینے لگتے ہیں۔ یہ تضاد نہیں، بلکہ ایک خطرناک تسلسل ہے۔ ہر اس فریق کے ساتھ کھڑے ہونا جو کسی نہ کسی زاویے سے پاکستان کے مقابل ہو۔
اور جب معاملہ غیر مسلم دنیا کا ہو، امریکہ، یورپ یا اسرائیل تو یہ ذہنیت تمام حدیں پار کر جاتی ہے۔ وہی لوگ جو دن رات حب الوطنی کے دعوے کرتے ہیں، اچانک عالمی طاقتوں کے غیر اعلانیہ ترجمان بن جاتے ہیں۔ ان کے دلائل، ان کی زبان، ان کا بیانیہ سب کچھ پاکستان کے خلاف اور باہر کی قوتوں کے حق میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ وفاداری آخر کس کے لیے ہے؟ گزشتہ برسوں میں ایسے کئی مواقع آئے جب اس نمک حرام ذہنیت نے اپنا اصل چہرہ دکھایا۔ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران یہ عناصر بھارتی مؤقف کو تقویت دیتے نظر آئے۔ افغانستان کے معاملے پر، جہاں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دیں، وہاں بھی یہی لوگ ریاستی اقدامات کے خلاف اور افغان بیانیے کے حق میں کھڑے دکھائی دیے۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ عناصر جو خود کو ملحد یا غیر مذہبی قرار دیتے ہیں اور ماضی میں طالبان کے سخت مخالف رہے، وہ بھی صرف پاکستان کی مخالفت میں طالبان کے حق میں دلائل دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی اصول، نظریہ، سچ سب کچھ قربان، بس ایک مقصد کہ صرف پاکستان کو غلط ثابت کرنا۔ جب پاکستان دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے اور بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے ہیں تو یہی گروہ ریاست کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ اور جب ریاست ان دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو یہی لوگ انسانی حقوق کے نام پر چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ہر صورت میں پاکستان ہی قصوروار ہے یہی ان کا مستقل بیانیہ ہے۔
سوشل میڈیا نے اس ذہنیت کو ایک خطرناک ہتھیار فراہم کر دیا ہے۔ اب یہ عناصر وی لاگز، ٹویٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی پاکستان کے خلاف منفی تاثر پھیلا رہے ہیں۔ بعض تو اس حد تک گر چکے ہیں کہ غیر ملکی حکومتوں اور اداروں کو براہ راست یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان پر اعتبار نہ کیا جائے۔ یہ صرف رائے نہیں، یہ ایک منظم فکری یلغار ہے۔ یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اختلاف رائے اور دشمنی میں واضح فرق ہوتا ہے۔ اختلاف ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے، مگر جب اختلاف نفرت میں بدل جائے، جب تنقید تخریب بن جائے، اور جب زبان دشمن کے بیانیے کی ترجمان بن جائے، تو یہ آزادی اظہار نہیں بلکہ فکری غداری بن جاتی ہے۔
حب الوطنی کا مطلب اندھی تقلید ہرگز نہیں۔ ایک باشعور شہری ریاست کی پالیسیوں پر تنقید ضرور کرتا ہے، مگر اس کا مقصد اصلاح ہوتا ہے، نہ کہ ریاست کو بدنام کرنا۔ نمک حرام ذہنیت اس باریک فرق کو جان بوجھ کر مٹاتی ہے، کیونکہ اس کا مقصد بہتری نہیں بلکہ بگاڑ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ذہنیت کو کھل کر پہچانا جائے اور اس کا فکری محاسبہ کیا جائے۔ یہ جنگ بندوقوں کی نہیں بلکہ بیانیے کی جنگ ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اختلاف کرو، مگر اپنی جڑوں کو مت کاٹو۔ تنقید کرو، مگر اپنے ہی گھر کو آگ نہ لگاؤ۔
تعلیمی اداروں، میڈیا اور دانشوروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک متوازن، باشعور اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قومی یکجہتی صرف نعروں سے نہیں بلکہ رویوں سے پیدا ہوتی ہے۔ قومیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے اندر سے وفاداری ختم ہو جائے۔ اور یہ نمک حرام ذہنیت اسی زہر کو پھیلا رہی ہے، خاموشی سے نہیں بلکہ پوری شدت کے ساتھ۔ پاکستان ایک حقیقت ہے، ایک نظریہ ہے، ایک قربانی ہے۔ اس کی بقا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔ ہم اس مٹی کے وفادار بنیں گے یا ان لوگوں کے ہمنوا جو ہر حال میں اس کی بنیادیں ہلانا چاہتے ہیں۔
واپس کریں