
(پشاور) خالد خان
جس طرح دنیا میں جڑواں بچے عام ہیں، اسی طرح شہروں کی کہانی بھی ہے۔ کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد کی مثال لیجئے جنہیں جڑواں شہر کہا جاتا ہے اور جو جڑے ہوئے بھی ہیں۔ ایک اور کمال ملاحظہ کیجئے کہ جس طرح یہ ضروری نہیں کہ جڑواں بچوں کی شکلیں اور عادتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں، اسی طرح جڑواں ہونے کے باوجود بھی راولپنڈی اسلام آباد مختلف المزاج شہر ہیں۔ یہ تو خوامخواہ فلموں میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک بھائی کو اگر پاکستان میں کمر درد اٹھتا ہے تو دوسرے جڑواں بھائی کو یورپ میں بھی وہی شکایت اسی وقت پیدا ہوگی۔ ہمارا شہر پشاور بھی اگرچہ جڑواں نہیں ہے لیکن پھر بھی راولپنڈی اسلام آباد سے بعض چیزوں میں مماثلت رکھتا ہے۔ اسلام آباد میں سوروں کی بھرمار ہے مگر مجال ہے کہ راولپنڈی میں کوئی ایک سور بھی ہو۔ دونوں شہروں میں ایک تضاد بھی ہے۔ اسلام آباد میں سور ہی سور ہیں جبکہ راولپنڈی میں سوروں کے شکاری۔ ایک زمانہ تھا کہ جس طرح اسلام آباد میں سوروں کی بھرمار ہوتی تھی، ایسے ہی پشاور میں گوریاں برستی تھیں۔ بانت بانت کی یورپی حسینائیں جوق در جوق سیر سپاٹے کے لیے آتی تھیں۔ ادھر اسلام آباد میں سور بڑھ گئے اور ادھر ہمارے ہاں دہشت گرد جتھے در جتھے پیدا ہوئے۔ آج جس طرح کوئی شریف آدمی اسلام آباد نہیں جاسکتا اسی طرح گوریوں نے بھی پشاور سے ناطہ توڑ دیا۔ راولپنڈی کے شکاری البتہ مزے میں ہیں۔ اسلام آباد میں سوروں کے شکار میں مشغول ہیں اور ہمارے ہاں دہشت گردوں کا ہانکا کرنے میں مصروف ہیں۔ میں تب بھی نقصان میں تھا اور میں اب بھی گھاٹے میں ہوں۔ جب شکاریوں سے دوستی کا زمانہ تھا تو ہم نے خوامخواہ انہیں دشمن سمجھا۔ اور آج پہچان گئے تو تعلق خاطر کی سکت نہیں بچی ہے۔ یہی معاملہ ہمارے ساتھ گوریوں کے عشق میں بھی ہوا تھا۔ جب عاشقی کا زمانہ تھا تب ہمیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ اور جب انگریزی سیکھی تو اب جوانی نہیں رہی ہے۔ سنا ہے یورپ میں نہ ہی دیواروں پر مردانہ کمزوری کے اشتہار لکھے ہوتے ہیں اور نہ وہاں کوئی کشتہ بنانے والے حکماء پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ رات آدھی شب میری آنکھ کھلی۔ نیند اور خواب سے نہیں بلکہ غفلت سے۔ میں نے سوچا اے بندہ خدا تمہاری تو کوئی مردانہ کمزوری ہے ہی نہیں۔ تمہیں تو زنانہ کمزوری لاحق ہے۔ ایک جاننے والی گوری کو اسی وقت ٹیلی فون کھڑکایا اور براہ راست رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کی دعوت دی۔ اس نے کہا ضرور لیکن مجھے ایک بات کا جواب دو۔ تمہیں زوروں کی بھوک لگی ہے۔ اور مسلسل التجا کر رہے ہو کہ مجھے سوکھی روٹی دو کچھ تو اندر جائے پیٹ میں۔ اور میں تمہیں بتا دوں دیکھو یہ مٹن کڑاہی چولہے پر چڑھائی ہوئی ہے تھوڑا صبر کرو۔ ادھر مٹن کڑاہی پکتی ہے اور ادھر میں تمہارا ایک ایک دانت نکال رہی ہوں۔ آخری دانت نکالتے ہی خوشبودار ذائقہ دار مٹن کڑاہی اور گرم نان تمہارے سامنے رکھ کر کہوں بسم اللہ کھانا تناول فرمائیے تو تمہارا ردعمل کیا ہوگا؟ بولی جا میرے خالد خانہ اب تمہارے مسجد کے کسی کونے میں بیٹھنے کی عمر ہے۔ اور ہاں خبردار راولپنڈی اسلام آباد کبھی مت جانا۔ اسلام آباد میں سوروں کا شکار ہوجاؤ گے اور راولپنڈی میں شکاریوں کا۔
واپس کریں